کیا ’سچائیوں‘ سے جان چھڑانا ممکن ہے؟

کیا ’سچائیوں‘ سے جان چھڑانا ممکن ہے؟

23 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

قدسیہ کلثوم

چین کے ایک گاؤں میں پانی کی قلت تھی۔ زیر زمین پانی میٹھا نہ تھا۔ کئی جگہوں پر کنواں کھودا گیا مگر پانی میٹھا نہ ملا۔ آخر ایک جگہ کامیابی ہوئی۔ گاؤں کے سر پنچ نے خوشی میں کہا:’’ میٹھے پانی کی فراوانی ہوگئی ہے۔ سب کو سُکھ ہے۔ لگتا ہے جیسے یہ کنواں نہیں، ہمارا کوئی بہت عزیز رشتے دار ہے، جو کسی پردیس سے واپس چلا آیا اور اب ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گا۔۔۔‘‘کچھ دنوں کے بعد بہت سے لوگ کنویں کو دیکھنے کے لئے امڈ پڑے۔ سب حیران تھے کہ اتنی تعداد میں لوگ کیونکر محض ایک کنواں دیکھنے کے لئے چلے آرہے ہیں۔ پتہ چلا کہ یہ لوگ اس کنویں کو دیکھنے آرہے تھے جس میں سے ایک آدمی نکلا تھا۔ سرپنچ کی بات کئی زبانوں سے پھسلتی ہوئی جب واپس پہنچی تو اس کے معانی تبدیل ہوچکے تھے۔ اس نے کنویں سے ملنے والے سُکھ کی وجہ سے اسے ایک عزیز سے تشبیہ دی تھی۔ جب یہ بات واپس لوٹ کر آئی تو لوگوں نے مان لیا کہ کنویں سے کوئی شخص نکلا ہے۔

سرپنچ نے جو کہا تھا وہ ایک بات تھی، لوگوں نے جو کچھ سمجھا، وہ بھی ایک بات تھی۔ یہ بھی کہا اور مانا جاسکتا تھا کہ کنویں سے برآمد ہونے والا شخص دراصل سرپنچ کے پرُکھوں کی روح تھی۔ کھدائی کے دوران یہ روح ایک خوبصورت پرندے کی صورت میں نظر آئی او رپھر ہوا میں تحلیل ہوگئی۔ یہ بھی محض ایک بات ہے۔ سرپنچ نے ایک اور بات بتائی کہ اس کا خاندان روحانی اعتبار سے بہت بڑے ورثے کا مالک رہا ہے اور یہ کہ اسے مقدس مان کر، اسے نذرانے دیے جائیں۔ یہ بھی ایک بات ہی ہے۔ لوگوں نے سرپنچ کو مقدس مانا اور نذرانے دینا شروع کردیے۔ انہوں نے سرپنچ کی بات کو درست مان لیا۔

اگر آپ سے کہا جائے کہ آپ اپنی بلڈ پریشر کم کرنے والی ادویات بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں تو یہ بھی ایک بات ہی سمجھی جائے گی۔ مگر اس کے اثرات کی حقیقی طور پر پیش بینی کی جاسکتی ہے۔ وہ اس طرح کہ بچے ادویات کی پیکنگ اور ادویات کی طرف ہمیشہ مائل ہوتے ہیں۔ ان کا بلڈ پریشر تو نارمل ہوتا ہے، اگر وہ آپ کی دوا کھالیں گے تو ان کا بلڈ پریشر اس قدر کم ہوجائے گا کہ ان کی موت بھی ہو سکتی ہے۔ یعنی یہ کہ یہ بات محض بات نہیں حقیقی حالات کے ساتھ، اس بات کا لازمی تعلق بنتا ہے۔ کنویں سے نکلنے والے آدمی والی بات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اسی طرح اگر کہا جائے کہ سردیوں میں گیس کا ہیٹر جلا کر نہ سوئیں تو یہ بھی محض بات نہیں گیس کا ہیٹر چلتا رہے گا تو وہ مسلسل آکسیجن بھی جلاتا رہے گا۔ آکسیجن آہستہ آہستہ اس قدر کم ہو جائے گی کہ آپ کے سانس لینے کے لئے نہ بچ پائے گی۔ انجام ۔۔۔ موت ہوگا۔

محض باتیں کرنے اور باتوں پر محض یقین کرنے سے باتوں کی محض حفاظت کرنے والے پروہت پیدا ہوتے ہیں اور ان باتوں پر عمل کرنے والے راہب بنتے ہیں۔ پروہتوں کاکام ایسی باتیں گھڑنا اور ان پر یقین دلوانا ہے کہ جن کا حقیقت یا اس زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا جو سچ مچ ہم گزارتے ہیں۔ مثال کے طور گھر یلو معاملات سے متعلق پروہتوں نے باتیں پھیلا دیں کہ عورت بے عقل ہے۔ وہ صرف جسم ہے۔ وہ مرد کی پاکبازی کے لئے ہمیشہ امتحان پیدا کرتی ہے۔ مرد اور عورت کا جنسی ملاپ گندگی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ یہ باتیں تھیں او رکچھ بھی نہ تھا۔ جب عورتوں نے ان پر یقین کرلیا او رزندگیوں کو ان ’’باتوں‘‘ کے مطابق ڈھالنے کی جدوجہد شروع کردی تو ان کی زندگیوں سے لطف اور مسرتوں کا خاتمہ ہوگیا۔ وہ انہی باتوں کی شکار محض راہبائیں بن گئیں۔ چونکہ مردوں نے بھی ان باتوں کو مان لیا، اس لئے وہ بھی راہب ہوگئے۔ ان کی زندگیوں سے بھی مسرتوں کا خاتمہ ہوگیا۔ دونوں کے لئے وہ زندگی اپنی اصلیت کھوگئی جو حقیقت میں وہ گزار سکتے تھے۔ اس کے برعکس انہوں نے اس حقیقی زندگی کو ان باتوں کے مطابق ڈھالنا شروع کردیا جو محض باتیں تھیں۔ افواہیں تھیں، جیسا کہ کنویں سے نکلنے والے شخص کی افواہ گھڑلی گئی تھی۔ افواہیں، آسیب کی طرح بے حقیقت ہوتی ہیں۔ آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ مرد وعورت انہی باتوں کے آسیب کے تحت اپنی زندگیوں کو غیر فطری طور پر گھڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان دونوں کا تعلق آسیب زدہ رہتا ہے۔ جن’’سچائیوں‘‘ کی بنیاد پر وہ رشتہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں وہ انہی باتوں میں پیوست ہوتا ہے۔ اگر یہ سب باتیں محض باتیں ہیں، یعنی بے حقیقت ہیں تو مرد وعورت کا ان پر مبنی رشتہ بھی بے حقیقت ہوگا۔

پرانے زمانے کے پروہت نے کہا کہ بادشاہ کو اس کی بادشاہت کا جواز خدانے عطا کیا ہے۔ یہ بھی محض ایک بات ہی تھی۔ اصل بات یہ تھی کہ بادشاہ وہ بنتا تھا جس کے پاس طاقت ہوتی تھی۔ طاقت کے استعمال کرنے کی صلاحیت کے ننگے پن کو دھندآلود کرنے کے لئے بادشاہ کو ایسی باتوں کے آسیب کے ساتھ الجھا دیا گیا۔ یہ بھی محض بات ہی تھی مگر سیاست کے پروہتوں نے جب لوگوں کو اس بات کا یقین دلا دیا تو ساری عوام راہب کے درجے پر جابیٹھی۔ وہ اپنی زندگیوں کے سیاسی اور اقتصادی پہلوؤں پر بادشاہت کے اثرات سے لاتعلق ہوگئے۔ اسی راہبانہ آسیب کے باعث جمہورنے بادشاہ اوراس کے حلیف طبقوں کو کھلی چھٹی دے دی۔

حقیقی زندگی وہ ہے جو ہم ہر روز گزارتے ہیں۔ اس کو سمجھنے کے پیمانے پہلے سے طے نہیں ہوسکتے۔ انہی حالات میں سے نئے پیمانے بنیں سنوریں گے اور یہ عمل مسلسل جاری رہے گا۔ پروہتوں کی گھڑی باتوں کے مطابق اصل زندگی کو ڈھالنے او راس کو سمجھنے کا پیمانہ بنالینے سے راہبانہ اسلوب ہی کی ترویج ہوگی۔ اس عمل سے انسانی زندگی سے لطف کا خاتمہ ہوگا اور چھوٹی سی معصوم خواہشات کو بھی دبا دیا جائے گا۔ مثال کے طور پر فی زمانہ بہتر زندگی گزارنے کے لئے جو لوازمات ضروری ہیں، ان کی فراہمی کے لئے مڈل کلاس میں صرف خاوند ہی کافی طور پر نہیں کماسکتا۔ عورت کو کمائی میں ہاتھ بٹانا پڑے گا۔ عورتوں کے معاملات کے پروہتوں نے اوّل تو عورتوں کے کمانے کو بُرا کہا۔ اگر اجازت دی تو کہا کہ عورت ڈاکٹر بن جائے یا استانی کا پیشہ اختیار کرلے۔

عورتوں کے پروہت کا ہی یہ فرمان تھا کہ عورت اپنے آپ کو اپنے مرد کے لئے سجائے۔ لمبے بال، بادلوں جیسے اور ان میں سے خوشبوؤں کا گداز ہو، وغیرہ وغیرہ، اب ملاحظہ فرمائیں کہ جو عورت صبح سویرے اپنی نوکری کے لئے نکلے گی اور رات کو واپس آئے گی، اپنے مرد کے لئے خاک سج پائے گی۔حقیقی حالات کا تقاضا یہ ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے بال رکھ لے۔ کپڑے بھی ایسے پہنے جو مختصر ہوں اور ان کو دھونا آسان ہو ۔ جو عورت اور مرد ان حقیقی حالات کو تسلیم کرلیں گے وہ اپنی زندگی میں سکھ پالیں گے۔ شرط یہ ہے کہ وہ پروہتوں کی باتوں پر یقین نہ کریں اور صرف وہی کریں جو ان کے لئے ضروری ہو اور حالات کا تقاضا بھی وہی ہو۔

سچی بات تو یہ ہے اب تک جن سچائیوں کو زندگی کے رہنما اصولوں کا درجہ دیا گیا ہے وہ دراصل پروہتوں کی پھیلائی باتیں تھیں اور ان کا مقصد راہبانہ اسالیب کوہی بطور رہنما اصول آگے بڑھانا تھا۔ زندگی کے ہر معاملے سے متعلق ’’سچائیاں‘‘ طے کردی گئیں۔ گویا یہ مان لیا گیا کہ انہی’’سچائیوں‘‘ کے تناظر میں زندگی کو سمجھا جائے گا اور انہی کے مطابق انسانوں کو ڈھلنا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ بھی تھا کہ زندگی جامدہے کیونکہ اس کو سمجھنے کے پیمانے یعنی سچائیاں اٹل ہیں او روہ ہمیشہ سے ہیں او رہمیشہ رہیں گے۔ اسی لئے تو انہیں ’’سچائیوں‘‘ کے درجے پر رکھا گیا ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ کوئی بات سچائی کا درجہ نہیں پاسکتی بلکہ سچائی نام کی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی۔ جن باتوں کو ’’سچائی‘‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے وہ دراصل باتوں کے پروہتوں کا آسیب کی تشہیر کا ایک طریقہ ہے۔ اس کے پیچھے اصل مقصد راہبانہ آسیب کو ہی پھیلانا ہوتا ہے۔ اسی آسیب افزودگی میں حالات او راس میں مصروف کرداروں کو جامد سمجھا جاتا ہے۔ یہ غیر فطری طریقہ تھا اور سچائیوں کے مطابق جن انسانوں اورحالات کو باندھنے کی کوشش کی گئی تو تشدد پیدا ہوا۔

اصل معاملہ یہ ہے کہ انسان اور حالات کے باہمی تعامل (interaction)سے زندگی میں ایک تسلسل پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح جیسے آپ فلم میں کسی واقعے کو ایک متحرک سلسلے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ زندگی میں کوئی بھی فرد محض تماشائی نہیں ہوتا بلکہ خود بھی ایک واقعے کے طور پر متحرک ہوتا ہے۔وہ خود ہی واقعہ ہے۔ اس کی زندگی اسی واقعاتی سلسلے کے نتیجے میں وجود میں آتی ہے۔یعنی اس کے وجود کی واقفیت دراصل ایک تسلسل ہے۔ وہ جامد نہیں۔ مثال کے طور ایک پیشہ ور بھکاری کی زندگی کی حقیقت یہ ہے کہ وہ ایسا سوانگ رچائے کہ کوئی بھی شقیئ ا لقلب پگھل جائے اور اس کا ہاتھ سیدھا پرس کی طرف جائے او رپھر اس کا رخ بھکاری کی طرف ہوجائے۔ بھکاری کی تکنیک بدستور بدلتی ہے۔ اس کی ’’دعائیں‘‘ بھی علاقے اور ماحول کے مطابق بدلتی جارہی ہیں۔ اس پر پروہت کی سچائیوں کا کوئی اثر نہیں ۔

بھکاری دراصل اس سماجی فریب کا پیروکار ہے جس کی بنیاد پر پروہتوں کی تجارت چلتی ہے اور اس لحاظ سے وہ ان کا حلیف ہے۔ مگر وہ ان کی حکمت عملی کا شکار نہیں بلکہ صحیح معنوں میں حقیقت پسند ہے۔ بھکاری کی زندگی میں کوئی آسیب نہیں۔ واضح رہے کہ پروہتوں کی بنائی دنیا میں وہ سماجی گروہ آسیبی سچائیوں کے دائرے سے باہر ہوتے ہیں جو ویسے بھی اس زندگی کے دھارے سے باہر نکال دیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر طوائفیں، خواجہ سرا ، باغی او رجرم کی دنیا سے وابستہ لوگ، ایسے لوگ پروہتوں کی سچائیوں کو ماننے کی بجائے زندگی کو اپنے حقیقی او رننگے روپ میں دیکھنے اور اس میں سے راستہ نکالنے کی سکت رکھتے ہیں۔ یہ لوگ ایک لحاظ سے احتجاج بھی کرتے ہیں مگر دوسری جانب اجتماعی ’’سچائیوں‘‘ سے ٹکر بھی لیتے ہیں۔

ان ’’سچائیوں‘‘ کے جمع کرنے سے جو علم پیدا ہوا، اس میں جاری زندگی کا ساتھ دینے کی سکت نہیں۔ وہ اتنی اہلیت بھی نہیں رکھتا کہ اس کی مدد سے حالات کو سمجھنے میں مدد مل جائے، تبدیلی تو بہت دور کی بات ہے۔ اب لازم ہے کہ جاری زندگی کے مطابق نئے علوم او رنئے انسان سنوارے جائیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author