این ایچ اے کی وجہ سےگھر کا چولہا بُجھ گیا، متاثرہ خاندان کی حکومتِ سےاپیل

جب سانحہ عطا آباد کے نتیجے میں بننے والی جھیل کی وجہ سے تمام املاک ڈوب گئے تو باقی بچ جانے والی زمینوں کو عارضی روڈ بنانے کے نام پر نیست و نابود کر دیا گیا۔ پھر نیا کے کے ایچ بنا کر باغات میں موجود درختوں کو اُکھاڑ پھینک دیا گیا، جبکہ قابلِ کاشت زمینوں کے اُوپر ملبہ ڈال کر نیا روڈ بنایا گیا۔ اسی طرح ہماری ملکیتی جنگل کو بلڈوذر لگا کر تباہ کر دیا گیا۔ جسکی وجہ سے بہت سارے مسائل درپیش آرہے ہیں، اور معمولاتِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں- این ایچ اے کی وجہ سے ہمیں گندم کی قلت، لکڑی کا نہ ملنا اور میوہ جات کے ناپید ہونے جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

اب حالت یہ ہے کہ قرض لے کر آٹا ، آلو ، لکڑ اور ضرورت کی دیگر اشیاء خریدنا پڑرہا ہے۔ یہ سب اجناس ہم پہلے اپنی زمینوں سے ہی حاصل کرتے تھے، جو این ایچ اے کی وجہ سے برباد ہو گئے ہیں۔

اگر دو ملکوں کے درمیان تجارت اور سی پیک کے نام پر غریبوں کو مزید غریبی میں دھکیلنا تھا اور این ایچ اے اورحکومت کے پاس زمینوں اور دیگر جائیداد کے عوض معاوضے کیلئے پیسہ نہیں تھا تو بہتر تھا کہ کے کے ایچ کو مرمت ہی نہ کرتے۔

حکومتِ وقت سے گزارش ہے کہ زمینوں کا معاوضہ جلد از جلد ادا کیا جائے، ہمیں درختوں کا معاوضہ دیا جائے اور جلانے کے لئے لکڑی بھی مہیا کی جائے، تاکہ اِ ن مسائل سے چھٹکارہ حاصل ہوسکےاور ہم ایک بار پھر باوقار انداز میں زندگی گزارنے کے قابل بن سکیں۔

اگر معاوضے کی ادائیگی نہیں ہوسکتی ہے تو ہماری زمینوں پر سے ملبہ ہٹا کر انہیں دوبارہ قابلِ کاشت بنایا جائے، اور سڑک کسی اور طرف سے تعمیر کیا جائے۔

اپیل از: بیوہ و پسران
محمد عبدل،گلمت گوجال

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments