چلاس شہر اور اطراف میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بدستور جاری

چلاس (شفیع اللہ قریشی) شہر اور گردونواح میں غیر اعلانیہ بجلی کی لوﮈشیڈنگ کا سلسلہ کئی ماہ سےبدستور جاری,شہری پریشان ہو کر ازیتوں میں مبتلا ہو گئے, بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ تھم نہ سکا.نااہل محکمہ برقیات اور ضلعی انتظامیہ ٹس سے مس نہیں. پورا شہر اندھیرا میں ﮈھوب گیا. لاکھوں کی مالیت کےتھرمل جنریٹرز چلاس سب سٹیشن کے اندر کسی مسیحا کے منتظر ہے۔

عوامی حلقوں نے محکمہ برقیات اور ضلعی انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیا,اور بتایا کہ انتظامیہ خرگوش کی نیند سوئی ہوئی ہے مگرمچھ کی اپنے منزل مقصود پر راج ہے, اور کہا کہ گزشتہ تین ماہ سے شہر چلاس میں اندھیر نگری کا راج ہے,پرانا ہسپتال, محلہ تکیہ,شاہین کوٹ,جچن,جلیل گاؤں,پائین ولیج ودیگر جگہوں میں غیر اعلانیہ بجلی کی لوﮈشیﮈنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے,بجلی کی بندیش کے باعث طلبہ,تاجر سمیت شہریوں شدید مشکلات کا سامنا ہے, عوام سراپہ احتجاج,تاہم حکومت پروا کئیے بغیر عملی طور پر بجلی کی لوﮈشیﮈنگ کا کا خاتمہ کرانے میں بری طرح ناکام ہوگئی.عوامی حلقوں نے میﮈیا کو بتایا کہ سلانہ لاکھوں روپے کا بجٹ تھرمل جنریٹرز اور واٹر پاورہاؤسس کے معمولی خرابی کے بہانے ہڑپ کر کے اپنے اپنے جیبیں بر لیتے ہے,عوام کے ساتھ کھلام کھلا زیاتی کی جارہی ہیں.انھوں نے کہا کہ کوئی تو مسیحا بنے جو عوام کی فلاح و بہبود ودیگر مسائل کو سنے اور اسے حل کرنے کی کوشش کریں. دیامر میں جو بھی قدم رکھتا ہے تو سب سے پہلے غیریب عوام کے پیٹ پر چھرا مارکر اپنا پیٹ برنے کی کوشش کرتا ہے, انصاف نام کی کوئی چیز نہیں.انھوں نے کہا کے عوام کا مزید صبر کا امتحان نہ لیا جائے,جب صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو تھمنا مشکل ہوگا,چار ہزار سے زائد بجلی پیدا کرنے والا دیامر بھاشاہ ﮈیم کے دعوہ دار ادارہ واپﮈا  ملازمیتوں کے مواقعے تو نہ دے سکی پر بجلی کہا سے دے گی,واپﮈا حکام نے عوام کو دونوں ہاتھوں سے نچوڑ لیا ہے,اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عوام کواحتجاج کا بھی حق حاصل ہے جس پر مجبور نہ کیا جائے.انھوں نے وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان, چیف سیکریٹری جی بی ﮈاکٹر کاظم نیوز از اور کمشنر دیامر سید عبدالوحید شاہ سے پرزور اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کی لوﮈشیﮈنگ کا خاتمے کے حوالے سے ترجہی بنیادوں پرعملی ٹھوس اقدامت کیا جائے اور عوام کے ساتھ ہونے والے زیادتوں کا نوٹس لیکر اس کا ازالہ کیا جائیں اور حکومتی نمانئدے ہونے کا ثبوت دیکر اپنا کردار ادا کریں تاکہ عوام سکھ کا سانس لیکر زندگی بسر کر سکے.

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments