نئے جذبوں اور نئی جہتوں سے لیس کشمیر کی آزادی کی تحریک

نئے جذبوں اور نئی جہتوں سے لیس کشمیر کی آزادی کی تحریک

41 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

عمر حبیب

کشمیر کی تحریک آزادی کو نوجوان نسل نے نئی جہتیں بخشی ہیں ،کشمیری نوجوانوں نے اپنی آزادی کی تحریک کو جس طرح جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا ہے یقیناًیہ ایک مثبت اور فیصلہ کن تبدیلی کا آغاز ہے ،اس جدیدیت کے بانی برہان وانی ہیں جنہوں نے کشمیری نوجوانوں کو آزادی کی نئی راہوں سے روشناس کرایا اور اسی راستے پر اپنی جان کی قربانی دے کر آزادی کے متوالوں کو پیغام دیا کہ آزادی نہ صرف قربانی مانگتی ہے بلکہ تقاضہ کرتی ہے کہ دشمن کے ساتھ ہر محاز پر نبرد آزما ہوا جائے ۔یہی وجہ ہے کہ آج کشمیر کا ہر نوجوان اپنا آئیڈیل برہان وانی کو مانتے ہوئے آّزادی کے سفر پر گامزن ہے ۔اس بات پر پوری دنیا ششدر ہے کہ برہان وانی میں کیا ایسی بات تھی کہ کشمیر کے نوجوان اس کا نام لبوں پر لاتے ہی اپنے اندرآزادی کے لئے ایک نئی توانائی محسوس کرتے ہوئے پہلے سے بڑہ کر آزادی کے متوالے بنتے ہیں ،اس کا جواب ہے کہ برہان وانی نے آزادی کے سفر کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے نوجوان نسل کے لئے آزادی کا سفر نہ صرف آسان کر دیا بلکہ جذبوں کے سمندر بے کراں کو رواں کر دیا ۔جولائی میں برہان مظفر وانی کی شہادت کو پورا ایک سال ہو گیا جبکہ اس ایک سال کے دوران کشمیر میں ایک لمحے کو بھی نہ تھمنے والی تحریک آزادی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کشمیر کی آزادی کا سورج بہت جلد طلوع ہونے والا ہے۔ کشمیریوں کا ہر لمحے بڑھتا ہوا جوش و جذبہ دنیا پر کشمیر کے مسئلے کو دوبارہ اجاگر کرنے کا سبب بن رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب کشمیر کی سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی وادی میں طاقت کے استعمال کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے اسمبلی کے فلور پر یہ بیان دے چکی ہیں کہ کشمیر میں بندوق اور فوج سے خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا،شورش اور بد امنی سے نمٹنے کا واحد راستہ امن مذاکرات ہیں،تشدد اور معصوم افراد کی ہلاکتوں سے صورت حال بے قابو ہو جائے گی۔ کانگریس رہنما سونیا گاندھی سمیت بھارتی سیاستدانوں اور صحافیوں کی اکثریت بھی اب یہ ماننے پر مجبور ہو چکی ہے کہ اگر بھارت کشمیر میں 7لاکھ کی بجائے 70لاکھ افواج بھی داخل کر دے تب بھی جبری طور پر کشمیریوں کو زیادہ دیر تک غلام نہیں بنا کر رکھ سکتا۔ جبکہ حریت پسند کشمیری قیادت میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک بھی یہ بار ہا واضح کر چکے ہیں کہ ’’بھارتی فوج نے نہتے کشمیریوں کے خلاف باضابطہ جنگ چھیڑ رکھی ہے‘‘ اس جنگ کو برہان وانی کے خون کے باعث ملنے والی مہمیز کے باعث شہید برہان وانی کا نام ہمیشہ دنیا کی تاریخ میں یاد رکھا جائے۔ کہ اس 22سالہ خوبرو نوجوان نے اس چھوٹی سے عمر میں وہ کارنامہ سر انجام دیا کہ کوئی اس کے پیروں کی خاک کو بھی نہ چھو سکا۔گزشتہ برس جب برہان وانی کو شہید کیا گیا تو پوری وادی کشمیر اس کی نماز جنازہ میں شرکت کے لئے امنڈ آئی تھی جس سے بھارتی فوج بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی تھی اور جگہ جگہ ناکے لگا کر کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے تھے مگر کشمیری ہر بار نئے ولولے اور تازہ دم حوصلوں کے ساتھ رخت سفر ہوئے اور برہان وانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا مگر افسوس کہ بھارت کے پالیسی سازاب تک نہیں جان سکے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ پورا کشمیر آج برہان وانی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے قابض افواج کے خلاف سینہ سپر ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ برہان کی کہانی میں ہر کشمیری کو اپنا عکس نظر آتا تھا، بیشتر عسکریت پسند کشمیری نوجوانوں میں یہ قدر مشترک ہے کہ انہیں بھارتی فوج کی زیادتیوں اور بے جا ظلم و ستم نے ہتھیار بند باغی بننے پر مجبور کیاوگرنہ وہ ایک عام سی زندگی گزارنے والے شہری ہوتے۔برہان وانی بھی ایک مقامی اسکول ہیڈ ماسٹرکا بیٹا تھا اور ہمیشہ امتیازی نمبر لے کر پاس ہوتاتھا مگر بھارتی فوج کے تشدد نے برہان وانی کو دلبراشتہ کیا جس کے بعد یہ ترال کے جنگلوں میں روپوش ہوگیااور بعدازاں کشمیر کی آزادی کیلئے متحرک ایک گروپ میں شمولیت اختیار کر لی۔برہان کے نئے خون نے جدوجہد آزادی کو ایک نیا رنگ، نئی جہت اور نئی زندگی دی۔ اس نے سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہوئے کشمیری نوجوانوں کو تحریک آزادی کی ترغیب دی اورویڈیو پیغام نشر کر کے نوجوانوں کو اپنی جانب راغب کیا۔ کشمیر کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ کسی جہادی رہنما نے ویڈیو پیغام نشر کئے ہوں، اس کا نہایت مثبت نتیجہ نکلا اور کشمیری نوجوان جوق در جوق آزادی کی تحریک میں اس کے ہمقدم بن گئے۔ یوں کشمیر میں جاری تحریک آزادی نے ایک نئے رخ پر انگڑائی لی اور اس میں شدت آئی۔8جولائی 2016ء کو تحریک آزادی کشمیر کا یہ استعارہ تو اپنی حقیقی منزل پا گیا مگر اس نے آزادی کی جو شمعِ امید روشن کی تھی اس کے پروانوں کی تعداد میں ہر گزرتے دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور یہ اسی جاری تحریک کا نتیجہ ہے کہ بھارت میں اب یہ احساس عام ہے کہ کشمیر یوں کو حق خودارادی دینا ہی سات دہائیوں سے جاری کشمیرکے اس سلگتے ہوئے مسئلے کا واحد حل ہے۔یہ صورتحال پاکستان سے بھی تقاضا کرتی ہے کہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بلاتاخیر منظم اور فیصلہ کن سفارتی مہم شروع کی جائے جس میں اقوام متحدہ اور دوسرے تمام بین الاقوامی فورمزپر عالمی امن کیلئے مسئلہ کشمیر کے فوری حل کی ضرورت کو اجاگر کیا جائے اور کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کرانے کی راہ ہموار کی جائے تاکہ کشمیریوں کوان کا غصب کیا گیا بنیادی حق مل سکے۔کشمیر میں نوجوان نسل کے جوان جذبوں سے لبریز آزادی کے سفر کو اب بھارت کی چھہ لاکھ فوج کو ممکن نہیں کہ رکاوٹ پیدا کر سکے نواجوان کے اس جذبے کے سامنے اب لگ رہا ہے کہ بھارت کے مقدر میں رسوائی لکھی گئی ہے اور اب آزادی کی منزل قریب ہے اور بہت جلد کشمیر کے مرغزاروں میں آزادی کے نغمے گنگنائے جائیں گے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔