شندور میلہ اور جی بی حکومت کی تیاریاں

شندور میلہ اور جی بی حکومت کی تیاریاں

55 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ملک میں بڑھتی ہوئی گرمی کے ستائے عوام نے بالائی علاقوں کا رخ کر دیا ہے اس وقت ناران کاغان کے علاوہ گلگت بلتستان میں بھی ہزاروں کی تعداد میں سیاحوں نے ڈیرے ڈال دیئے ہیں اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ہنزہ میں تمام ہوٹل بک ہوگئے ہیں اور یہاں آنے والے سیاح ٹینٹوں میں قیام کرنے پر مجبور ہیں دوسری طرف دنیا کے بلندترین پولو گراونڈ شندور میں سہ روزمیلہ کی تیاریاں بھی شروع ہوگئی ہیں اور بتایا یہ جارہا ہے کہ جولائی کے آخری ہفتے میں سطح سمندر سے 13ہزار فٹ کی بلندی پر واقع دنیا کے بلندترین پولو گراونڈ شندور میں سہ روزہ شندور میلہ شروع ہوگا جس میں نہ صرف پولو میچ ہونگے بلکہ ہنڈ گراڈنگ اور گلگت و چترال کے ثقافتی شو بھی پیش کئے جائینگے اس سال سہ روز شندور میلہ017 2کپ حاصل کر نے میں گلگت کی ٹیم کامیاب ہوتی ہے یا چترال کی اس کا پتہ تو شندور پولوگراونڈ میں منعقد پولو میچ میں کھلاڑیوں کی کھیل سے پتہ چل جائیگا اگر میرٹ کے مطابق کھلاڑیوں کا چناؤ کیا گیا ہے تو گلگت بلتستان کی چاروں ٹیموں کی کامیابی یقینی ہے دوسری طرف شندور میلے کے دن قریب آرہے ہیں مگر ہماری طرف سے ابھی تک کوئی تیاری نظر نہیں آرہی ہے اور یہ بھی پتہ نہیں چل رہا ہے کہ گلگت بلتستان حکومت نے شندور سہ روزہ میلہ کے انعقاد کے لئے اب تک کیا تیاریاں کی ہے اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اس اہم ایونٹ کو دیکھنے کے لئے ہزاروں کی تعداد میں سیاح گلگت بلتستان پہنچ گئے ہیں جبکہ غذر میں یہ صورت حال ہے کہ شندور سے پانچ کلومیٹر دور لنگر میں اس وقت ٹینٹوں کا ایک شہر آباد ہوگیا ہے اور یہاں آکر خیمہ زن ہونے والے سیاحوں کو اگر کوئی مشکلات ہیں تو وہ یا تو یہاں کی خستہ سڑک ہے یا پھر ان کو رہائش کا مسلہ ہے گلگت سے پھنڈر تک تو روڈ کو میٹل ہے مگر 2010کے سیلاب نے تقریبا پچاس کلومیٹر سڑک کو صفحہ ہستی سے ہی مٹا دیا تھا جس پر صرف محکمہ تعمیرات نے روڈ سے پتھر ہٹا دئیے اور روڈ کو عارضی طور پر ٹریفک کے لئے بحاکل کر دیااور یہ سڑک اتنی خستہ حال ہوگئی ہے کہ اس شاہراہ پر سفر کرنا ایک عذاب سے کم نہیں ہے دوسری طرف پھنڈر سے شندور تک صرف پچیس کلومیٹر کا راستہ ہے اس سڑک کی بھی جو حالت ہے وہ دیکھنے کے قابل ہے اس پچیس کلومیٹر سڑک کو میٹل نہ کرنے کی وجہ جو سیاح اپنی کاریاگاڑی کو لیکر آتے ہیں ان کو سخت پریشانی کا سامناکرنا پڑ رہا محکمہ تعمیرات غذر کے پاس روڈ قلی کی کمی نہیں مگر اس روڈ پر کام کرتے ہوئے چند قلی نظر آتے ہیں اگر اس سڑک کی مناسب دیکھ بال ہو یہاں آنے والے سیاحوں کی مشکلات میں بڑی حد تک کمی آسکتی ہے دوسری طرف غذر کے بالائی علاقوں میں سوائے دو پی ٹی ڈی سی ہوٹل کے اور کچھ نہیں پھنڈر اور جنڈروٹ پی ٹی ڈی سی ہوٹل میں کل دو درجن کمرے ہیں جس باعث اس علاقے میں آنے والے سیاحوں رہائش کے حوالے سے سخت پریشانوں کا سامنا ہے اور اس سلسلے میں محکمہ ٹورازم کی کاکردگی نہ صرف مایوس کن ہے بلکہ یہ کہاجائے تو بے جا نہ ہوگا کہ یہ محکمہ حکومت کے اُوپر ایک بوجھ ہے دوسری طرف حکمران اوردیگر سیاسی لیڈرہر سال جب شندور میلہ کا آغاز ہوتا ہے تو مئی سے لیکر اگست تک اس کی حد بندی اور کے پی کے حکومت کی طرف سے ناجائز تجاوزات کی بات ہوتی ہے اس دوران حکمرانوں کی طرف سے دوسرے سال سیاحوں کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے کی بھی نوید سنائی جاتی جب میلہ ختم ہوجاتا ہے تو حکمران سمیت محکمہ ٹورازم کے حکام بھی خواب خرگوش کے مزے لیتے نظر آتے ہیں اگر ٹورازم کے پاس رہائش کی لئے سہولتیں دستیاب نہیں تو کم از کم یہاں آنے والے سیاحوں کو کرایہ پر ٹینٹ ہی فراہم کر دیں تاکہ ان کی پریشانیوں میں کسی حد تک کمی ہوسکے گلگت بلتستان کا ضلع غذر جہاں کے صاف و شفاف پانیوں میں دنیا کی نایاب مچھلی ٹراوٹ بکثرت پائی جاتی ہے اس وجہ سے بھی ہزاروں کی تعداد میں سیاح اس علاقے میں فشنگ کے لئے تشریف لاتے ہیں مگر یہ اطلاعات آرہی ہے کہ چترال سے آکر بعض آفراد جال کے ذریعے ٹراوٹ مچھلی کا غیر قانونی شکار کرتے ہیں جو کہ اس نایاب مچھلی کی نسل کشی کے مترادف ہے اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ محکمہ فشیریز کے پاس سٹاف کی کمی کی وجہ سے وہ اتنے بڑے ایرے کو کنٹرول کرنے سے قاصر ہیں اس سلسلے میں حکومت کو اس نایاب نسل کو بچھانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اگر گیم واچرز کی کمی ہے تو مزید گیم واچر بھرتی کرنے ہونگے اگر ایسانہیں کیا گیا تو یہ قیمتی اثاثہ ٹراوٹ مچھلی کے قصے صرف کتابوں تک محدور ہوکر رہ جائیگی دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ شندور میلے کے انتظامات کے حوالے سے کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی اگر اس دفعہ پھر کے پی کے حکمران ہمیں میزبانی سے دور کرنے کی سازش نہ کریں اس لئے ہمارے حکمرانوں کو میزبانی سے کسی بھی صورت میں پیچھے نہیں ہٹنا چائیے اور شندور میں ایسے انتظامات کئے جائے کہ ہمارے ایرے سے جو بھی مہمان آئے وہ علاقے کی مہمان نوازی کی یادیں لیکر جائے۔تاکہ ہر سال لاکھوں کی تعداد میں سیاح ان جنت نظیر وادیوں کارخ کر سکے اگر جی بی کی حکومت سیاحت پر ہی توجہ دے تو گلگت بلتستان کا یہ خطہ تر قی کی راہ پر گامزن ہوسکتاہے اور اس کے لئے یہاں کی خستہ حال سڑکوں کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ہوٹلنگ کے شعبے میں بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author