والدین سے دور شادیاں، ایک نیا ٹرینڈ

والدین سے دور شادیاں، ایک نیا ٹرینڈ

19 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

احسام اللّٰہ ہنزائی

ماشاءاللّٰہ سے آج کل ہمارے پاکستان کے مختلف شہروں سے، بالخصوص گلگت بلتستان سے بہت سارے نوجوان یورپ اور دوسرے ممالک کا رُخ کر رہیں ہیں جس کی بنیادی وجہ ایک تو یہ ہے کہ باہر کے ملک سے اچھی تعلیم حاصل کرنا اور دوسری وجہ یہ کہ اچھی نوکری تلاش کرنا۔ نوجوان اپنے وطن اور گھر بارچھوڑ کر یورپی​ ممالک کا رُخ کرتے ہیں۔ اس اثناء آہستہ آہستہ یہ نوجوان اپنے والدین اور عزیزوں سے اتنا دور ہوتے​ جاتے ہیں کہ والدین سے پیار، محبت اور خلوص اور خاص کر وقت کم ہوتا​ جاتا ہے اور عزیز و اقارب سے رشتے ختم ہونے لگتے ہیں۔

والدین کا یہ کہنا کی “اب ہماری اولاد کے​ پاس ہمارے لئے وقت نہیں ہے”, نفسیاتی طور پر ایک عجیب بات لگتی ہے۔

والدین اپنی​ اولاد کے​ ساتھ خوشیوں میں ہمیشہ شریک ہونے کی بڑی بے چینی سے انتظار کرتے ہے۔۔ جس میں سب سے بڑی خوشی کی بات اولاد کی شادی ہے جس کا والدین کو بڑی شدت سے انتظار رہتا ہے اور اپنی زندگی میں ہی شادی کرنے کی بڑی خواہش رکھتے ہیں۔

آج کل ایک عجیب ٹرینڈ عروج پر ہے کہ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان اپنی شادیاں اپنے گھروں، خاص طور پر اپنے والدین سے کئی میل دور یورپ میں کر رہے ہیں۔ یورپ کی تہذیب کا تو سب کو علم ہے کہ​ وہ اپنے والدین کو اولڈ ہاؤسز میں چھوڑ کر جوانی میں ہی والدین سے دور رہتے ہیں اور والدین کے بغیر زندگی گزارنا پسند کرتے ہیں۔

یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ​ تعلیم اور نوکری کے​ لئے مجبوراََ​ یورپ تو گئے، لیکن چند لوگوں کی موجودگی میں شادی بھی وہی کرنا اور سوشل میڈیا کے ذریعے صرف لائیو ویڈیو دکھا کر ماں باپ کا دل بہلانا، یہ سمجھ نہیں آتا۔

ایک پریشان کن بات یہ ہے کہ وہ نوجوان جو اپنی شادی یورپ میں کر رہے ہیں، صرف اور صرف اپنی خواہشات و ضروریات​ کو پوری کرنے، دولت اور پیسہ کما کر صرف زندگی ​کو بہتر بنانے کی خاطر اپنے والدین کی چاہتوں کو اور بچپن سے دی ہوئی خوشیوں کو صرف چند سالوں میں کیسے بھول سکتے ہیں۔۔؟
کیسے ان کی خواہشات پر پانی پھیر سکتے ہیں۔۔۔۔؟

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم بھی اب یورپ کی تہذیب سے متاثر ہو کر اس کو اپناتے جا رہے ہیں جو ہمیں اپنوں سے دور کرتی جا رہی ہے، اور یہی رویہ اپناتے جائیں گے تو حقیقتاً​ یہ ہماری آنے والی نسلوں کے لئے نقصان اور گہری دکھ کا باعث بن سکتی ہے۔۔۔

یاد رکھیں، اپنے خاندان اور اپنے عزیزوں کے ساتھ ایک خوشحال زندگی گزارنا، والدین کو ہر حال میں خوش رکھنا اور ان کے​ بڑھاپے میں ان کا سہارا بننا ہی زندگی کا اصل مقصد ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔