بلبلِ یاسین

بلبلِ یاسین

271 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: شہزاد ایوبی(چترال)

گھومتے پھرتے بالاخر اس شخصیت سے ملاقات کا شرف حاصل ہو ہی گیا جس کا انتظار میں سالوں سے کر رہا تھا ۔ ان کا تعلق وادئِ یاسین کے خوبصورتی سے مزین گاؤں طاؤس سے ہے. یہ بحثیتِ مدرس خواتین کو تعلیم دلوانے میں علاقے کے سب سے پہلے فرد تسلیم کئے جاتے ہیں ۔ یہ شعبۂِ درس و تدریس سے ریٹائرمنٹ لے چکے ہیں مگر ابھی بھی سماجی ، مزہبی اور ادبی خدمات کے زریعے علاقے کے لوگوں کی بے لوث خدمت کر رہے ہیں ۔ ان کو بیک وقت 5 زبانوں پر عبور حاصل ہے۔ انھیں شینا بھی آتی ہے، اردو پر بھی دسترس حاصل ہے، انگریزی میں بھی مہارت رکھتے ہیں، کھوار زبان کے بھی ماہر ہیں جبکہ برشسکی ان کی مادری زبان ہے۔ یہ بیک وقت نثر نگار بھی ہیں جبکہ برشسکی زبان کے اعلیٰ پائے کے شاعر بھی۔ ان کی شاعری میں معاشرے کے وہ حقائق بیان ہوئے ہیں جنھیں ایک عظیم انسان اور ایک بہترین شاعر ہی سمجھ سکتا ہے ۔ اہم بات جو میں نے ان کی شاعری میں محسوس کی وہ موسیقیت ہے۔ مجھے برشسکی زبان (یا بولی) کا ایک لفظ بھی نہیں آتا اس کے باوجود بھی ان کی لکھی ہوئی نظموں میں موسیقیت بھری ہوئی ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ علاقے کی ادبی تنظیموں نے انھیں بلبلِ یاسین کا خطاب دیا۔ جی ہاں، ان کا نام بلبل مراد ہے اور خطاب بلبلِ یاسین۔ ان کا تعلق چترال کے شریف خاندان محمد بیگے سے سے ہے اور قومِ محمد بیگے چترال میں شاعری پر دسترس رکھنے کے حوالے سے مشہور ہیں ۔ ان کے آباؤاجداد نے چترال سے یاسین ہجرت کرنے کے بعد وہاں کی تہزیب و تمدن کے ساتھ ساتھ زبان کو بھی اپنایا۔ شاعری چونکہ ان کے خون میں شامل تھی اسی لئے ان کی نسل سے تعلق رکھنے والا بلبل مراد صاحب بلبلِ یاسین کہلائے۔

جہان تک بات ہے ان کی شاعری کی تو میں ادھی رات تک ان کی رہائش گاہ میں قیام کے دوران ان سے بروشسکی زبان میں شاعری سنتا رہا اور ساتھ ساتھ ترجمہ بھی کرواتا رہا۔ یقین مانئے، میرا دل زبان سے نا اشنا ہونے کے باوجود ان سے سننے کی تمنا کر رہا تھا ۔ ان کے کچھ برشسکی اشغار جن کا میں صرف ترجمہ اس لئے لکھ رہا ہوں کیونکہ ابھی تک اس قدیم زبان کے لئے باقاعدہ طور پر رسم الخط رائج نہیں کیا گیا تاہم وہاں کے ادبی حلقے اس حوالے سے کوشاں ہیں. بہرحال بلبل صاحب اپنے علاقے یاسین کی خوبصورتی کی منظر کشی ان الفاظ کے ساتھ کرتے ہیں ۔ ترجمہ ” میرے علاقے یاسین کا پانی شراب جیسا میٹھا ہے، پہاڑ میرے لئے کوہِ سنین جیسے ہیں جبکہ سرسبز و شاداب میدان علاقہ یارقند کے قالین سے خوبصورت ہیں، اے میرا یاسین! تو میرے لئے جنت جیسا ہے ” اس نظم میں علاقے سے محبت، وطن پرستی اور تعریف ِ وطن کے ساتھ ساتھ علاقے کی خوبصورتی کا بیاں بھی کمال الفاظ کے ساتھ کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ ریاست پاکستان کی تعریف میں لکھی ہوئی ان کی شاہکار نظم کا ایک شعر بھی قارئین کی نذر ہے جس میں بلبل صاحب نے حصولِ پاکستان کے لئے دی جانے والی قربانیوں کے ساتھ اس زمانے کے رہنماؤں کو بھی خراجِ تحسین کے کیا ہے ۔

ترجمہ ” سر سید احمد خان کے علم کا تحفہ پاکستان کی وجہ بنا، فرنگی کو حیران کردینے والا جملہ پاکستان کی وجہ بنا جبکہ سر سلطان محمد شاہ کا فرمان حصول پاکستان کی وجہ بنا، میرا پاکستان پوری دنیا کے مرکز میں گلستان کی طرح قائم و دائم ہے۔”

بروشسکی زبان میں اتنی عمدہ شاعری بنا رسم الخط کے کرنا کسی بڑے معجزے سے کم نہیں اور شاعری بھی ایسی کہ من سننے کا ہی کرے۔ مثلاً بلبل صاحب کی تخلیق کردہ نظم کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں جس میں انھوں نے یاسین کی ثقافت کی بقا کی استدعا خوبصورت الفاظ کے ساتھ کرتے ہیں۔ ترجمہ:

“میرے تعلیم یافتہ بھائیو! اپنی ثقافت کو مت بھولنا، علاقے کے رسومات اور اقدار کو مل کر اچھے انداز میں انجام دینے میں ہی ثقافت کی بقا ہے۔ ثقافت ختم ہوئی تو وطن کی الگ پہچان بھی ہم کھو بیٹھیں گے “۔ بلبلِ یاسین نظم، منقبت، نعت، مرثیہ، قصیدہ اور گیت تخلیق کرنے کے ساتھ ساتھ غزل کے بھی مقبول شعرا میں شمار ہوتے ہیں ۔

ان کی غزل کا ایک شعر جس کا ترجمہ پیشِ خدمت ہے:

ترجمہ ” کبھی کبھار آپ کو یاد کرتے کرتے رورو کر میری حالت غیر ہو جاتی ہے جبکہ اس تنگ دل انسان کو آپ کی جانب سے پیغام موصول ہونے پر حقیقی خوشی نصیب ہوتی ہے “۔

ان کی ایک اور بہترین نظم جس میں انھون نے بروشسکی زبان کی ترقی و ترویج اور بقا کے سلسلے میں زور دیا ہے بدقسمتی سے میرے ریکارڈ میں موجود نہیں البتہ اس نظم کو سننتے ہوئے میں ایسا محسوس کر رہا تھا جیسے کوئی گویا دل سے گیت گا رہا ہو۔ موسیقیت کی انتہا کے ساتھ اس نظم میں بروشسکی زبان تاریخ کو بھی خوبصورت الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ۔

میرا تعلق چونکہ چترال سے ہے اور ایک نئی زبان کے حوالے سے یہ میری پہلی مختصر تحقیق ہے۔ مگر یقین جانئے مجھے بروشسکی زبان سے کسی حد تک محبت ہونے لگی ہے اور اس محبت کی وجہ بلبل یاسین عالیجاہ بلبل مراد صاحب کی فصاحت و بلاغت اور فلسفے سے بھری شاعری ہے ۔ اس کے علاوہ میں ان کی شخصیت کا بھی فین بن گیا ہوں۔ نہایت ہی شفیق، محبت کرنے والے اور سیدھے سادھے انسان ہیں ۔ گگلت میں ہر کہیں ترقی ہے، نظم و ضبط ہے اور خوبصورتی ہے البتہ اس طرح کی زبانوں کی ترقی حکومتی سطح پر نظر نہیں آئی ۔ اسی لئے میں گلگت بلتستان حکومت سے التجا کرتا ہوں کہ زبانوں اور بولیوں کی ترقی کے لئے بلبل مراد جیسی شخصیات کی حوصلہ افزائی کرے۔ تاکہ پھر کوئی بلبلِ یاسین اپنے نعمات خود تک ہی محدود نہ رکھے۔ میں بلبل مراد صاحب کی شخصیت، انسان دوستی، ادبی، مزہبی اور سماجی خدمات کو پرکھنے کے بعد انھیں بلبلِ بلتستان کہتے ہوئے خود کو حق بجانب سمجھتا ہوں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔