ٹُلی کی پہلی سیر

ٹُلی کی پہلی سیر

43 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ایک جنگل میں ایک چوہیا رہتی تھی۔ اس کا ایک بچہ تھا۔ اس کا نام ٹُلی تھا۔ ٹُلی کی عمر سات ماہ تھی۔ وہ ہر وقت ادھر اُدھر پھدکتا رہتا مگر ہمیشہ اپنی ماں کے ساتھ ہی رہتا۔ ایک دن ٹُلی کو خیال آیا کہ اسے جنگل کی سیر کرنی چاہیے۔ اس نے اپنی ماں سے کہا:

’’ماں اب میں بڑا ہو گیا ہوں۔ میں جنگل کی سیر کے لیے جانا چاہتا ہوں۔۔۔ اگر تم اجازت دو تو میں ایک چکر لگا آؤں۔۔۔‘‘

ماں ٹُلی کی بات سن کر کچھ ڈری۔ مگر سوچنے لگی کہ آخر تو کسی نہ کسی دن ٹُلی کو اکیلے رہنا ہی ہو گا۔ ٹُلی نے ماں کو اس طرح سوچتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگا:

’’ماں تم فکر نہ کرو۔ تمہیں پتہ ہے میں بہت تیز دوڑ سکتا ہوں۔ اگر بلی نظر آگئی تو میں فوراً بھاگ کر دور چلا جاؤں گا۔ بلی مجھے نہیں پکڑ پائے گی۔ میں اِدھر گیا اور اُدھر واپس چلا آؤں گا۔۔۔‘‘

ماں نے اجازت دیتے ہوئے، اپنا سر ہلایا۔ ٹُلی ایک دم خوش ہو گیا اور ماں کی نظروں کے سامنے جنگل میں غائب ہو گیا۔ اس کے چلے جانے کے بعد ماں کو فکر ہوئی۔ وہ سوچنے لگی:

’’ٹُلی، ابھی بچہ ہی تو ہے۔ اسے جنگل کے بارے میں کیا معلوم۔۔۔؟ اچھا ہوتا کہ میں اس کے ساتھ چلی جاتی۔ اگر اسے کچھ ہو گیا تو میں تو برباد ہو جاؤں گی۔۔۔‘‘

کافی دیر انہی خیالوں میں گم، وہ اپنی بل کے باہر ایک درخت پر چڑھ بیٹھی۔ وہ دور دور تک اپنی نظریں گھماتی رہی کہ شاید اسے ٹُلی نظر آجائے۔

کچھ دیر کے بعد ، اسے پتوں میں سرسراہٹ سی سنائی دی۔ اس نے سوچا ، ہو نہ ہو، یہ اس کا ٹُلی ہی ہے جو گھر چلا آرہا ہے۔ وہ خوشی سے، درخت سے اتری اور بل کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ ٹُلی اس کے پاس آیا۔ وہ بہت خوش تھا۔ کہنے لگا:

’’ماں تم خواہ مخواہ ڈر رہی تھی۔۔۔دیکھو، میں صحیح سلامت گھر چلا آیا۔۔۔‘‘

’’ٹھیک ہے ، مگر تم نے جنگل میں کیا کچھ دیکھا۔۔۔ مجھے بتاؤ، تمہیں، تمہاری پہلی سیر کیسی لگی۔۔۔؟‘‘

’’ماں، میں نے بہت سے جانور دیکھے۔ ایک جانور تو مجھے بہت اچھا لگا۔ وہ بہت آہستہ آہستہ چلتا تھا۔ اس کے پاؤں ذرا بھی شور نہ کرتے تھے۔ اس کا لباس ریشم کے بالوں جیسا تھا، نرم۔ اس پر بھورے اور سیاہ رنگ کے دھبے تھے۔ اس کی تمہاری طرح کی مونچھیں بھی تھیں۔ اس کا منہ، بالکل پھندے کی طرح تھا۔ ا س کے سر کے اوپر کچھ تھا جو اوپر کو نکلا ہوا تھا۔ یہ دوتھے۔ جب وہ چلتا تھا تو وہ اِدھر اُدھر ہلتے رہتے تھے۔ مجھے تو وہ اس قدر اچھا لگا کہ میں اسے اپنے گھر دعوت پر بلانے والا تھا۔۔۔‘‘

ٹلی کی ماں، اپنے بچے کی بات سن رہی تھی اور سخت پریشان ہوتی جا رہی تھی۔ ٹُلی نے اپنی بات جاری رکھی:

’’ماں، وہ کس قدر شان سے چلتا تھا۔ اس کے پاؤں میں ناخن تھے مگر وہ نظر نہ آتے تھے۔ اس نے اپنے جسم کو لمبا کیا اور آواز نکالی۔ اسی وقت ایک اور جانور اس کی طرف لپکا اور وہ ڈر کر درخت پر چڑھ گیا۔ ماں تم اسے مل کر بہت خوش ہو گی۔ اگر وہ آئندہ ، مجھے مل گیا تو میں اسے ضرور، تم سے ملوانے کے لیے لاؤں گا۔۔۔‘‘

ٹُلی نے اپنی بات ختم کی۔ اس کی ماں، اس کی طرف لپکی اور اسے اپنی گود میں لے لیا۔ وہ کہنے لگی:

’’اب میں تمہیں اس وقت تک باہر نہیں جانے دوں گی جب تک تم جنگل کے بارے میں بہت کچھ نہیں جان جاتے۔۔۔ بے وقوف تم جس جانور کی بات کر رہے ہو، وہ اور نہیں بلی تھی۔ اگر اس وقت وہ دوسرا جانور ،یعنی کتا نہ آتا تو اس نے کب کا تمہیں ختم کر دیا ہوتا۔۔۔ تم اسے گھر لانے کی بات کر رہے ہو۔۔۔ اس نے تمہیں ہی نہیں، مجھے بھی کھا جانا تھا۔۔۔ میں نے تمہیں اس لیے جنگل کی سیر کی اجازت دے دی تھی کہ کم از کم تم بلی کے بارے میں تو جانتے ہوگے۔۔۔ مگر تم تو۔۔۔‘‘

ٹُلی کی ماں نے ٹُلی کو سمجھایا اور اسے پیار کیا۔ وہ خوش تھی کہ اس کا لاڈلا، بلی کے پنجوں سے بچ گیا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔