گلگت: رمضان بازار میں تاجروں نے ضلعی انتطامیہ کی طرف سے جاری کردہ ریٹ لسٹ کو مسترد کرتے ہوئے احتجاجا اسٹالز بند ، آلو کے ریٹ میں 10روپے کی اضافہ کے بعد اسٹالز کھل گئے

گلگت( رپورٹر) ضلعی انتطامیہ کی جانب سے لگائے گئے رمضان بازار میں تاجروں نے احتجاج کرتے ہوئے اپنے اسٹال بند کیے۔ بدھ کے روز رمضان بازار کے تاجروں نے ضلعی انتطامیہ کی طرف سے جاری کردہ ریٹ لسٹ کو مسترد کرتے ہوئے احتجاجا اپنے اسٹال بند کیا۔ تاجروں کا کہنا تھا کہ ضلعی انتطامیہ نے جو ریٹ لسٹ جاری کیا ہے وہ منڈی ریٹ سے بھی کم ہے۔ منڈی میں آلو ایک بوری جس کا وزن 100کلو کا ہو نا چاہیے اور فی کلو 40روپے کا ملتا ہے  جبکہ ضلعی انتطامیہ نے رمضان سستا بازار میں آلو کا ریٹ 40روپے مقرر کیا ہے جس سے ہمیں کچھ فائدہ نہیں ہو تا۔ انہوں نے کہا کہ بوری آلو کی وزن بھی کم ہو تا ہے منڈی والے ہم سے 100کلو کا رقم وصول کرتے ہیں جبکہ بوری کا وزن 90کلو گرام ہو تا ہے۔ تاجروں کا مزید کہنا تھا کہ ضلعی انتطامیہ منڈی مالکان کے خلاف کاروائی کرنے کی بجائے ہمارے روزی کو بند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ منڈی والے باہر اپنے ریڑھی والوں کو سستے ریٹ پر پھل اور سبزیاں فراہم کرتے ہیں اس لئے باہر ریڑھی والے یہی ریٹ پر سبزیاں دسیتاب ہیں۔ تاجروں کی طرف سے احتجاج کرنے پر اسسٹنٹ کمشنر گلگت موقع پر پہنچ گیا اور تاجروں کے مسائل سن کر آلو کے ریٹ میں 10روپے کی اضافہ کردیا ۔ جس پر تاجروں نے دوبارہ رمضان سستا بازار میں اپنے اسٹالز کھول دیا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments