چائلڈ پروٹیکشن یونٹ چترال کی کوششوں سے دو افغان بچوں کو اُن کے ورثا کے حوالے کردیا گیا

چترال(بشیر حسین آزاد) چائلڈ پروٹیکشن آٖفیسر عمران الدین نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ تین دن پہلے دو نورستانی بچے جو آپس میں بھائی تھے، ایک عمر تقریباً 14سال اور دوسرے عمر6سال بارڈر کراس کرکے ارندو آئے تھے۔بعد میں جب ان بچوں سے اُن کے گھرکے بارے میں پوچھا گیا تو گھر کا پتہ بھول گئے تھے۔تو ارندو پولیس نے اُن کو اے اے سی آفس دروش پہنچایاجس کے بعد چائلڈ پروٹیکشن یونٹ چترال کو اطلا ع ملتے ہی چائلڈ پروٹیکشن آفیسر چترال نے دروش کے اے سی آفس جاکر پولیس سے مل کراُن بچوں کواپنے تحویل میں لے لیا۔چائلڈ پروٹیکشن یونٹ چترال نے اصلاحی کمیٹی ارندو سے رابطہ کرکے اُن بچوں کے گھرکا پتہ لگاکر پھر اصلاحی کمیٹی کو دروش میں اے سی کے عدالت سے بچوں کے رہائی کا حکم لیکر اتوار20اگست کو دونوں بچوں کو اصلاحی کمیٹی کے ذریعے اُن کے گھروالوں تک پہنچادئیے۔

چائلڈ پروٹیکشن آفیسر چترال نے بچوں کو اُن کے ماں باپ تک پہنچانے کے لئے چترال پولیس،اے سی دروش،اصلاحی کمیٹی ارندو اور ڈسٹرکٹ جیل چترال کے خدمات کو سراہااور اُنہوں نے چائلڈ پروٹیکشن یونٹ چترال کے ساتھ تعاون کرنے پرتمام متعلقہ اداروں سمیت خاص کر چترال پولیس کو خراج تحسین پیش کیا۔اُنہوں نے ایس ایچ او دروش بلبل حسن کو بچوں کے تحفظ پر مکمل تعاون اور بچوں کے خلاف تشدد کرنے والوں پر چائلڈ پروٹیکش اینڈ ویلفیئر ایکٹ2010کے تحت ایف آئی ار درج کرکے بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے پراُن کا خاص شکریہ ادا کرتے ہوئے اُنہیں خراج تحسین پیش کیا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments