سمجھ داری

تحریر: سبطِ حسن

پرانے زمانے کی بات ہے، ایک شہر میں دو تاجر رہتے تھے۔ وہ اپنا سامان گدھوں، خچروں اور گھوڑوں پر باندھ کر ایک شہر سے دوسرے شہر لے جاتے ۔ اس شہر میں اس وقت تک رُکے رہتے، جب تک کہ ان کا سامان نہ بک جاتا۔ ان تاجروں میں سے ایک کا نام ہیر ا تھا اور وہ بڑا سمجھ دار تھا۔ دوسرے کا نام تاجو تھا اور وہ بڑا ہی بے وقوف تھا۔

ایک دفعہ دونوں تاجروں نے ایک ہی وقت پر اپنا تجارتی قافلہ تیار کیا اور اتفاق سے دونوں کا ارادہ ایک ہی شہر کی طرف جانے کا تھا۔ سمجھ دار تاجر، ہیرے نے سوچا کہ اگر دونوں قافلے ایک ساتھ ایک ہی سڑک پر گزریں گے تو سڑک پر چلنا مشکل ہو جائے گا۔ اگر ایک قافلے میں سینکڑوں گدھے ،خچر یا گھوڑے ہوں گے تو ان کو راستے میں ضرورت کا چارہ نہیں مل پائے گا۔ ضرورت کا پانی کیسے ملے گا؟ یہ سب باتیں سوچ کر ہیرے نے تاجو سے صاف صاف سے کہہ دیا کہ یا تو وہ اس سے پہلے سفر پر روانہ ہو جائے یا پھر اسے پہلے جانے کی اجازت دے دے۔ بے وقوف تاجو سوچنے لگا:

’’اگر میں پہلے سفر پر روانہ ہو جاؤں تو مجھے بہت فائدہ ہوگا۔( اس زمانے میں سڑکیں کچی ہوتی تھیں۔)سڑک صحیح سلامت ملے گی۔ جب قافلہ گزر جائے گا تو سڑک ٹوٹ جائے گی۔ اس پر مٹی میں لکیریں پڑ جائیں گی۔ میرے جانوروں کو تازہ گھاس ملے گی۔ میرے ملازموں کو کھانے کے لیے بہت سی جنگلی بوٹیاں اور پھل مل جائیں گے۔ جو پانی ملے گا، میرے ملازم اور جانور اسے استعمال کر لیں گے۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ میں اس شہر میں اپنی مرضی کی قیمت پر چیزیں فروخت کروں گا۔‘‘

اس نے یہ تمام باتیں سوچ کر، ہیرے سے کہا کہ وہ سفر پر اس سے پہلے روانہ ہو گا۔ ہیرے کو تاجو کا فیصلہ سن کر بڑی خوشی ہوئی۔ اس نے سوچا:

’’تاجو کا قافلہ جن راستوں سے گزرے گا، ان پر رکاوٹیں اورکھڈے ہموار ہوجائیں گے۔ ان راستوں پر چلنے میں اس کے قافلے کو کوئی تکلیف نہ ہو گی۔ تاجو کے جانور پرانا گھاس کھائیں گے اور وہاں میرے پہنچنے تک نیا گھاس اور ان کی نرم نرم پتیاں نکل آئیں گی۔ میرے جانور یہ گھاس کھا کر خوش ہوں گے۔ میرے جانے سے پہلے تاجو کے ملازموں کو کھانے کے لیے پرانی جڑی بوٹیاں اور پھل ملیں گے۔ میرے آنے تک نئی جڑی بوٹیاں نکل آئیں گی۔ راستے میں جہاں کہیں پانی نہیں ملے گا، تاجو کے لوگوں کو پانی کی نئی جگہیں ڈھونڈنا پڑیں گی۔ مجھے یہ جگہیں بنی بنائی مل جائیں گی۔ میرے نئے شہروں میں پہنچنے سے پہلے تاجو اپنی چیزوں کو فروخت کر چکا ہو گا۔ اس طرح ہر چیز کی قیمت طے ہو چکی ہو گی اور مجھے بھاؤ کرنے میں سر کھپائی نہ کرنا پڑے گی۔‘‘ ہیرے نے فوراً تاجو کی تجویز کو قبول کر لیا اور اسے سفر کے لیے رخصت کر دیا۔

تاجو نے اپنے لمبے قافلے کو چلنے کا حکم دے دیا۔ وہ کئی دن چلتا رہا۔ آخروہ ایک ویرانے میں پہنچا۔ وہاں پانی کی ایک چھوٹی سی ندی تھی۔ اس نے گدھوں پر لدے بڑے بڑے مشکیزے پانی سے بھر لیے۔ اسے اندازہ تھا کہ آنے والے پچاس ساٹھ کلومیٹر کے سفر میں اسے ایک ریگستان سے گزرنا ہو گا۔اس ریگستان میں بہت سے بھوت رہتے تھے۔ ان کا سردار اوپر آسمان سے تاجو کے قافلے کو آگے بڑھتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ جب قافلہ ریگستان کے عین درمیان میں پہنچا تو بھوتوں کا سردار ایک خوبصورت بگھی، جس کے آگے نیلی آنکھوں والے سفید گھوڑے جُتے ہوئے تھے، نیچے اتر آیا۔ اس کی بگھی کے ارد گرد بہت سے بھوت بھی چل رہے تھے۔ ان بھوتوں نے ہاتھوں میں بڑی تلواریں اور کلہاڑے اٹھا رکھے تھے۔ بھوتوں کا سردار ایک نوجوان مرد بنا ہوا تھا۔ اس نے خوبصورت سفید لباس پہن رکھا تھا۔ سر اور گلے میں خوبصورت پھولوں کی مالائیں پہن رکھی تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ چلنے والے بھوت نظر نہیں آرہے تھے۔ وہ اپنے سردار اور تاجو کے قافلے کو تو دیکھ سکتے تھے مگر تاجو اور قافلے کا کوئی شخص انہیں نہ دیکھ سکتا تھا۔

ہوا تیز تھی اور اس سے ریگستان کی ریت اڑ رہی تھی۔ بھوتوں کے سردار نے اپنی گاڑی دوڑائی اور اسے تاجو کے گھوڑے کے برابر لے آیا۔ تاجو اڑتی ہوئی ریت سے بچنے کے لیے اپنے قافلے کے آگے آگے چل رہا تھا۔ تاجو کے برابر آتے ہی بھوتوں کے سردار نے تاجو کو سلام کیا۔ تاجو اُس ریگستان میں، ایک نوجوان کو دیکھ کر خوش ہوا اور سلام کا جواب دیا۔ دونوں راستے سے ہٹ کر ایک طرف کھڑے ہوگئے۔ دونوں گپ شپ کرنے لگے اور اسی دوران قافلہ آگے بڑھتا گیا۔

’’ہم اس ریگستان سے دور سات دن کے سفر پر آنے والے ایک شہر سے آئے ہیں۔‘‘ تاجو نے بات شروع کی۔ ’’ریگستان سے آگے پھر سات دن کے سفر کے بعد ہم ایک شہر میں پہنچیں گے۔۔۔‘‘

’’خوب، لگتا ہے ، تم ادھر جا کر اپنے قافلے کا سب سامان بیچ ڈالو گے۔۔۔ ‘‘ بھوتوں کے سردار نے کہا۔

’’جی، بہت قیمتی سامان ہے ،لاکھوں روپے کماؤں گا۔۔۔ مگر تم نے جوپھول پہنے ہوئے ہیں، وہ بالکل تازہ معلوم ہوتے ہیں۔۔۔ کیا اس ریگستان میں پانی ہے۔۔۔؟‘‘ تاجو نے پوچھا۔

’’کیوں نہیں، بہت پانی ہے۔ چشمے بہتے ہیں۔ وہاں طرح طرح کے پھول اُگے ہوئے ہیں۔ یہ پھول میں نے وہیں سے لیے ہیں۔۔۔ ‘‘ بھوت نے اپنے سامنے سے گزرتے ہوئے گدھے کی طرف اشارہ کر کے کہا:

’’پانی ہے۔۔۔‘‘

’’میں نے سوچا تھا کہ شاید ریگستان میں پانی نہ ملے، اس لیے انہیں بھر لیا تھا۔‘‘ تاجو نے کہا۔

’’یہ تو تم نے بڑی عقل مندی کی ہے۔ مگر اب آگے ان کی ضرورت نہ رہے گی۔۔۔ آگے تمہیں بہت زیادہ پانی مل جائیگا۔۔۔ خواہ مخواہ اتنا بوجھ اٹھانے سے کیا فائدہ۔۔۔؟‘‘ بھوتوں کے سردار نے تاجو کو مشورہ دیا اور اس سے رخصت ہو کر آگے بڑھ گیا۔ تھوڑی دور آگے جانے کے بعد اس کی خوبصورت گھوڑوں والی بگھی غائب ہو گئی اور وہ خود بھی اوپر اڑتے بھوتوں میں جا شامل ہوا۔

تاجو کو بھوتوں کے سردار کا مشورہ بڑا پسند آیا اس نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ وہ گدھوں پر لدھے مشکیزوں کا پانی ریت پر گرا دیں۔ آدمیوں میں سے کچھ نے تاجو کو بہتیرا سمجھایا کہ جب تک پانی کے چشمے اور ندیاں نہیں آتے، انہیں پانی ہرگز نہیں گرانا چاہیے۔ مگر تاجو کے اصرار پر انہوں نے مشکیزوں کے منہ کھول دیے اور پانی ریت پر گرا دیا۔

تاجو کے قافلے کا سفر جاری رہا۔ دو دِن انہوں نے پانی کے بغیر گزارے۔ ابھی تک، دُور دُور ریت کے ٹیلوں کے علاوہ کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ جانوروں اور انسانوں کا پیاس سے بُرا حال ہو رہا تھا۔ ان سے چلا نہیں جا رہا تھا۔ شام ہوئی تووہ پیاس سے نڈھال ریت پر بیٹھ گئے۔ پانی نہ ہونے کی وجہ سے کھانا پکانا بھی ممکن نہ تھا۔ بھوک اور پیاس نے ان کا بُرا حال کر دیا۔ وہ سب ادھ موئے سے، ریت پر گرے اور بے ہوش سے ہو کرگرنے لگے۔

اوپر آسمان سے بھوتوں کا سردار یہ سب منظر دیکھ رہا تھا۔ جب لوگ بھوک اور پیاس سے تھک ہار کر گر گئے تو وہ بہت خوش ہوا۔ اس نے سوچا کہ اس کی چال کامیاب رہی۔ اس نے اپنی ساتھی بھوتوں کو تاجو کے قافلے پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ حملہ ہوا۔ تاجو کے آدمی تو پہلے ہی کمزور اور بے حال تھے۔ بھوتوں نے جانوروں اور آدمیوں کو خوب دل بھر کے کھایا۔ صرف ہڈیاں ہی رہ گئیں، جو ہر طر ف بکھری ہوئی تھیں۔ قافلے میں تجارت کا سامان جوں کا توں بوریوں میں پڑا، اِدھر اُدھر ریت پر بکھرا ہوا تھا۔ اس طرح ایک شخص کی بے وقوفی سے بہت سارے جانور اور آدمی بھوتوں کی نذر ہو گئے۔

چھے ہفتے گزر گئے۔ ہیرے نے سوچا کہ تاجو کا قافلہ اپنی منزل پر پہنچ چکا ہو گا۔ اس نے پانچ سو جانوروں اور سو آدمیوں پر مشتمل قافلے کو چلنے کا حکم دیا۔ وہ چلتے چلتے، کئی دنوں کے بعد ریگستان کے قریب پہنچے۔ وہاں چھوٹا سا ایک چشمہ تھا۔ ہیرے نے بہت سے گدھوں پر رکھے مشکیزوں کو پانی سے بھروایا۔ آدمیوں کے پاس جو بھی برتن یا چھاگلیں تھیں، ان کو بھی پانی سے بھر لیا گیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو سمجھایا کہ وہ پانی کی ایک بوند بھی ضائع نہ کریں۔ اس نے انہیں مزید سمجھایا کہ ریگستان میں بہت سے زہریلے پودے اور پھل ہوتے ہیں۔ کوئی شخص ان کو بالکل نہ چھوئے۔ صرف وہی پودے اور پھل کھائے جائیں جو ہمیشہ سے کھائے جاتے ہیں۔ سب نصیحتیں کرنے کے بعد، قافلہ ریگستان میں داخل ہوا۔

ریگستان کے درمیان میں ، جہاں بھوتوں کا بسیر اتھا، قافلہ جا پہنچا۔ اوپر آسمان سے بھوتوں نے اتنے بڑے قافلے کو دیکھا تو بہت خوش ہوئے۔ بھوتوں کا سردار، ایک خوبصورت نوجوان بن کر، گھوڑے پر سوار نیچے اترا۔ اس نے ہیرے کو بھی پانی گرانے کا مشورہ دیا۔ ہیرا بڑا سمجھ دار تھا۔ اس نے نوجوا ن کو غور سے دیکھا۔ نوجوان کی آنکھیں سرخ تھیں اور جنگلی جانوروں کی آنکھوں کیطرح، ان میں کسی قسم کا خوف نہ تھا۔ ایک بات جس نے ہیرے کو چونکا دیا، وہ یہ تھی کہ نوجوان اپنی آنکھیں بھی نہ جھپکتا تھا۔ ہیرا فوراً سمجھ گیا کہ ہو نہ ہو یہ نوجوان، اصل میں بھوت ہے اور یہ کوئی چال چل رہا ہے۔ اس نے بغیر کسی خوف کے نوجوان سے کہا:

’’تم اپنا مشورہ اپنے پاس رکھو۔ ہمیں جب تک پانی نہیں ملے گا۔ ہم اپنے پاس محفوظ پانی کو سنبھال کر رکھیں گے۔۔۔ ‘‘ بھوتوں کا سردار سمجھ گیا کہ اس کی چال ، ہیرے پر نہیں چلنے والی۔ وہ ہیرے سے رخصت ہوا اور کچھ دور آگے جا کر بھوت بن گیا۔ وہ اور اس کے ساتھی بھوت ،بدستور ہیرے کے قافلے اوپر اڑ رہے تھے۔ انہوں نے ہیرے سے مایوس ہوکر، ہیرے کے آدمیوں کے دلوں میں یہ بات ڈال دی کہ آگے پانی ہے۔ وہ سب مل کر ہیرے کے پاس آئے اور کہنے لگے: ’’ہمارا خیال ہے کہ آگے کچھ فاصلے پر ایک بہت بڑا جنگل ہے۔ اس میں بہت سے ندی نالے، ہر وقت پانی سے بھرے، بہتے رہتے ہیں۔ اگر ہم گدھوں پر لدے مشکیزوں کو گرا دیں تو ہم بہت تیزی سے چلتے ہوئے اس جنگل تک پہنچ جائیں گے۔‘‘

’’یہ لوگ درست کہہ رہے ہیں، میں نے بھی، کل رات کو خواب میں ایک جنگل دیکھا تھا۔ جنگل میں پانی ہی پانی تھا۔۔۔‘‘ ایک ساتھی بولا:

ہیرے نے قافلے کو رکنے کا اشارہ کیا۔ اس نے قافلے کے ایک طرف کھڑے ہو کر بلند آواز میں سب ساتھیوں سے سوال کیا:

’’کیا تم میں سے کسی شخص نے آگے ریگستان میں پانی یا جنگل کے بارے میں سنا ہے؟‘‘

’’نہیں، آگے پانی تو کیا، کوئی جھاڑی بھی نظر نہیں آتی۔۔۔‘‘ سب نے جواب دیا۔ ہیرے نے قافلے والوں کو بتایا کہ یہ سب باتیں بھوتوں نے کچھ لوگوں کے ذہنوں میں ڈالی ہیں۔ بھوت کسی شخص کی خواب کو بھی تبدیل کر سکتے ہیں اور وہ نوجوان جو میرے پاس کھڑا، مجھے پانی گرا دینے کا مشورہ دے رہا تھا، اصل میں بھوت ہی تھا۔ بھوت دراصل اس چال سے ہمیں کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر پانی نہ ہوگا تو ہم بھوک اور پیاس سے نڈھال ، کمزور ہو جائیں گے۔ ایسی حالت میں بھوت ہم پر حملہ کر کے ہمیں کھا جائیں گے۔سب لوگ مطمئن ہوگئے اور قافلے نے دوبارہ اپنا سفر شروع کر دیا۔ کچھ فاصلے پر انہیں تاجو کے قافلے کے نشانات ملے۔ ہر طرف جانوروں اور انسانوں کی ہڈیاں بکھری ہوئی تھیں۔ ہیرے نے وہیں پڑاؤ ڈالنے کا حکم دیا۔ اس نے جانوروں کو چارہ دیا اور آدمیوں کو اچھا کھانا دے کر سلا دیا۔ خود اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ ، ساری رات پہرہ دیتا رہا۔

صبح ہوئی تو ہیرے نے تاجو کے قیمتی سامان کو بھی گدھوں پر لدوایا۔ تاجو کا سامان، ہیرے کے سامان سے زیادہ قیمتی تھا۔ سات دنوں کے بعد ہیرا، ایک بڑے شہر تک پہنچ گیا۔ اس نے سارا سامان بیچ دیا۔ اسے، اس کی توقع سے کہیں زیادہ منافع ملا۔ اس نے ، اس شہر سے دوبارہ سامان خریدا اور حفاظت سے واپس گھر لوٹ آیا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments