گلتری میں کمشنر بلتستان کی کھلی کچہری، بجلی ادویات، اساتذہ اور ڈاکٹرز کی کمی دور کرنے کی یقین دہانی

سکردو ( ) گزشتہ روز کمشنر بلتستان عاصم ایوب نے بلتستان کے تمام ڈویژنل ہیڈز کے ہمراہ گلتری کا تفصیلی دورہ مکمل کیا ۔دورے میں انہوں نے فرنشاٹ گاؤں میں ایک کھلی کچہری لگائی ۔ جہاں علاقے کے عوام کے مسائل کو سنا اور محکمہ جات سے متعلق شکایات سنی ۔ کھلی کچہری میں نے بجلی ، ادویات کی کمی اور ڈاکڑ کی عدم موجودگی کے حوالے سے شکایات کیں ۔ اجلاس میں محکمہ لوکل گورنمنٹ اور چند محکمہ جات کی کارکردگی کی تعریف کیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ لوکل گورنمنٹ کی طرف سے کامیاب طریقے سے سیکموں کا اجرہ کیا گیا اور بجلی کا اایک چھوٹا منصوبہ کامیابی سے کام کررہا ہے اور جس سے گاؤں کے لوگوں کو بجلی فراہم کی جارہی ہے ۔ کھلی کچہری میں میڈل سکول گلتری میں سٹاف کی کمی کی بھی شکایت کی گئی ۔

کھلی کچہری میں لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے کمشنر بلتستان نے کہا کہ لوگوں کو ادویات کی فراہمی کو یقینی بنائی جائے گی اور ساتھ ہی مال مویشی ادویات بھی ماہانہ بنیادوں پر فراہم کی جائے گی اور ساتھ ہی ان ادویات کی فراہمی کی ماہانہ بنیادوں پر رپورٹ ڈپٹی کمشنر کو بھی ارسال کرنے کی ہدایت دی ۔ انہوں نے محکمہ برقیات کے چیف انجینئر سے کہا ہے کہ پندرہ روز تک پاور ہاوس کا کا م مکمل کیا جائے اور لوگوں کو جلد از جلد بجلی کی فراہمی شروع کی جائے ۔ انہوں نے گلتری میں وافر مقدار ادایات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ڈاکڑ کی تعیناتی بھی عمل میں لائی جائے انہوں نے عوامی شکایات پر ایک لیڈی ہیلٹھ ویزیڑ کی تعینات کرنیکی کی بھی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے علاقے کے معززین سے کہا ہے کہ گلتری سے تعلق رکھنے والی تعلیم یافتہ مقامی خاتون تجویز کریں تاکہ ان کو تربیت دیکر گلتری میں ہی تعینات کی جائے گی ۔

انہوں نے محکمہ تعلیم کے ڈی ڈی کو ہدایت دی کہ وہ جلد از جلد سٹاف کی کمی کو دور کریں۔ کمشنر بلتستان نے علاقے میں دیہی ترقی کے ترقیاتی کاموں کو کامیابی سے پائے تکمیل تک پہنچانے پر ڈائریکڑ لوکل گورنمنٹ کی کوشیشوں کی تعریف کیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments