سی پیک اور گلگت بلتستان پر بھارتی جھوٹ 

سی پیک اور گلگت بلتستان پر بھارتی جھوٹ 

91 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 حامد گلگتی

دوستی     اور   دشمنی     کی  روایات      ھوتیں     ہیں   لیکن۔جس چانکیائی فلفسے پر بھارت کاربند ہے اس کے نزدیک ان روایات کی کوئی اہمیت نہیں بھارت اخلاقیات کی حدوں سے گر کر سازشیں اور جھوٹ بولنے کا عادی ھے اور ہمیشہ حقائق سے متصادم اور سفید جھوٹ بول کر کے اپنے عوام کو بھی بے قوف بنا رہا ہے اور دنیا کی بھی آنکھوں میں بھی دھول جھونک رہا ہے۔بھارت تمام تر اخلاقیات اور روایات کو پس پشت ڈال کر  پاکستان دشمنی میں بھو کھلاہٹ  کا شکار ہو کر جھوٹ اور سازشوں میں مصروف ھے۔بھارت کو تو اس بات کا بھی احساس نہیں کہ دنیا گلوبل ویلج بن چکی ھے آج کی دنیا میں سچ کو چھپایا نہیں جا سکتا اور جھوٹ بول کر حقائق سے   آنکھیں چرایا نہیں جا سکتا ۔بھارت کشمیر میں جو مظالم آزادی پسندوں      پر  کر  رہا جو ظلم و ستم اقلیتوں پر کر رھا اس پر تو دنیا سے آنکھیں چرا رہا ھے اس کے اپنے ملک کے حالات تو قابل رحم ہیں لیکنس دوسروں کی چادیواری میں جھانکنے کی عادت اسے دنیا میں ننگا کر رہی ھے ۔بھارت اقتصادی     راہداری منصوبے کے بعد آپنے ہوش و حواس کھو چکا اور جھوٹ پر جھوٹ اور سازشوں کی پوٹلیاں اٹھائے پھر رھا۔ابھی حآل ہی میں بھارتی میڈیا میں یہ جھوٹ بولا گیا کہ    گلگت بلتستان میں ہزاروں عوام اقتصادی راہداری منصوبے کے خلاف سڑکوں پر آئے اور نعرہ بازی کی ۔آوٹ لک نے اپنی تیس جولائی کی اشاعت میں صحافتی اقدار کے منافی جھوٹ لکھا کہ گلگت بلتستان میں عوام نے اقتصادی راہداری منصوبے کے خلاف مظاہرہ کیا مزید لکھتا ھے کہ عوام نے سی پیک کے معاوضوں کی عدم ادائگی کے حوالے سے بھی مظاھرہ  کیا مزید جھوٹ لکھا کہ عوام اس منصوبے کو گلگٹ بلتستان کے لئے اچھا تصور نہیں کرتے ھیں اور ماحولیاتی آلودگی کا موجب تصور کرتے ھوئے شدید مخالفت کر رہے ہیں۔آب اس بھارتی جھوٹ کا پوسٹ مارٹم میں بھی کروں گا اور ہر محب وطن کا بھی فرض بنتا ھے کہ بھارت کے اس ننگے جھوٹ کا آپریشن      کر  کےبھارتی سازشوں کو دنیا کے سآمنے لائیں ۔

پہلی بات ھے کہ جب سے اقتصادی راہداری منصوبہ شروع ہوا ھے گلگت بلتستان    میں   اقتصادی راہداری کے  خلاف    مظاہرہ  تو دور کی بات ہے ایک شخص نے بھی مخالفت نہیں کی ہے گلگت بلتستان کا ہر فرد اقتصادی راہداری کو ترقی کا زینہ قرار دیتے ہوئے اس منصوبے کے تحفظ کے لئے کھڑا ہونا اپنی فرض تصور کرتا ھے ۔بھارت کی چالاکی اور جھوٹ دیکھیں کہ گلگت میں اس دن ایک مظاہرہ نواز شریف کؤ نا اہل ہونے کے خلاف مسلم لیگ کے ورکروں نے کیا اسی مظاہرے کو بھارت نے دنیا کے سامنے اقتصادی راہداری کے خلاف مظاہرہ قرار دیا۔ دوسری۔ بات کہ گلگت بلتستان کا ہر شہری اقتصادی راہداری کے تحفظ کے لئے بغیر وردی کے فوجی کا کردار ادا کر رہا ھے اور اپنے ملک پاکستان کے تحتظ کے لئے سب سے زیادہ قربانیاں بھی گلگت بلتستان کے عوام ہی دے رہے ھیں ۔جہاں تک بھارت    اقتصادی راھداری منصوبے میں زمینوں کے معاوضے کے حوالہ سے جھوٹ بول رھا  تو اس کی اطلاع کے لئے عرض ھے کہ ہنزہ کے ایک گاوں کے لوگ گاوں کی سڑک کے معاوضوں کی ادائگی کے لئے اپنے مطابات اخبارات میں ضرور پیش کرتے ھیں اس کو بھی بھارتی میڈیا نے سی پیک کے خلاف مظاہرہ قرار دے کر دنیا کو گمراہ کیا۔

آج تک گلگت بلتستان سے کسی فرد نے اقٹصادی راہداری کے خلاف نہ تو کوئی مظاہرہ کیا ھے اور نہ ہی ایک بیان    اخبار     میں  دیا   ھے ایسا کوئی کیوں کرے    گلگت بلتستان کا ھر فرد اس بات سے آگاہ ہے کہ سی پیک معاشی ترقی اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے ۔بھارت کے جھوٹ بے نقاب کرنے کے لئے گلگت بلتستانکا  ھر فرد اقتصادی راہداری کے تحفظ کے لئے آگے آیا ھے اور ان شا اللہ بھارت کے خواب چکنا چور ھوں گے۔۔۔۔

گلگت بلتستان کے لوگ بھی جانتے ھیں اور دنیا بھی آگاہ ھے کہ بھارت ایسی اوچھی حرکتیں کرتا ھے اور یہ پہلی دفعہ نہیں کیا بھارت نے اس سے قبل بھی گندم سبسڈی کے لئے کئے گئے مظاہرہ کو بھی نعوز با اللہ پاکستان مخالف     مظاہرہ  قرار دے       کر اپنے خبث باطن کا اظہار کیا۔۔۔بھارت اپنی عادت اور تربیت سے مجبور ھے کیونکہ     اس کی ریاست ہی جھوٹ پر مبنی ہے چانکیائی فلسفے میں جھوٹ اور مکر کے علاوہ کچھ نہیں۔آخر میں یہ  کہوں گا کہ ہر شہری کا فرض ہے کہ اقتصادی راہداری کے منصوبے کو بھارت کی سازشوں سے محفوظ رکھنے کے لئے اپنا کردار ادا کرے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔