ضلع کوہستان کے شہر کمیلہ میں ٹیکسی سٹینڈ کا مسلہ ہو گیا، ٹریفک کا نظام بہتر ہونے کی امید

کوہستان(نامہ نگار) کمیلہ شہرکے گاڑیوں کیلئے ٹیکسی سٹینڈ کا دیرینہ مسلہ حل ہوگیا،کئی عشروں سے شاہراہ قراقرم کے مغربی کنارے کو سٹینڈ کے طورپہ استعمال کرنے والی ٹیکسی گاڑیاں اب اپنے سٹینڈ سے آمدورفت کریں گی، بڑھتی ہوئی ٹریفک جام ، راہگیروں اور شہریوں کی پریشانی ختم ہوگی ۔ ڈپٹی کمشنر کوہستان کی بات چیت۔

تفصیلات کے مطابق ضلع کوہستان کی سب سے بڑی آبادی والا شہر کمیلہ جو قریباً ڈیڑھ کلومیٹر طویل ہے جسے برسوں سے ٹیکسی سٹینڈ کا مسلہ درپیش تھا ، شہر کے وسط سے گزرنے والی بین الاقوامی شاہراہ قراقرم کے مغربی کنارے کو سٹینڈ کے طورپر استعمال کرنے والی ٹیکسی گاڑیوں کیلئے اب مستقل طورپر شہر کے بالائی کنارے ٹیکسی سٹینڈ کا بندوبست کردیا گیاہے ۔ضلعی انتظامیہ نے مالک زمین کے ساتھ دو سالہ معاہدہ طے کرکے ٹیکسی گاڑیوں کو سٹینڈ الاٹ کردیاہے جس سے شہر میں بے ہنگم ٹریفک جام کا مسلہ حل ہوگا۔علاوہ ازیں شاہراہ قراقرم کے کنارے سے گاڑیوں کے سٹیند منتقل ہوجانے سے شہریوں اور راہگیروں کی آمدورفت میں بھی آسانی ہوگی۔ شہریوں نے ضلعی انتظامیہ کے اس قدام کو سراہاہے ۔گزشتہ روز نو تعینات ڈپٹی کمشنر کوہستان تاشفین حیدر نے اس مسلئے کا نوٹس لیتے ہوئے کمیلہ شہر کا دورہ کیا۔ اس دوران اُن کے ہمراہ کمانڈنٹ ایف سی ارشاد عالم، اے سی داسو محمد آیاز خان، تاجربرادری کے صدر احسان الحق،سماجی کارکن مولانا ولی اللہ توحیدی ،صحافی وسماجی کارکن شمس الرحمن شمسؔ اور ٹریفک ورڈن فضل الرحیم بھی تھے۔اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ ٹیکسی سٹینڈ کے بندوبست سے شہریوں کی مشکلات کم ہوگی اور بے ہنگم ٹریفک جام کا خاتمہ ہوگا۔انہوں نے ٹریفک حکام کو ہدایت کی کہ وہ شہرمیں ٹرانسپورٹ کی درست سمت میں روانی کیلئے اپنے فرض بہ احسن نبھائیں ،عوامی فلاح و بہبود کے اقدامات میں کوتاہی برداشت نہیں کی جاسکتی ۔واضح رہے کہ قیام کوہستان کے بعد کمیلہ شہر میں ٹیکسی سٹینڈموجود نہیں تھااوٹرانسپورٹرز کا دیرینہ مطالبہ تھا کہ انہیں ٹیکسی سٹینڈ فراہم کیا جائے یہ مطالبہ ضلعی انتظامیہ نے پورا کردیا۔ اے سی داسو محمد آیاز نے گزشتہ روز بھی اس حوالے سے اپنے پیغام میں ٹرانسپورٹرزکو یقین دلایا تھا کہ وہ سٹینڈ کے بندوبست میں نیک نیتی سے کام کررہے ہیں اور ضلعی انتظامیہ کو اس مسلئے کا ادراک ہے جس پر آج عملدرآمدہوگیا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments