ایک گھوڑے کی کہانی  ( حصہ دوم)

عظیم مصنف ٹالسٹائی کی ایک کہانی سے ماخوذ

تحریر: سبطِ حسن

سورج نے اپنا چہرہ جنگل کے اوپر سے نکالا اور اس کی تیز کرنوں سے بل کھاتا ہوا دریا اور گھاس چمک اٹھے۔ رات کو گرا پالا، پگھل کر پانی کے قطروں میں تبدیل ہو گیا اور گھاس کے اوپر چمکنے لگا۔ دریا پر پھیلی دھند، اڑتے بادلوں کی طرح ایک دم غائب ہو گئی۔ آسمان پر چھوٹی چھوٹی بدلیاں تیر رہی تھیں۔ ہوا بہت آہستہ آہستہ چل رہی تھی اور اس کی خنکی چہرے پر تازگی کا احساس جگا رہی تھی۔ دریا کے اس پار مکئی کے کھیت تھے اور مکئی کی بالیاں ہوا میں دھیرے دھیرے ہل رہی تھیں۔ بالیوں سے نکلنے والی خوشبو، اس طرف سے آتی ہوا کے ساتھ گھوڑوں کی طر ف آتی تو اس میں دریا کی نمی بھی شامل ہو جاتی۔ چراگاہ کی حد کے ساتھ ساتھ جنگل تھا اور یہ بہت گھنا تھا۔ اونچے درختوں نے آسمان کی طرف، آپس میں مل کر ایک سائبان بنا دیا تھا۔ اسی سائبان میں سے روشنی کی تیز کرنیں چھن چھن کر جنگل کی زمین پر پڑرہیں تھیں۔ان کرنوں سے زمین پر دھبوں پر مشتمل ڈیزائن بن گئے تھے۔دوسری جانب یہ کرنیں لاتعداد پتنگوں اور تتلیوں کی نشاندہی کر رہی تھیں۔ جنگل میں مختلف درختوں پر کوئلیں پھدکتیں اور آپس میں نغموں کی صورت بات چیت کر رہی تھیں۔ ایک کوئل اس بات چیت میں شامل نہ تھی اور اکیلی ایک طرف بیٹھی اداس سی ہوک دے رہی تھی۔ جنگل میں گہرا سایہ تھا اور کوئلوں کے نظر نہ آنے کی و جہ سے ان کی آوازیں پراسرار سی معلوم ہو رہی تھیں۔ کوئلوں کی نمایاں آوازیں اور دیگر پرندوں کی آوازوں نے آپس میں مل کر ایک خوبصورت سا نغمہ پیدا کر دیا تھا۔ پرندے اوپر درختوں کی شاخوں پر پھدک رہے تھے۔ ایسے معلوم ہوتا تھا کہ جیسے پورا جنگل ہی گیت گانے میں محو ہو گیا ہو۔

دریا کے اس پار مکئی کے کھیتوں میں پرندوں کے جھنڈ اڑتے نظر آرہے تھے ۔ یہ شور مچاتے اچانک مکئی کے کھیت میں گم ہو جاتے۔ کسان کی ’’ہوہا‘‘ سے پرندے اپنے پر پھرپھڑاتے پھر نمودار ہوتے اور دریا کے اوپر چکر لگا کر مکئی کے کھیت پر پھر ہلہ بول دیتے۔ ایک خرگوش، جس کو شاید ابھی تک صبح ہونے کا اندازہ نہیں تھا، پریشان سا، گھوڑوں کے بیچ کھڑا تھا۔ وہ ایک جھاڑی سے نکلا اور اگلے پاؤں اٹھائے، نتھنوں کو بسورتے ، کانوں کو اِدھر اُدھر موڑ کر صورتحال کا جائزہ لے رہا تھا۔ وہ دراصل جنگل میں جانا چاہتا تھا۔ وہ پھرتی سے دوڑا اور کچھ فاصلے پر ایک اور جھاڑی میں جا چھپا۔ شاید اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اسی طرح جھاڑیوں میں چھپتا چھپاتا جنگل تک پہنچے گا۔

جنگل اور دریا کے درمیان کھلی جگہ میں گھوڑے پھیلے ہوئے تھے۔ جو گھوڑیاں بچوں سے تھیں، وہ دوسروں سے الگ تھلگ، دریا کے ساتھ ریتلے رستے پر چلتی ،کسی پُرسکون جگہ کی تلاش میں تھیں۔ وہ گھاس کھانے کی بجائے سکون کی زیادہ خواہشمند تھیں۔ گھوڑوں کا ریوڑ بظاہر دریا کے ساتھ ایک ہی جگہ پر چر رہا تھا اور گھوڑوں میں ایسی کوئی حرکت بھی نظر نہ آرہی تھی۔ مگر سچ یہ تھا کہ پورا ریوڑ آہستہ آہستہ آگے، جنگل کی طرف سرکتا جا رہا تھا۔

نوجوان بچھڑوں میں راجا سب سے بڑا تھا۔ اس کا مزاج نہایت شرارتی اور کھلنڈرا تھا۔ وہ کلیل کرتا، بڑی تیزی سے بھاگتا ہوا، سب سے آگے نکل جاتا۔ پھر اچانک رُک کر اپنے ساتھی بچھڑوں کو دیکھتا۔۔۔ وہ دراصل ان کو اپنے پیچھے آنے پر اکساتا تھا۔ رانی، بھی جوان تھی اور ابھی چند دن پہلے ماں بنی تھی۔ اسے بس اپنے بچھیرے کی فکر تھی۔ وہ دم اٹھائے، اسی کے ارد گرد گھوم رہی تھی تاکہ کوئی اس کے بچے کے قریب نہ آئے۔ ہر چکر کے ساتھ وہ اپنے بچھیرے کو چاٹتی، دودھ پلاتی اور اپنی تھوتھنی سے پیار کرتی۔ ننھارستم، گھاس پر کھیل رہا تھا۔ وہ گھاس پر اپنا منہ اس قدر جھکا لیتا کہ اس کی آنکھیں ، ماتھا اور منہ اس کے ماتھے کے لمبے گھنے بالوں میں چھپ جاتے۔ اچانک منہ اوپر اٹھاتا اور کدکڑے لگاتا ایک طرف بھاگنا شروع کر دیتا۔ وہ بھاگنا بند کرتا اور گھاس پر لوٹنا شروع کر دیتا۔ اس کا سارا بدن گھاس پر پڑی اوس سے بھیگ چکا تھا۔

ایک بچھیرا جس کی عمر چند مہینوں سے زیادہ نہ تھی، عجب تماشا کرنے میں مصروف تھا۔ اس نے اپنے ماتھے کے بال کھڑے کیے ہوئے تھے۔ وہ گردن اکڑائے ، بڑے نخرے سے بھاگتا ہوا اپنی ماں کے پاس جاتا، دودھ پینے کے لیے تھنوں پر منہ مارتا۔ ماں ہولے سے اس کی طرف گردن کر کے منہ ہلاتی اور یہ پھر بھاگنا شروع کر دیتا۔ اس کے ارد گرد سارے گھوڑے بڑے انہماک سے گھاس چر رہے تھے، اسی لیے اس کی بھاگ دوڑ، خاصی نمایاں لگ رہی تھی۔ اس کی ماں بظاہر اس کی حرکتوں سے لاپرواہ اپنا منہ گھاس پر ٹکائے، گھاس کھا رہی تھی مگر وہ اس کی حرکتوں پر نگاہ رکھے ہوئے تھی۔ وہ اپنے لاڈلے کی حرکتوں پر دِل ہی دِل میں خوش بھی تھی۔

ایک بچھیرا ، بہت ہی چھوٹا، شاید اس کی پیدائش ایک آدھ دن پہلے ہوئی تھی، گھوڑوں کے درمیان چپ چاپ کوئی حرکت کیے بغیر کھڑا تھا۔ اس کا رنگ سیاہ تھا۔ بہت بڑا سر اور دونوں کانوں کے درمیان بال کھڑے تھے۔ شاید حیرت سے اس کے بال کھڑے ہو گئے تھے۔ اس کی دم ٹانگوں کے ساتھ چپکی ہوئی تھی۔ اس کے کان اِدھر اُدھر حرکت کر رہے تھے مگر اس کی آنکھیں، خالی خالی نظروں سے ارد گرد دیکھ رہی تھیں۔ وہ ہر چیز کو ایسے دیکھ رہا تھا جیسے یہ سب خواب سا ہو، اسے کسی چیز میں کوئی دلچسپی نہ ہو۔ اس نے اپنی آنکھیں بھاگتے ہوئے بچھڑے پر لگا رکھی تھیں۔ اس کو بچھڑے کی اچھل کود اچھی لگ رہی تھی یا یہ کہ وہ اسے محض چھچھورا پن سمجھ رہا تھا۔ وہ کیا سوچ رہا تھا، اس کا کچھ بھی اندازہ کرنا مشکل تھا۔

کچھ بچھیرے اپنی ماؤں کا دودھ پینے میں مصروف تھے اور کچھ ماؤں کے بلانے کے باوجود اِدھر اُدھر مستی کر رہے تھے۔ جیسے وہ کسی اہم چیز کی تلاش کر رہے ہوں۔ یہ بچھیرے اچانک اپنی مستیوں کو ترک کر دیتے اور اِدھر اُدھر دیکھنے لگتے۔۔۔ اس کی بظاہر کوئی وجہ سمجھ میں نہ آتی۔ ممکن ہے کہ ان کے دماغ میں کوئی اہم خیال آجاتا ہو اور وہ اس پر غور کر نے کے لیے رُک جاتے ہوں۔

کچھ بچھیرے گھاس پر لیٹے ہوئے تھے اور گھاس پر بڑی غیر سنجیدگی سے منہ ماررہے تھے۔ وہ دراصل گھاس کھانے کا طریقہ سیکھ رہے تھے۔ کچھ اپنے سر کے پچھلے حصے کو دھیرے دھیرے زمین پر پڑے پتھر سے رگڑ رہے تھے۔ کچھ گردن کو پوری طرح موڑے اپنی پچھلی ٹانگوں پر منہ سے کھجلی کر رہے تھے۔ ان پر اگر اچانک نظر پڑ جائے تو لگتا تھا کہ جیسے یہ گھوڑے نہ ہو بلکہ کوئی اور ہی مخلوق ہوں۔ دو گھوڑیاں، جو بچے سے تھیں، بڑی آہستگی اور اطمینان کے ساتھ گھاس کھا رہی تھیں۔ دوسرے تمام گھوڑے، جن میں شرارتی اور الہڑبچھیرے بھی شامل تھے، ان گھوڑیوں کا احترام کر رہے تھے اور ان کے قریب آنے کی جرأت بھی نہ کر سکتے تھے۔ ایسے شیطانوں کو دور رکھنے کے لیے گھوڑیوں کے کان یا دم ہلانے کا اشارہ ہی کافی تھا۔

جوانی میں قدم رکھنے والے بچھیرے اپنی حرکتوں میں بالکل بڑے گھوڑوں جیسے تھے۔ وہ چھوٹے بچھیروں کی طرح کلیل کر رہے تھے اور نہ ہی اِدھر اُدھر لپک جھپک رہے تھے۔ وہ بڑی توجہ سے اپنی لمبی لمبی گردنیں جھکائے، گھاس کھائے جا رہے تھے۔ ان میں سے کچھ گھاس کھانے کے بعد زمین پر لوٹنیاں لینے لگتے یا پھر ایک دوسرے کے ساتھ جسم رگڑنے میں مصروف ہو جاتے۔

ایک گروہ میں دو، تین سال کے بچھیرے تھے۔ یہ بدمعاشوں کا ٹولہ تھا اور یہ ہر وقت کسی نہ کسی شرارت یا اُلٹے کام میں مصروف رہتے تھے۔ یہ سب مل کر اپنی کارستانیاں انجام دیتے تھے۔ ان میں ہر بچھیرا، دوسرے سے زیادہ چلبلا اور شرارتی تھا۔ یہ سب دوسرے ریوڑ سے الگ تھلگ رہتے تھے۔ جس طرف ہنہنانے ، سم مارنے، کلیل کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ دھینگا مشتی کا غلغلہ برپا ہو، تو سمجھ لیجیے کہ شیطانوں کا ٹولہ ادھر اپنی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ سب ایک دوسرے میں گتھے ہوئے، اپنے منہ ایک دوسرے کی گردنوں میں ٹکائے، ایک دوسرے کو سونگتے، دانت مارتے۔۔۔ اچانک ایک طرف بھاگنا شروع کر دیتے۔ کبھی دُلمی چال اور کبھی ایسے کہ ان کے پیچھے شیر لگ گیا ہو، تیز ترین رفتار میں ایک طرف بھاگنا شروع کر دیتے۔ ایسے میں وہ اپنی دُمیں ہوا میں لہراتے، گردنیں اٹھا کر بڑی شان سے اپنے ہونے کا اعلان کرتے۔ ان شرارتی بچھیروں میں ایک کا نام البیلا تھا۔۔۔ ہر شرارت میں سب سے آگے ۔ بلکہ نت نئی شرارت سوچنا اور اسے شروع کرنا،اسی کا کام تھا۔ سب اسی کی پیروی کرتے۔ اگر سب بچھیرے ایک دوسرے کے ساتھ گردنیں ٹکائے، ایک دوسرے کے ساتھ دھکم پیل کر رہے ہوتے تو البیلا ، اچانک کلیل کرتا ایک طرف بھاگنا شروع کر دیتا۔ چند میٹر کے فاصلے پر رک جاتا، مڑ کر دیکھتا کہ باقی بچھیرے اس کے پیچھے آرہے ہیں یا نہیں۔ سب اس کے پیچھے بھاگنا شروع کر دیتے۔ وہ پھر چڑانے کے لیے ایک دم رُک جاتا اور گھاس پر منہ مارنے لگتا۔۔۔ جیسے سب خواہ مخواہ ہی اس کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ آج صبح سے ہی البیلا کچھ زیادہ ہی چلبلاہٹ دکھا رہا تھا۔۔۔ بالکل انسانوں کی طرح جیسے کسی دِن آپ کی طبیعت میں خوشی ہوتی ہے اور اس کی بظاہر کوئی وجہ نہیں ہوتی، اور کسی دِن آپ کے دل میں ایک انجانا سا بوجھ ہوتا ہے۔۔۔ اور اس کی بظاہر کوئی وجہ نہیں سوجھتی۔۔۔

البیلاآج صبح سے ہی روشن کو تنگ کر رہا تھا۔ جب روشن ناراضگی میں اس پر پھنکارا تو یہ دریا کی طرف بھاگ گیا۔ دریا کے اندر کنارے کے ساتھ ساتھ کدکڑے مارنے لگا۔ اچانک اس نے چیخ ماری، جیسے وہ سخت مصیبت میں ہو۔۔۔ وہ بس شرارت کررہا تھا۔ دریا سے نکلا تو کچھ دیر اطمینان سے گھاس چرتا رہا۔ جب پیٹ بھر گیا تو گھاس پر لوٹنیاں لینے لگا۔ پھر بوڑھی گھوڑیوں کی طرف آگیا اور انھیں تنگ کرنے لگا۔ وہ ان کو دھکے مارتا اور کاٹنے کو دوڑتا۔ ایک گھوڑی نے آخر اسے سبق سکھانے کے لیے دھکا دیا۔ کاٹنے کے لیے اس کی گردن کو پکڑنا چاہا۔ جب گھوڑی، البیلے کے پیچھے بھاگ رہی تھی تو اس کا بچہ بھی اس کے پیچھے بھاگا۔ گھوڑی کوجب معلوم ہوا کہ اس کا بچہ اس کے پیچھے بھاگنے کی کوشش کر رہا ہے تو وہ فوراً رک گئی۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں البیلا، اسے گرا نہ دے۔ اسی دوران البیلا دُور جنگل کی طرف بھاگ گیا۔ گھوڑی واپس آئی اور اس نے ممتا بھرے انداز میں اپنے بچھیرے کو بلایا۔ بچے نے بڑی شان سے اپنی گردن کے بالوں کو اچھالا اور دم ہلائی۔ ماں نے اپنے بچے کو اس طرح بلایا، جیسے کہہ رہی ہو۔۔۔ ’’آجا، میرے لال ، تیرے صدقے، میں تیرے واری۔۔۔‘‘

دریا، اصطبل کے دائیں طرف بہتا تھا۔ اصطبل سے نکلیں تو دریا آپ کی دائیں طرف ایک نیم دائرے کی صورت جنگل میں گم ہوتا نظر آتا تھا۔دریا جس جگہ پر جنگل میں داخل ہوتا، وہاں سرکنڈے ہی سرکنڈے اُگے ہوئے تھے۔ یہ بہت بلند تھے اور ان پر نکلی ہوئی سنہری بالیاں، سورج کی روشنی میں چمک رہی تھیں۔ بالیوں پر لاتعداد چھوٹی چھوٹی چڑیاں چہچہارہی تھیں۔ ان کی چہچہاہٹ سے ایک پیہم نغمہ پیدا ہو رہا تھا۔ اس نغمے میں سے کسی ایک چڑیا کی آواز الگ کرنا ممکن نہ تھا۔ سرکنڈوں کے آگے دور دور تک طرح طرح کے رنگ برنگے پھول کھلے تھے۔ جب ہوا، ان کے اوپر سے گزر کر آتی تو فضا میں دھیمی دھیمی خوشبو پھیل جاتی۔ البیلا خوشبودار جھونکے کے ساتھ اور مچلتا۔۔۔ اس کا دل چاہتا کہ ہر کوئی اسے دیکھے کہ وہ کس قدر خوبصورت ، توانا اور البیلا ہے۔

دریا کے اس پار ایک کسان کھیتوں میں ہل چلارہا تھا۔اس نے ہل کے آگے گھوڑے کو جوت رکھا تھا۔ ہل چلاتے ہوئے، گھوڑا مسلسل، اس پار گھوڑوں کو دیکھتا۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ گھوڑوں کے ساتھ مل کر مستیاں کر ے۔ جب وہ یہ سوچتا تو وہ ہل کی لکیروں سے بھٹک جاتا۔ کسان اسے غصے میں کھینچتا یا چھڑی سے مارتا۔ دریا کے اس پار گھوڑوں کے ہنہنانے اور مستیاں کرنے کی آوازیں آتیں تو یہ گھوڑا اپنے کان اس طرف پھیر لیتا۔ وہ ان کے جواب میں بڑی اُداسی سے ہنہناتا۔ البیلا اسی کو چھیڑنے کے لیے دریا میں کودتا اور سرپٹ بھاگنا شروع کر دیتا۔ البیلا دراصل اسے چڑا رہا تھا کہ بچوو، کیسے پھنسے ہو، ہم تو آزاد ہیں اور جو چاہے کر سکتے ہیں اور تم ہل کھینچنے میں پھنسے ہو۔۔۔۔

4

البیلا اِدھر اُدھر شرارتیں کرنے کے بعد، روشن کے پاس ضرور آتا اور اسے کسی نہ کسی طور ضرور تنگ کرتا۔ روشن ، اس کی ان حرکتوں کو خاطر میں نہ لاتا اور اس کی کوشش ہوتی کہ وہ اس جگہ سے ہٹ جائے۔ آخر برداشت کی بھی حد ہوتی ہے، وہ جواب میں پھنکارتا، دولتی مارنے کی بھی دھمکی دیتا۔۔۔ اس کی پھر بھی یہی خواہش ہوتی کہ وہ البیلے کی کسی قسم کا کوئی نقصان نہ پہنچائے۔ روشن، انسانوں کے رویے سے اتنا دکھی نہ تھا جتنا البیلا اور اس کے ساتھیوں سے۔۔۔

روشن بوڑھا تھا اور البیلا اور اس کے ساتھی جوان۔ وہ کمزور تھا اور وہ توانا، وہ مصیبتوں کا مارا اور وہ چلبلے اور بے فکرے۔۔۔ روشن اور ان بدمعاشوں کی دنیا ایک دوسرے سے بالکل الگ تھلگ تھی۔ روشن کی دنیا میں تنہائی اور اجنبیت تھی۔ البیلا اور اس کے ساتھی بچھیروں کی دنیا، زندگی کی قوّت سے لبریز اور حرکت ہی حرکت تھی۔ اور پھر گھوڑوں کی دنیا میں خودغرضی کچھ زیادہ ہی ہوتی ہے۔ وہ اپنا تو خیال رکھ سکتے ہیں مگر اپنی نسل میں جوان کا ساتھ نہ دے سکتا ہو، اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔۔۔ اس لحاظ سے روشن جوسزا بھگت رہا تھا، اس کا کوئی بھی ذمے دار نہ تھا۔۔۔ کیونکہ وہ بدصورت تھا، کمزور تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ بوڑھا تھا۔

گھوڑوں نے انسانوں سے بھی یہی سیکھاہے کہ جب تک ان کے ایک ایک پٹھے میں طاقت اور جوش ہے، وہ قابل توجہ ہیں اور ان کی خاطر بھی ہو گی۔ جو کمزور ہے یا بوڑھا ہے،اس کی انسانوں کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں اور نہ ہی اس سے کوئی ہمدردی۔۔۔ البیلا اور اس کے ساتھیوں کو معلوم تھا کہ ان کی آنے والی زندگی سرگرمیوں سے بھرپور ہوگی۔۔۔ انسان کے لیے وہ کارآمد ہوں گے۔۔۔ یہی بات ان میں گھمنڈ پیدا کرتی اور وہ اپنی دم کو اپنی گردن کے ہمراہ فضا میں بلند کر کے اتراتے پھرتے تھے۔ روشن کو اپنی کمزوری اور بڑھاپے کا اندازہ تھا۔ اسے معلوم تھا کہ آئندہ زندگی میں اس کے پاس مرنے کے سوا کچھ بھی نہیں بچا۔ اسے معلوم تھا کہ اس کا وقت گزر چکا ہے۔ وہ یہ سب باتیں سمجھتا تھا مگر اس کا دل کبھی کبھار انھیں ماننے سے انکاری ہو جاتا۔ اسے اپنے آپ پر رحم سا آنے لگتا۔ وہ سوچتا کہ وہ گھوڑوں کی نسل سے ہی ہے۔۔۔ البیلا اور اس کے ساتھی اس کے اپنے ہیں مگر وہ اسے اس طرح ستاتے ہیں جیسے وہ ان کا کچھ نہ لگتا ہو۔ انھیں اس کی کچھ تو عزت کرنی چاہیے۔ یہ سب کچھ سوچ کر وہ اُداس ہو جاتا۔ گھوڑوں میں ایک اور عجیب سی بات تھی اور یہ بات بھی انھوں نے انسانوں کے ساتھ رہنے سے سیکھی تھی۔۔۔ وہ بات تھی اپنے ماں باپ اور بزرگوں پر اترانا۔۔۔ ریوڑ میں موجود تمام گھوڑوں کو اپنی نسل کے بارے میں معلوم ہونا ضروری سمجھا جاتا تھا۔ اگر کوئی روشن سے اس کی اپنی نسل کے بارے میں پوچھتا تو وہ چپ رہتا۔ سب کو معلوم تھا کہ روشن کو تین برس پہلے گھوڑوں کے میلے سے خریدا گیا تھا اور اس کی قیمت بھی نہ ہونے کے برابر ادا کی گئی تھی۔

البیلا مسلسل شرارتیں کر رہا تھا۔ وہ دوڑتا ہوا، روشن کے پاس سے گزرتا اور اسے ہلکی پھلکی ٹھوکر لگا دیتا۔ روشن اس وقت اپنا منہ زمین پر ٹکائے، سستا رہا تھا۔ روشن کو البیلے کی حرکتوں کا بخوبی اندازہ تھا مگر وہ اسے منہ نہیں لگانا چاہتا تھا۔ وہ کسی قسم کا تأثر ظاہر کیے بغیر ،خاموش لیٹا رہا۔ اس نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی تھیں۔ جب اسے البیلا اور اس کے ساتھیوں کے دوڑنے کی آواز آتی تو وہ دھیرے سے آنکھ کھول کر انھیں دیکھتا اور پھر آنکھیں بند کر لیتا۔ اس دوران اس کے کان اِدھر اُدھر گھومتے اور پھر پُرسکون ہوجاتے۔ البیلا، روشن کو تنگ کرتا جا رہا تھا۔ وہ دوڑتا ہوا روشن کے پاس سے گزرا اور روشن کو دولتی مارنے کے درپے ہوا۔ روشن اس کی حرکت کو سمجھ گیا اور ایک طرف ہٹ گیا۔ اب وہ البیلے کی حرکتوں سے تنگ آچکا تھا مگر وہ اس سے الجھنے سے گریز کر رہا تھا۔ اسے پتہ تھا کہ اچکوں کا یہ ٹولہ دراصل یہی چاہتا ہے کہ وہ اس سے الجھیں اور پھر ایک تماشا کھڑا ہو جائے۔ وہ اٹھا اور دریا کی جانب چلنے لگا۔ وہ اِدھر اُدھر گھاس کے تنکوں کو منہ میں اٹھاتا اور بے دِلی سے ان کو چبا کر پھینک دیتا۔ البیلا اور اس کا شرارتی ٹولہ بدستور روشن کے پیچھے لگا ہوا تھا۔ وہ اس کے ارد گرد چکر لگا رہے تھے۔ وہ اس کے قریب سے اس طرح تیزی سے گزر جاتے جیسے وہ کسی ضروری کام سے کہیں جارہے ہوں۔ مگر روشن کے قریب آتے ہی اسے اپنے منہ سے یا پیٹ رگڑ کر دھکادے دیتے۔ ان کے چہروں سے بالکل بھی محسوس نہ ہوتا کہ وہ کوئی شرارتی کررہے ہیں۔ روشن ان کی یہ حرکتیں دیکھ کر بس دم سادھے، ایک طرف کھڑا رہتا۔ اس سے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ وہ ان بدمعاشوں کی حرکت پر ناراض ہو یا محض ہنس کر ٹال دے۔

البیلا تو ایسا خبیث تھا کہ اس نے روشن کے قریب کھڑے ایک بچھڑے کو ایسی ٹکر ماری کہ وہ روشن سے جا ٹکرایا۔ وہ روشن کی کمزور پسلیوں سے ٹکرایا اور روشن کو سخت تکلیف محسوس ہوئی۔ اسے چکر سا آیا مگر سنبھل کر کھڑا رہا۔ اب حد ہوگئی تھی۔ روشن نے اپنے دانت دکھائے اور بچھیرے کو کاٹنے کے لیے اس کے پیچھے بھاگا۔ بچھیرے کو اس کی توقع نہ تھی۔ اسے اس وقت پتہ چلا جب روشن نے اس کی دم کے اوپر والے حصے کو کاٹ کھایا۔ بچھیرے نے کس کر دولتی ماری اور یہ روشن کی گردن کے نیچے چھاتی پر لگی۔ روشن غصے سے پھنکارا اور بچھیرے کو پکڑنے کے لیے دوڑنے ہی والا تھا کہ اس نے ٹھنڈی سانس لی اور دوڑ نا ترک کر دیا۔ وہ ایک طرف بچھیروں سے دور چلنے لگا۔ وہ دریا کے کنارے کے ساتھ اگی لمبی لمبی گھاس چرنے لگا۔

البیلا اور اس کے ساتھی، روشن کو کاٹنے کا مزا چکھانا چاہتے تھے۔ وہ بار بار روشن کی طرف لپکتے اور اسے دھکے مارنے لگے۔ عالم دور بیٹھا یہ سب دیکھ رہا تھا۔ اس نے کچھ دیر تو انتظار کیا اور آخر اسے مداخلت کرنا پڑی۔ اس نے دور سے ہونکا دیا مگر ان بدمعاشوں پر کوئی اثر نہ ہوا۔ عالم پریشان ہو گیا۔ اسے روشن پر ترس سا آگیا۔ اس نے روشن کو اپنی طرف آنے کا کہا۔ روشن نے سُکھ کا سانس لیا اور عالم کے پاس چلا آیا۔

شام ہونے کو تھی۔ اب گھوڑوں کے اصطبل واپس آنے کا وقت تھا۔ عالم نے روشن پر کاٹھی کسی، اس پر سوار ہوا اور اصطبل کی طرف چلنے لگا۔ سارا رستہ، روشن سوچوں میں ڈوبا جوان بچھیروں کی حرکتوں پر کڑھتا رہا۔ اصطبل تک پہنچتے، اس کے دل پر بوجھ کم ہو گیا اور اس نے اپنی برداشت کی عادت کی وجہ سے بچھیروں کی حرکتوں کو بھلا دیا۔

اس شام جب عالم گھوڑوں کو اصطبل کی طرف لا رہا تھا تو اس نے بستی میں اپنے گھر کے سامنے ایک گھوڑا گاڑی کو کھڑے دیکھا۔ اس کے کچھ دوست اس سے ملنے کے لیے آئے تھے۔ عالم جلدی جلدی اصطبل تک آیا۔ اس نے نذیر کو روشن کی کاٹھی وغیرہ اتارنے کا کہا اور خود گھر چلا گیا۔

رات ہوگئی۔ یہ رات روشن پر بڑی بھاری تھی۔ اس رات ایک بڑا ہی غیر معمولی واقعہ ہوا۔ اصطبل میں موجود تمام گھوڑے ، جو ا پنی نسل پر گھمنڈ کرتے تھے، روشن کے پیچھے پڑ گئے۔ وہ ساری رات روشن کو مارتے رہے۔ ہر کوئی اس کے پاس آتا اور اسے دھکا دے دیتا۔۔۔ اس دردناک کھیل میں بوڑھے، جوان، نر اور مادہ سب گھوڑے شامل تھے۔ وہ روشن کو ایک ’’اعلیٰ نسل‘‘ کے گھوڑے کو دانت مارنے کی سزا دے رہے تھے۔ روشن اصطبل کے بیچ، بے بس کھڑا، سب کچھ سہتا رہا۔ وہ بوڑھا تھا اور کمزور بھی۔ وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اس کے کان گرے ہوئے تھے۔ وہ سخت اذیت میں تھا اور بے عزتی محسوس کررہا تھا۔ یہ کھیل کافی دیر چلتا رہا۔ آخر اصطبل میں سب سے بزرگ گھوڑی، رانی آگے بڑھی۔ اس نے روشن کو آکر سونگھا اور ٹھنڈی سانس بھری۔ وہ روشن کے سامنے اس طرح کھڑی ہوگئی جیسے وہ اس کی حفاظت کررہی ہو۔ اس نے اپنی گردن اوپر اٹھائی، دم کو زور زور سے اِدھر اُدھر جھٹکاا ور گھوڑوں پر ایک نظر دوڑائی۔ سب گھوڑے رانی کا مطلب سمجھ گئے۔ اب کسی میں اتنی جرأت نہ تھی کہ وہ روشن کے قریب آئے۔ روشن نے رانی کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں شکریے کی جھلک تھی۔۔۔مگر ساتھ ہی اس کی آنکھوں سے چند آنسو بھی بہہ نکلے۔ رانی، ساری رات روشن کے پاس رہی۔۔۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments