گلگت بلتستان سپریم اپیلٹ کورٹ میں نان لوکل ججز کی تعیناتی کسی صورت قابل قبول نہیں،ڈاکٹرغلام عباس

گلگت بلتستان سپریم اپیلٹ کورٹ میں نان لوکل ججز کی تعیناتی کسی صورت قابل قبول نہیں،ڈاکٹرغلام عباس

21 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

اسلام آباد(بیورو رپورٹ)ڈاکٹر غلام عباس چئیرمین گلگت بلتستان نیشنل مومنٹ و سربراہ استور سپریم کونسل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ علاقہ ہونے کی وجہ سے وہاں جو بھی تبدیلی آئے گی وہ ہم سب کے لئے اہمیت کے حامل ہیں۔ستر سال سے دوسروں کے رحم وکرم پر ہیں ،متنازعہ علاقے سے ون بلیٹ ون روڈکا منصوبہ شروع ہوا اسمیں آزاد جموں وکشمیر اور گلگت بلتستان کے ممبران کو ان بورڈ نہیں لیا گیا ،اس پیکج سے فائدہ لینے والے اس منصوبے کا حصہ ہی نہیں ہیں اور جو نقصانات ہونگے ان میں گلگت بلتستان اور کشمیر شامل ہونگے،ماحول میں آودگی اور موسم میں تبدیلی آئے گی۔گلگت بلتستان کو ستر سال سے آزاد جموں وکشمیر ،نہ ہی انڈیا اور نہ ہی پاکستان طرز کا سیٹ اپ دیا گیا ،حقوق سے محروم رکھا گیا جس میں سابق حکومتیں بھی شامل ہیں اور موجودہ حکومت نے بھی اندھیرے میں رکھا ہوا ہے۔گلگت بلتستان کی عوام کو کھبی بھی اعتماد میں نہیں لیا جاتا ہے جس کے لئے بتیس سال سے جدوجہد کر رہے ہیں اور تا دم مرگ کوشیشیں جاری رکھیں گے۔حقوق کی بات کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔یو این کی کرادادوں پر غاصب ہو کر رہنے والے کامیاب ہیں۔گلگت بلتستان اورآزاد کشمیر کی عوام کو پاکستان کے دیگر شہریوں کی طرح یکسر حقوق دئے جانے چائیں۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف بات کرنے والے حکومت میں ہیں اور ہمیں حق کی بات کرنے پر غدار کہا جاتا ہے۔اگر ہمارے خلاف کوئی غداری کے ثبوت ہوں تو سامنے لائیں۔ ہم جوڑنے کی بات کرتے ہیں توڑنے کی نہیں جس کی وجہ سے ہم پر الزامات لگائے جاتے ہیں۔انیس سو ننانوے میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں آئینی حقوق کی پیٹشن دائر کی جو آج بھی فیصلے کے منتظر ہیں۔دو ہزار گیارہ میں سپریم کورٹ میں دوسری پیٹشن دائر کی اپلیٹ کورٹ بنایا جائے اور ججز کی تعیناتی سپریم کورٹ کے طرز پر ہونا چاہئے کنٹریکٹ ججز نہیں بلکہ ریگولر ججز دئے جائیں۔مشرف کے پی سی او ججز کے خلاف آواز بلند کی تھی ،آج بھی ججز کی بھرتی کے لئے میاں نواز شریف کے داماد سفارشیں کرتے ہیں کہ ان کی مرضی کا جج لگایا جائے۔اس طرح کے حربے استعمال کئے گئے اور ناانصافی کی گئی تو اسکے خلاف آحتجا ج کیا جائے گا۔ہم حکومت پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ حقوق اور حق کی بات کر رہے ہیں۔گلگت بلتستان میں ادارے ناکام ہیں اداروں کو چیک کرنے کے لئے منصفانہ نظام نہیں ہے۔حکمران کٹ پتلی کی طرح کام کر رہے ہیں جیسے اپنے آقاوں کو خوش کرنے کی دن رات ڈیوٹی لگی ہو۔یہی حکمران پاکستان کو اندر سے کھوکھلا کر رہے ہیں۔گلگت بلتستان کی عوام نے پاکستانیوں سے بڑھ کر پاکستانی ہونے کا ثبوت دیا ہے اس کے باوجود عوام کی آنکھوں میں دھول ڈالی جا رہی ہے۔اب لوگ باشعور ہو چکے ہیں اب عوام کو اندھیرے میں رکھنا نا ممکن ہے۔گلگت بلتستان کی عوام کو فلفور بنیادی حقوق دئے جائیں ایسا نہ ہو لوگ اس قدر مجبور ہوں وہ اپنے مذہب کو تبدیل کریں اوربگڑ جائیں۔میرٹ پر ججز کی تعیناتی ہونی چاہیے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور ججز کو بھی خریدو فروخت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔سرکاری اداروں کے ملازمین اربوں پتی ہو چکے ہیں پلانگ کے تحت وفاق اور صوبوں سے لوگوں کو خصوصی طور پر جیب بھرنے کے لئے گلگت بلتستان میں تعینات کیا جاتا ہے۔ان تمام ناانصافیوں کے خاتمے کے لئے نوجوانوں کو آگے آنا ہوگا۔صحافی کے کئے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جس طرح بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں سیٹ اپ دیا ہے اس طرح کا سیٹ اپ پاکستان گلگت بلتستان کو دینے کی باتیں سامنے آرہی ہیں۔صوبائی طرز یا کشمیر طرز کے سیٹ اپ کو خوش اآمدید کہیں گے۔گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کوایک بنیادی اور مرکزی نظام دیا جائے اور ہم یہ بات تو پہلے سے کرتے تھے کہ تینوں یونٹس کو ملا کر سینٹ طرز کا ایک منفرد سیٹ اپ دیا جائے تاکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کے درمیان فاصلے کم ہوں۔کاش گلگت بلتستان میں سیاسی جماعتیں اسٹیٹ سبجیکٹ رول کی ڈیمانڈ کرتی کیونکہ یہی ہماری زندگی موت کا مسلہ بن چکا ہے۔حکومت کی سب سے بڑی کمزوری یہی ہے کہ وہ جان بوجھ کر اسٹیٹ سبجیکٹ رول بحال نہیں کرنا چاہتی ہے۔حکومت پاکستان سے قوم پرستوں کا یہی ڈیمانڈ ہے کہ ہمیں پہچان دی جائے۔حکومت نے خود تقسیم کا عمل جاری رکھا ہے قوم پرستوں کے خلاف حکومت اور وسائل دونوں ہیں۔علما کو قوم پرستوں کے خلاف تیار کیا جاتا ہے۔

انہوں نے استور گلگت بلتستان سے آزاد کشمیر شونٹر ٹنل کو جلد از جلد بنانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اسے سی پیک کا حصہ بنایا جائے تاکہ سی پیک کے لئے متبادل راستہ بھی ہوگا اور عوام بھی ایک دوسرے کے قریب آجائینگے۔شونٹر ٹنل کے فوائد پاکستان کے لئیزیادہ ہیں دفاعی لحاظ سے بھی اقتصادی لحاظ سے بھی۔ لاعلمی کی بنیاد پر شونٹر ٹنل کو نہیں بنایا جا رہا ہے اور استور روڈ کو سی پیک کا حصہ بنا کر استور ویلی روڈ کی تعمیر کی جائے۔شونٹر ٹنل کی تعمیر نہ ہونا گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی دونوں حکومتوں کی نااہلی اور بزدلی ہے۔عوام کا نمایندہ گلگت بلتستان کا سی ایم دوسروں کی زبان بول رہا ہے۔انڈسٹری کا مطلب کپڑا اور سریا نہیں بلکہ جنگلات ،دودھ، ٹوریزم ہوتا ہے قدرتی وسائل۔واٹر ریسورسس پر انڈسٹری لگائی جائے گی تو پاکستان بجلی سے خود کفیل ہو کر دوسروں کو بھی دے گا۔ان پڑھ اور نظریاتی لوگ عوام کے نمائیندے کیوں بن جاتے ہیں موجودہ حکومت بھی نااہل ہے گزشتہ پانچ سال کی حکومت اور موجودہ حکومت کسی اور کی زبان بولتے ہیں۔گلگت بلتستان کو جان بوجھ کر سیاسی کاوشوں سے دور رکھا گیا ہے۔لیڈر شپ سیاسی معملات سے آتی ہیں۔قوم پرست کسی کے آلا کار نہیں ہوتے صر ف حقوق کی بات کرتے ہیں تو انہیں غلط سمجھا جاتا ہے۔

مقبوضہ کشمیر پر بھارتی مظالم کے خلاف ان کا کہنا تھا کہ انیس سو سنتالیس میں ہندو مسلم کی بنیاد پر تقسیم ہوئی تھی۔مقبوضہ کشمیر کی عوام پر بھارتی مظالم کی سخت مذمت کرتے ہیں اور مودی کی جنونیت کو ہر سطع پر روکنے کے لئے اقدامات کرینگے۔دو سپر پاور ممالک کی وجہ سے کشمیر ی پیس رہے ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔