کٹوال حراموش کے تنہا درخت کی کہانی

کٹوال حراموش کے تنہا درخت کی کہانی

98 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 تحریر سید عاطف حسین کاظمی

مجھے معلوم نہیں کہ میری عمر کتنی ہے ہاں البتہ یہ میں آپ سب کو بتاسکتا ہوں کہ اس وقت کس مقام پر میں موجود ہوں اور یہی جگہ میری جائے پیدائش بھی ہے۔ گلگت بلتستان کے نام سے بہت سارے لوگ واقف ہیں مگر میرے جائے پیدائش وادی حراموش کو زیادہ لوگ نہیں جانتے۔ وادی حراموش گلگت شہر کے شمال میں واقع ہے اور وادی ء کٹوال ایک اندازے کے مطابق حراموش سے آٹھ دس گھنٹے کی مسافت پر موجود ہے۔ برف سے لپٹی فلک بوس چوٹیاں، شور مچا تے، گیت گاتے ندی نالوں اور ہر طرف لہلہاتے سبزہ زاروں کو دیکھ کر میں بہت خوش تھا۔ میرے آس پاس بہت سارے درخت تھے ۔۔۔۔۔ جب ہواچلتی تھی تو ایک دوسرے کی ٹہنیوں کو تھام کر جھومتے تھے۔ میں اورمیرے آس پاس موجود درخت اور پودے قدرت کے ان حسین مناظر سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ ہمارے ارد گرد رہنے والے کیڑے مکوڑے، حشرات اور پرندے ہمارے پاس آتے تھے۔ رات کو جگنو ہماری ٹہنیوں پر بیٹھ کر کہانیاں سناتے تھے۔۔۔ کئی پرندے اور جانور ہم سے اپنا خوراک بھی حاصل کرتے تھے۔۔ اور ایک خوبصورت پرندے نے میرے سب سے اونچی شاخ پر کھونسلہ بھی بنایا تھا۔ اس کے پیارے اور ننھے بچے اب تک مجھے یاد ہیں۔

میں پھلتا پھولتارہا اورچند سالوں میں میری جڑیں مضبوط ہونے لگی اور میں ایک تناور درخت بن گیا۔ اسی دوران میرے پڑوس اور آس پاس موجود درخت مجھ سے بچھڑ گئے۔۔ کہاں گئے یہ مجھے معلوم نہیں۔ پہلےہم سارے درخت بہت خوش تھے کیونکہ دنیا بہت خوبصورت تھی اور میں بھی اس خوبصورتی کا حصہ تھا۔ جب کبھی ہوا چلتی تو ہم خوب لہلہاتے اور جھومتے۔ بارش اور بہار کے موسم میں خوب ناچتے۔ زندگی بہت مزے سے گزر رہی تھی۔ ایک دن میں نے ایک عجیب مخلوق کو اپنی جانب آتے دیکھا۔ اس سے پہلے میں نے بہت سارے جانوروں کو دیکھا تھا۔ ان میں سے کچھ ہمارے سائے بیٹھتے تھے اور کچھ ہمارے پتے کھاتے تھے لیکن یہ مخلوق ان سب سے مختلف تھا۔ اس کے کندھے پر کوئی چمکدار چیز تھی۔ میں نے اپنے ساتھ والے بزرگ درخت سے پوچھا کہ یہ کونسا جانور ہے؟ بزرگ درخت پریشان دیکھائی دے رہا تھا اور تھر تھر کانپ رہا تھا۔ کپکپاتی آواز میں اس نے جواب دیا۔۔۔ یہ آدمی ہے اسے “آنسان” بھی کہا جاتا ہے۔ میں نے اُس سے ڈرنے کی وجہ پوچھی تو اس نے پڑوس میں موجود گرتے درختوں کی طرف اشارہ کیا۔ جن کے پتے اب مرجھا رہے تھے، تنا جڑوں سے الگ ہوچکا تھا۔ وہ جانور لوہے کے ایک آلے سے ان کی ٹہنیاں کاٹ رہا تھا۔

کچھ دیر بعد میں نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بزرگ درخت سے ایک اور سوال پوچھا لیکن کوئی جواب نہیں آیا تو میں اس کی طرف پلٹ کر دیکھا۔۔۔۔۔۔۔ وہ بھی اب زمین پر ڈھیر ہوچکا تھا۔۔۔ وہ بول ہی نہ پایا ۔۔۔ اس کے کئی سبز پتے ٹہنیوں سے الگ ہوکر زمین پر بکھر چکے تھے۔۔۔ تڑپ رہے تھے اور وہ انسان ان پر کلہاڑی سے بے دردی کے ساتھ وار کر رہا تھا۔ بزرگ درخت کی شاخ پر موجود پرندے کا گھونسلہ بھی گر چکا تھا ۔۔۔ گھونسلے میں موجود پرندے کے انڈے نیچے گر کر ٹوٹ چکے تھے۔ اب میں یہاں بالکل تنہا ہوں۔۔۔ سارے درخت کٹ چکے ہیں صرف ان کی بے جان جڑیں یہاں موجود ہیں۔ اس دن کے بعد میں انسان نامی اس جانور سے بہت ڈرتا ہوں۔ اس کو دیکھتے ہی مجھے بے دردی سے کٹنے والے دوست درخت یاد آتے ہیں۔ اب یہاں پرندے بھی نہیں آتے ہیں۔ میں کسی کو اپنی کہانی نہیں سنا سکتا کیونکہ ہمارے پتے کھانے اور سائے میں سستانے والے جانور بھی نہیں آتے ہیں۔ شاید اتھیں بھی قتل کردیا گیا ہے۔ میں بالکل اکیلا ہوں اور اس ڈر میں زندگی گزار رہا ہوں کہ کسی دن انسان نامی یہ جانور پھر آئے گا اور مجھے بھی قتل کرے گا۔ مجھے بچانے کون آئے گا؟ میں مدد کا طلب گار ہوں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔