گلگت : ما رخور ،بلیو شیپ اور آ ئی بیکس کے شکار کیلئے لا ئیسنس نیلا م

گلگت : ما رخور ،بلیو شیپ اور آ ئی بیکس کے شکار کیلئے لا ئیسنس نیلا م

97 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت ( پ ر) گلگت بلتستان میں جنگلا ت و جنگلی حیات کے سرکاری ادارے کی جا نب سے ٹرا فی ہنٹنگ کے حو الے سے تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیر جنگلات جنگلی حیات، و ماحولیات محمد عمران وکیل تھے ۔صو با ئی وزیر تقریب سے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ ان کا محکمہ جنگلات اور جنگلی حیات کی بقا ء کیلئے بھر پور اقداما ت کررہا ہے ،ٹرا فی ہنٹنگ کے ذریعے محدود پیما نے پر کیئے جا ئے و الے شکا ر سے ان جانوروں کے بے دریغ اور غیر قانونی شکا ر کو روکنے میں مدد ملتی ہے۔اس تقریب میں صو بے کے مختلف علاقوں میں پا ئے جا نے وا لے ما رخور ،بلیو شیپ اور آ ئی بیکس کے شکار کیلئے لا ئینس نیلا م کیے گئے ۔ ٹرا فی ہنٹنگ سے وصول ہو نے وا لی رقم سے مختلف مقامات پر کمیونٹی کو ان کا حصہ بھی دیا جا تا ہے ۔ہر سال حکو مت گلگت بلتستان ٹر افی ہنٹنگ کی مد میں شکاریوں اور مختلف کمپنیو ں سے لا ئیسنس کے عوض معقول رقم وصول کرتی ہے ۔ٹر افی ہنٹنگ کی وجہ سے جنگلی حیات خصوصاً ما رخور اور دیگر قیمتی جا نوروں کے بے دریغ شکا ر کو روکنے میں بے حد مدد ملی ہے ۔گلگت میں ٹرافی ہنٹنگ کے لا ئسنس کی نیلا می کی تقریب میں محکمہ کے اعلیٰ آفیسران کنزر ویٹر پارکس اینڈ وا ئلڈ لا ئف یعقوب علی خان اور کنزرویٹرفارسٹ ولا یت نوربھی شریک تھے۔نیلا می میں کئی نامور شکا ریوں اور کمپنیو ں نے حصہ لیا ،جس میں ما رخور کے شکار کے چار لا ئیسنس جن کی ما لیت 68ہزار سے 1لا کھ امریکی ڈا لر تک ہے ، بلیوشیپ کے شکار کیلئے 8ہزار سے 10ہزار امریکی ڈا لر ما لیت کے 14 لا ئیسنس ، آ ئی بیکس کے شکار کے 48لا ئسنس جن کی ما لیت 3ہزار 6سو امریکی ڈا لر ہے نیلا م ہو ئے ۔اس تقریب کے موقع پر میڈیا اور مختلف کمیو نٹیز کے نما ئندوں نے شرکت کی ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔