بجلی کے ستائے ہنزہ کے خواتین اور مرد شاہراہ قراقرم پر نکل آئے

بجلی کے ستائے ہنزہ کے خواتین اور مرد شاہراہ قراقرم پر نکل آئے

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہنزہ ( اجلال حسین ) بجلی کے ستائے ہنزہ کے خواتین اور مرد پاکستان پیپلزپارٹی ہنزہ کے کال پر شاہراہ قراقرم پر نکل آئے۔ خواتین اور مردوں نے کالج چوک علی آباد میں تین گھنٹے سے زائد دھرنا دیا۔ صوبائی حکومت ، گورنر، و زیر اعلیٰ اور علاقے کے منتخب نمائندے کے خلاف شدید نعرہ باری، ا سسٹنٹ کمشنر ہنزہ شہریار آحمد ا ور ایگزیکٹو انجینئر محکمہ برقیات شیر عباس نے آئندہ چوبیس گھنٹے کے اندر بجلی آن کرانے کی یقین دہانی پر دھرنے کو ختم کر دیا۔

اس موقع پر مظاہرین نے صوبائی حکومت اور محکمہ برقیات گلگت بلتستان کی عدم دلچسپی پر وزیر اعلیٰ ، گورنر اور علاقے کے منتخب نما ئندے کے خلاف شدید نعرہ باری کی گئی۔ احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے قائدین نے کہا کہ ہنزہ کے ساتھ صوبائی حکومت اور علاقے کے نمائندے سوتیلی ماں کا سلوک کررہی ہیں۔ ملکی و غیر ملکی سیاحوں کا مسکن وادی ہنزہ اس وقت مکمل اندھیرے میں ڈوب گیا ہے مگر ہمارے نما ئیندوں کو کوئی پروا نہیں۔ وہ عوام سے دور اسلام آباد میں بیٹھ کر مزے لینے میں مصروف ہیں ۔ انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ انتخابات کے دوران عوام کے ساتھ بڑے بڑے دعوے کرتے ہوئے الیکشن میں جیت گئے۔ کامیاب ہونے کے بعد عوام میں بیٹھنے کا گوارہ بھی نہیں کرتے ہیں ۔ بلکہ اپنی محلوں میں اسپیشل لائینیں لگا کر عوام کے حقوق پر ڈاکے ڈال رہے ہیں۔ پی پی پی ہنزہ کے قائدین نے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ اسوقت ہنزہ میں نہ صرف بجلی کی بدترین لوڈ شیدنگ کا سامنا کر رہے ہیں بلکہ علاقے میں پینے کے صاف پانی ، گندم ۔ہسپتالوں میں ادویات کے علاوہ دیگر بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں ۔

پاکستان پیپلز پارٹی ہنزہ کے کال پر دی جانے والی احتجاجی دھرنے میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کے علاوہ عوامی ورکرز پارٹی کے کارکنان بھی شریک ہوئے۔

دوسری جانب اسسٹنٹ کمشنر ہنزہ شہریار آحمد اور ایگزیکٹو انجینئر محکمہ برقیات شیر عباس نے احتجاج میں شریک عوام کو محکمہ برقیات کو درپیش مشکلات کو بیان کرتے ہوئےکہا کہ ہمیں احساس ہے کہ ہنزہ میں عوام بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا کر رہے ہیں مگر بد قسمتی سے تینوں جنریٹرز میں بیک وقت فنی خرابی آنے کی وجہ سے بجلی کی ترسیل بند ہو چکی ہے اور ہم انشاللہ کوشش کرینگے کہ آئندہ جوبیس گھنٹے کے اندر تھرمل جنریٹر اور نئی نصب شدہ 1.2میگاواٹ ہائیڈیل پاور مشین جو کہ چائینز انجیئنر کے معائینے کے بعدتھرمل اور ہائیڈیل مشینوں کو آن کرتے ہوئے بجلی بحال کرینگے جس کی یقین دہانی پر احتجاج کو ختم کرادیا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے جانب سے ہنزہ میں بڑھتی ہوئی بجلی کی بدترین لو دشیڈنگ اور دیگر اہم مسائل پراحتجاج کے اختتام پر قراداد بھی پیش کیا جس میں کہا گیا کہ ہنزہ میں 35سال قبل نصب شدہ مشینوں کی خرابی کے باعث بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ہونے پر عوام ہنزہ سراپا احتجاج ہے اور خراب مشینوں کی تبدیلی نہ کرنے میں محکمہ برقیات کی چشم پوشی اور علاقے کے منتخب نمائندے کی ناہلی قرار دیتے ہیں اور بھرپور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ قراداد میں مزید حکومت وقت اور ضلعی انتطامیہ سے مطالبہ کیا کہ بجلی کے اسپیشل لائینوں کا خاتمہ یقینی بناتے ہوئے ہنزہ کے عوام کو برابری کے بنیاد پر بجلی مہیا کی جائے۔ نیز ہنزہ میں دسیتاب بجلی کو سنٹر ہنزہ اور شناکی سمیت دو حصوں میں تقسیم کار کو یقینی بنایا جایا۔ قرارداد میں مزید کہا کہ حسن آباد نصب 1.2میگاواٹ مشین کو تبدیلی اور موجودہ تھرمل کے گھسے پیٹے جنریٹروں کو فی الفور تبدیل کرتے ہوئے متبادل مشینوں کا انتظام کرتے ہوئے بجلی کی ترسیل کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہنزہ میں زیر تعمیر بجلی منصوبے جو کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے دور اقتدار کے ہے جان بوجھ کر التوا میں رکھنا چاہتے ہیں ان منصوبے مسگر، مایون اور حسن آباد نالے میں بنانے والی 2میگاواٹ منصوبوں پر فنڈ فراہم کرتے ہوئے کام کی رفتار کو تیز کیا جائے۔اس کے علاوہ ہنزہ کے عوام کو پینے کے پانی ، گندم کی بحران اور ہسپتالوں میں ادویات کی کمی پر غم غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی بنیادی ضروریات زندگی فی الفور ان کو میہا کیا جائے بصورت دیگر حل نہ ہونے کی صورت میں پاکستان پیپلزپارٹی ہنزہ عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور ذیادتیوں کے خلاف ہماری آگلی احتجاج وزیر اعلیٰ ہاوس کی طرف ہوگی۔ احتجاجی دھرنے میں پاکستان پیپلزپارٹی ہنزہ کے صدر ایڈوکیٹ ظہور کریم، سابق صدر فدا کریم، سینئر نائب صدر اعجاز گلگتی، صداقت حسین، منظور حسین، اقبال ، پی ٹی آئی گلگت بلتستان کے رہنما کریم خواجہ ، عوامی ورکر پارٹی کے رہنما ظہور الہی اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔احتجاجی دھرنے کی وجہ سے شاہراہ قراقرم پر چلنے والی ہر قسم کی ٹریفک معطل رہی جس کی وجہ سے روزہ داروں، ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے علاوہ طلباء اور راہ گیروں کے لئے سخت مشکلات کا سامنا ہوا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔