تحریک بحالی بجلی گھر سب ڈویژن مستوج نے دو شرائط منظور نہ ہونے پر 29 جولائی سے شندور روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا

تحریک بحالی بجلی گھر سب ڈویژن مستوج نے دو شرائط منظور نہ ہونے پر 29 جولائی سے شندور روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا

34 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال(بشیر حسین آزاد)تحریک بحالی بجلی گھر سب ڈویژن مستوج کے صدر نادر خان اور دوسرے عہدیدار عبدالرب،سید سردار حسین شاہ،نبی خان،کریم علی محمد نادر اور ابو لائث خان رمداسی نے پیر کے روز چترال پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر صوبائی حکومت نے29جولائی تک ریشن بجلی گھر پر کام شروع نہ کرنے اور ڈیزل جنریٹرزسے علاقے کو بجلی کی فراہمی شروع نہیں کی تو سب ڈویژن مستوج کے عوام شندور جانے والی سڑک بند کرکے خواتین اور بچوں کے ساتھ دھرنا دینگے۔جسکی تمام تر زمہ داری صوبائی حکومت،چترال انتظامیہ اور منتخب نمائندگاہ پر ہوگی۔اُنہوں نے کہا کہ2015کے سیلاب سے 4.2میگاواٹ کے ریشن بجلی گھر کا پاؤر ہاؤس سیلاب سے متاثر ہوا۔جس کے بعد عوامی حلقوں اور تحریک نے بجلی گھر کی بحالی کے لئے دھرنے دئیے بھوک ہڑتال کی گئیں صوبائی حکومت سے بجلی گھر کی بحالی کے لئے بار بار درخواستیں کیں مگر صوبائی حکومت نے مختلف بہانوں سے سب ڈویژن مستوج کے عوام کو ٹرخاتے رہے اورتا ایندام بجلی گھر کی بحالی پر کام شروع نہ ہوسکا۔

اُنہوں نے کہا کہ کچھ دن قبل صوبائی وزیراعلیٰ نے پارٹی چیرمین کے ساتھ دروش لاوی کے مقام پر69میگاواٹ بجلی گھر کا کاغذی افتتاح کیا اُنہوں نے سوال کیا کہ اگر صوبائی حکومت کے پاس فنڈ موجود ہے تو ریشن پاؤر ہاؤس کے4.2میگاواٹ کے بجلی گھر جس سے22ہزار گھرانے مستفید ہوتے تھے کی30فیصد کام مکمل کیوں نہیں کیا جاتا۔اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ڈیزل جنریٹر لگانے کا فیصلہ کیا لیکن ایک جنریٹر گرین لشٹ کے مقام پر لاکر پڑی ہے اور اُسکے بعد مزید کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔اُنہوں نے کہا کہ تحریک بحالی بجلی گھر سب ڈویژن نے جنریٹر کی حفاظت کا زمہ لیا تھا لیکن ابھی محکمہ اپنی جنریٹر کی حفاظت کا خود بندوبست کریں،تحریک اس کے بعد جنریٹر کی حفاظت کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔اُنہوں نے کہا کہ پچھلے سالوں میں ہمارے بچے سکولوں میں فرسٹ پوزیشنز لیتے تھے لیکن ان دوسالوں میں بجلی کی عدم موجودگی میں ہمارے بچوں کے تعلیم پر منفی اثرات مرتب ہوگئے ہیں اور ایسی صورت حال میں ہم اپنے بچوں کو اگلے مہینے سکولوں میں جانے سے بھی روکے گے۔

اُنہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ سال جشن شندور کے موقع پر وزیراعلیٰ نے علاقے کو سولر سسٹم کی فراہمی سمیت بجلی گھر کی بحالی کا اعلان کیا تھا جو کہ ابھی تک پورا نہیں ہوا۔اُنہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ہمارے جائز مطالبے کو منظور نہیں کیا تو ہم آخری حدتک جائینگے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔