قیام کے پندرہ سال بعد بھی انٹر کالج شگر میں تدریسی عملے کی کمی

شگر(عابدشگری) تعلیمات عامہ ڈائریکٹوریٹ کالجز کی عدم دلچسپی اور  شگر کے ساتھ مبینہ سوتیلی ماں جیسے سلوک کی وجہ سے انٹر کالج شگر زبوں حالی کا شکار، کالج کے قیام کو پندرہ سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باؤجود تدریسی عملہ پوری طرح تعینات نہ ہوسکا۔

مجلس وحدت المسلمین شگر کے رہنماء محمد ظہیر عباس نے انٹر کالج شگر میں سائنس کلاسز کی بندش کی خبروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شگر میں واحد بڑا تعلیمی ادارہ انٹر کالج شگر میں تدریسی عملوں کی کمی سہولیات کافقدان باعث تشویش ہے۔محکمہ تعلیمات عامہ ڈائریکٹوریٹ کالجز کی عدم دلچسپی اور مبینہ شگر کیساتھ سوتیلی ماں جیسے سلوک کی وجہ سے انٹر کالج شگر زبوں حالی کا شکار ہے اور نوبت سائنس کلاسز کی بندش پر پہنچا ہے۔کالج کی قیام کو پندرہ سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باؤجود تدریسی عملوں کو پورا نہ کرنا کالجز انتظامیہ گلگت بلتستان کی تعلیم اور شگر دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔جس کی جتنی مذمت کیا جائے کم ہے۔ انہوں نے کالجز انتظامیہ اور ڈائریکٹوریٹ کالجز گلگت بلتستان کو خبر دار کیا ہے کہ وہ انٹر کالج شگر سے سائنس کلاسز کی بندش سے باز رہے ورنہ مجلس وحدت المسلمین شگر کے عوام کیساتھ ایسا تاریخی دھرنا اور احتجاج کرینگے جوکہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ساتھ ہی انہوں نے صوبائی حکومت اور چیف سیکریٹری گلگت بلتستان سے انٹر کالج کی صورتحال اور سائنس کلاسز کوختم کرنے کا نوٹس لینے اور فوری طور شگر میں تدریسی اور غیر تدریسی عملوں کی کمی کو پورا کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments