سکردو : خاتون کوہ پیماء اور سائیکلسٹ ثمر خان نے 6250 میٹرسے زائد اونچی چوٹی برگن چوٹی سر کر لیا

سکردو : خاتون کوہ پیماء اور سائیکلسٹ ثمر خان نے 6250 میٹرسے زائد اونچی چوٹی برگن چوٹی سر کر لیا

17 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

سکردو (چیف رپورٹر) تاریخ رقم ہو گئی ، وطن عزیز سے تعلق رکھنے والے نوجوان کوہ پیماء اور سائیکلسٹ ثمر خان نے 6250 سے زائد اونچی چوٹی برگن چوٹی سر کر لیا ، ان کی ٹیم کے ہمراہ چیئرمین علی احمد خان اور تقی سرور شگری بھی شامل تھے تینوں کوہ پیماوں نے قلیل عرصے میں چھے ہزار میڑسے اونچی پہاڑی سر کرنے کا آغاز حاصل کر لیا ، 25سالہ نوجوان خاتوں مہم جوئی کے لیے 14مئی کو سکردو پہنچی اور 17مئی کو مہم جوئی کے لیے بھاشہ ارندو پہنچ گئی جہاں سے چار رکنی ٹیم بلند چوٹی کو سر کرنے کے لیے بیس کیمپ کی طرف روانہ ہوئی ، تاہم راستے میں لینڈ سلائیڈینگ اور راستے کی خرابی کے باعث ان کی ٹیم کا ایک ممبر واپس بیس کمپ آ گیا جبکہ باقی تین ممبر جن میں ثمر خان ، چیئرمین علی احمد جان ، اور تقی سرور شامل تھے ،تینوں نے مشکل حالات میں 6سے اونچی پہاڑی چوٹی سر کر لی ، ،واضح رہے کہ ثمرخان کوہ پیمائی کے ساتھ ساتھ سائیکلنگ بھی کرتی ہیں اور وہ کئی بار سائیکل پر اسلام آباد سے جنجراب اور سکردو تک کا سفر کر چکی ہیں جبکہ ثمر خان ارندو کے پہاڑیوں میں بھی سائیکلینگ کر کے ریکارڈ قائم کر رکھا ہے ، ثمر خان نے سکردو میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سکردو اور گلگت بلتستان سیاحتی حوالے سے مالا مال خطہ ہے اگر یہاں سیاحت کے شعبے کی طرف توجہ دی جائے تو بہترین زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ یہاں ایڈونچر ٹورزم کے بے شمار مواقع موجود ہیں تاہم آگاہی نہ ہونے کے باعث لوگ اس شعبے کی طرف نہیں آ رہی ہے ، ایڈونچر ٹورزام کے حوالے سے آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ موسمی تبدیلی کے باعث راستے بری طرح خراب ہو چکے ہیں اور پہاڑوں پر برف کے پگھلاو کا عمل بھی کافی تیز ہو چکا ہے ، جس کے باعث انہیں مہم کے دوران مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ، تاہم ان کی ٹیم میں موجود علی احمد اور تقی سرور کی خصوصی محبت اور رہنمائی کی بدولت مہم جوئی کا عمل بہترین انداز سے اختیام پذیر ہو ا ، انہوں نے کہا کہ گلگت سکردرروڈ کی تعمیر وقت کی اہم ضرورت ہے ، گلگت سکردو روڈ پر سفر کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہیں اگثر سیاح اس روڈ کی خستہ حالی کے باعث یہاں سفر کرنے کے کتراتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ سکردو کے عوام پیار کرنے والے اور محبت کرنے والے ہیں یہاںآکر دلی سکون ملتا ہے اگلی بار ہو جب سکردو آئیں گے تو لازمی طور پر اپنے ساتھیوں کو بھی لیکر آئیں گی انہوں نے کہا کہ وہ مستقبل قریب میں مزید بلند چوٹیاں سر کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔