آزاد اُمیدوار کیوں ؟

آزاد اُمیدوار کیوں ؟

14 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

سیاسی جماعتوں سے مایوس ہونے والے عوام نے فیصلہ کیا ہے کہ 2018 ؁ء کے انتخابات میں آزاد اُمیدواروں کو ووٹ دیکر اسمبلیوں میں لایا جائے تاکہ سیاسی جماعتوں کی اجارہ داری سے آزاد ہوکر عوامی مفاد میں قانون سازی بھی کر سکیں اور عوامی مسائل بھی حل کرسکیں بعض لوگوں نے اس رجحان کو جمہوریت کے لئے زہر قاتل قر ار دیا ہے جمہوری کلچر کے منافی قرار دیا ہے آزاد اُمید وار وں کی حمایت کر نے والے حلقوں کے پاس چار دلائل ہیں پہلی دلیل یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کا منشور اور نظر یہ ختم ہو چکا ہے یہ جماعتیں چند شخصیات کے گھر کی لونڈی بن چکی ہیں شخصیات کی دشمنی اور رقابت کے گرد گھو متی ہیں اگر دو لیڈروں کی ذاتی دشمنی ہے تو پوری پارٹی اس دشمنی کو آگے بڑھا تی ہے کوئی اور کام اس کے سامنے نہیں ہوتا عوام اس رویے سے تنگ آچکے ہیں دوسری دلیل یہ ہے کہ سیاسی پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والا ممبر اس پارٹی کا زر خرید غلام بن جاتا ہے اسمبلی میں 5 سالوں تک پارٹی کی خدمت کر تا ہے عوام کا کوئی مسئلہ حل نہیں کرتا اپنی کا میابی کو پارٹی کی مقبولیت قرار دیتا ہے ووٹروں کو اپنا غلام سمجھ لیتا ہے اور یہ فرض کر لیتا ہے کہ پھر ٹکٹ ملے گا پھر ووٹ لیلوں گا یہ ممبرا ن اسمبلی کا منفی رویہ ہے جس کی وجہ سے لوگ سیاسی جماعتوں سے مایوس ہو چکے ہیں تیسری دلیل یہ ہے کہ فلور کرا سنگ پر پا بند ی کے قانون نے پارٹی ٹکٹ پر منتخب ہونے والوں کو پابند کر دیا ہے کہ اسمبلی میں جاکر اپنے حلقے کے مفاد میں یاعوامی مسائل کو حل کرنے کے لئے پارٹی تبدیل نہیں کر سکتا بے دام غلام بن کر 5 سال گذار دیتا ہے اس لئے حلقے کے مسائل جو ں کے توں رہ جاتے ہیں وہ 5 سالوں میں حلقے کے عوام اور ووٹروں کی کوئی خدمت نہیں کرسکتا چھوتھی دلیل یہ ہے کہ میدانی حلقوں میں پینے کاپانی نہیں ملتا، پہاڑی حلقوں میں سیلابوں کی وجہ سے سڑکیں ، پُل اور نہریں ٹو ٹ جاتی ہیں بیوروکریسی اور مقامی انتظامیہ کے اختیارات اراکین اسمبلی کو دید یے گئے ہیں ڈیڈک کا چےئر مین اسمبلی کا ممبر ہوتا ہے ترقیاتی فنڈ اسمبلی کے ممبر کو ملتا ہے ا س وجہ سے 3 لاکھ روپے کا پیدل پُل دوسالوں میں نہیں بنتا ، 2 لاکھ روپے کا کنواں 5سالوں میں نہیں ملتا ، نہر کی مرمت پر اگر 5 لاکھ روپے لگتا ہے تو عوام کو 5 سال انتظا ر کر نا پڑتا ہے سیاسی پارٹی سے تعلق رکھنے والا ممبر عوم کے مسائل اور عوم کی ضروریات پر توجہ نہیں دیتا وہ پارٹی لیڈر کی خدمت کر کے پارٹی لیڈر کو خوش رکھتا ہے اور اگلے ووٹ کے لئے پارٹی ٹکٹ کو کھرا کر نے کی فکر کرتا ہے عوام کو اپنا غلام سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ پارٹی ٹکٹ مل گیا پھر ووٹ لے لوں گا 2013 ؁ کے انتخابات میں خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں سیاسی جماعتوں سے مایو س عوام نے آزاد اُمیدواروں کو کامیاب کیا آزاد اُمیدوار وں نے اسمبلی میں جاکر حلقے کے بنیادی مسائل حل کئے کیونکہ وہ حکومت کی ضرورت بن گئے اور عوام کے کسی بھی مسئلے پر وہ حکومت سے الگ ہونے کی دھمکی دے سکتے تھے اس کے مقابلے میں جماعت اسلامی جیسی منظم جماعت کے 3 اراکین اسمبلی نے اپنی ہی پارٹی کے وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر کا بائیکاٹ کیا سیاسی جماعت نے پارٹی لائن کی پابند ی کر کے اُن کے حلقوں کا فنڈ کسی اور حلقے کو دید یا تھا یہ پارٹی قیادت کی مجبوری تھی اسمبلی میں ان ممبروں کی آواز کسی نے نہیں سُنی چترال رقبے کے لحاظ سے خیبر پختونخوا کا سب سے بڑا ضلع ہے اس کا رقبہ 14850 مر بع کلومیٹر ہے اس ضلع میں 2013 ؁ء کے سیلاب میں تباہ ہونے والی سیکموں کی بحالی 4 سالوں میں ممکن نہ ہوئی 22 پُل اور 48 جگہوں پر ٹوٹی ہوئی سڑکیں اُسی طرح پڑی ہیں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے 100 گزکے فاصلے پر پیدل پُل جولائی 2015 ؁ء کے سیلاب میں بہہ گیا تھا 3 لاکھ رروپے کی لاگت سے دو مہینوں میں یہ پل دو بارہ تعمیر ہو سکتا تھا مگر دوسال گذر گئے اس پیدل پُل کے لئے کسی منتخب نما ئیند ے نے 3 لاکھ روپے نہیں دیے ایک کاریگر نے اس جگہ 300 فٹ کی اونچائی پر چےئر لفٹ لگا یا ہے یہ 10ہزار کی آبای کے لئے زنانہ ہسپتال اور زنانہ سکول جانے کے راستے پر واقع ہے کاریگر فی کس 10 روپے لیکر لوگوں کو ند ی پار کراتا ہے صوبائی اسمبلی کی خاتون رکن کے گھر سے اس پُل کا فاصلہ دو فر لانگ کے برا بر ہے قومی اسمبلی کے ممبر کے گھر سے اس پل کا فاصلہ ایک فر لانگ ہے ضلع ناظم اور تحصیل ناظم کا روز اس پُل سے گذر ہوتا ہے مگر دو سالوں میں اس پیدل پل کے لئے کوئی سکیم منظور نہیں ہوئی اگر ضلعی انتظامیہ کے پاس ا ختیارات ہو تے یا آزاد اُمیدوار اسمبلی میں ہوتا تو گنجان آباد علاقے میں بازار کے اندر واقع اس پیدل پُل کی تعمیر دو مہینوں کے اندر ہو چکی ہوتی یہ کلاسیکی مثال ہے اس پُل کی جگہ چےئر لفٹ پر ندی پار کرتے ہوئے ایک ادبی شخصیت کی تصویر سوشل میڈ یا پرآئی تو بریڈ فورڈ ، دوبئی ،کیلی فورنیا ، اٹلا نٹا ، ٹو رنٹو ، دوحہ اور جدہ سے احباب نے ٹو یٹ کر کے حیرت کا اظہار کیا کہ خیبر پختونخوا میں ایک گنجا ن اباد ٹاؤں کا پیدل پُل دوسالوں میں نہیں بن سکتا اراکین اسمبلی کیا کر ر ہے ہیں ؟ لوکل گورنمنٹ کیاکر رہی ہے؟ سوشل میڈیا میں آزاد اُمیدواروں کی حمایت میں رائے عامہ کے جائز وں کا ذکر ہوتا ہے تو بعض لوگ اس پر تعجب کر تے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کے ہوتے ہوئے آزاد اُمیدوار کیوں ؟ آزاد اُمیدوار پارٹی کی لائن کا پابند نہیں ہوتا وہ عوامی مفاد میں عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے کسی بھی پارٹی کی حمایت کر سکتا ہے اور چترال ، دیر ، سوات ، جیسے پسماند ہ پہاڑی حلقوں سے آزاد اُمیدوار کو کا میاب کر نا عوامی مسائل کے حل کی واحد کنجی ہے اب سیاسی جماعتوں سے عوام کا اعتماد اُٹھ چکا ہے صوابی اتحاد والا ماڈل سب سے کا میاب ماڈل ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔