چترال، واپڈا مین ٹرانسمشن لائن کیلئے 3600 درخت کاٹے جارہے ہیں

چترال، واپڈا مین ٹرانسمشن لائن کیلئے 3600 درخت کاٹے جارہے ہیں

15 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے مضافاتی علاقے بروز میں واپڈا ٹرانسمیشن لائن کیلئے تین ہزار سے زیادہ کامیاب درختوں کو کاٹ رہے ہیں۔ ان درختوں میں اخروٹ، ناشپاتی اور شاہ بلوط کے نایاب قسم کے درخت بھی شامل ہیں۔

اس نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے نصرت آزاد، سہراب خان، انجنئیر فخر اعظم وغیرہ نے بتایا کہ واپڈا کی مین ٹرانسمیشن لائن کے نیچے تین حاندانوں کی ذاتی جنگلات اور ذرعی زمین بری طرح متاثر ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین نے عدالت سے بھی رجوع کیا تھا جس نے ان کے حق میں فیصلہ دیا تھا مگر اس پر نہ تو ضلعی انتظامیہ عمل درآمد کرتی ہے نہ واپڈا حکام۔

انہوں نے کہا کہ سروے ٹیم نے صرف ٹھیکدار کو فائدہ پہنچانے کیلئے بنجر زمین ، دریا کنارے اور پہاڑی علاقوں کو چھوڑ کر جان بوجھ کر ذرعی زمین کے اوپر سے لائن گزار رہے ہیں حالانکہ ان کے پاس متبادل کے طور پر بنجر زمین بھی پڑی ہے اور دریا کے کنارے کافی غیر آباد اراضی بھی موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف صوبائی حکومت دعویٰ کررہی ہیں کہ وہ صوبے میں اربوں کی تعداد میں نئے پودے لگار ہے ہیں جبکہ دوسری طرف بروز اور چترال کے دیگر مقامات پر تیار درخت کاٹے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف بروز ہی میں 3600 درخت کاٹے جارہے ہیں جن میں شاہ بلوط جیسے سدا بہار نایاب قسم کے درختوں کے علاوہ اخروٹ، ناشپاتی ، سیب اور دیگر پھلدار درخت بھی موجود ہیں۔

اس سلسلے میں جب چیف کنزرویٹر محکمہ جنگلات مشتاق احمد، ڈویژنل فارسٹ آفیسر شوکت فیاض سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کرلی کہ صوبائی حکومت نے اخروٹ کے درخت کاٹنے پر پابندی لگائی ہے اور جب کسی کی ذاتی زمین بھی اخروٹ کا درخت کھڑا ہو اور اس میں کوئی بیماری موجود ہو تو اس کے کاٹنے سے پہلے ڈائریکٹر ذراعت کو تحریری درخواست دینا پڑے گا اس کے بعد ڈویژنل فارسٹ آفیسر اس کی خود ہی معائنہ کرکے تصدیق کرے گا کہ واقعی میں وہ درخت بوسیدہ حالت میں ہے تو پھر NOC جاری کرے گا اس کے بعد اس درخت کو کاٹا جاسکتا ہے ۔

ان کے کہنے پر سب ڈویژنل فارسٹ آفیسر محمد یوسف فوری طور پر متاثرہ جنگل پہنچ گیا جہاں ہزاروں کی تعداد میں سینکڑوں سال پرانے شاہ بلوط کے نایاب درختوں کے علاوہ اخروٹ کے بھی تین سو درخت کاٹے جارہے ہیں۔

محمد یوسف نے ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے بتایا کہ بطور فارسٹ آفیسر ان کو یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ یہاں کافی تیار اور کامیاب درخت کاٹے جارہے ہیں مگر چونکہ یہ واپڈا کی لائن کیلئے کاٹے جارہے ہیں جس میں محکمہ جنگلات کچھ بھی نہیں کرسکتا۔

گولین گول پراجیکٹ واپڈا کے ریذیڈنٹ انجنیر سردار بہادر سے بھی اس سلسلے میں واپڈا کا موقف جاننے کی کوشش کی گئی مگر انہوں نے اس سلسلے میں کوئی رائے دینے سے معذرت کرلی تاہم انہوں نے آف دی ریکارڈ یہ کہہ کر افسوس کا اظہار کیا کہ وہ خود بھی ایک زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور ان درختوں کو اس طرح کاٹتے ہوئے دیکھ کر وہ صرف افسوس کرسکتا ہے مگر وہ واپڈا کی پالیسی میں کوئی ردوبدل نہیں کرسکتا ہے۔

قانونی ماہرین سے بھی رائے لی گئی جن کا کہنا تھا کہ واپڈا ایکٹ کے تحت عام لوگوں کا کم سے کم نقصان ہونا چاہئے اور ان کو معاوضہ بھی دینا چاہئے۔

ناصر آزاد، سردار نعیم نے بتایا کہ ان کے خاندان نے حاصل خان ولد توکل خان کو مفت زمین دی تھی تاکہ وہ اس پہ گھر بناسکے جو نہایت غریب اور نادار شحص ہے مگر واپڈا حکام نے اس کو بھی نوٹس جاری کیا ہے کہ اپنے گھر کے چھت سے ٹین کے چادر ہٹا کر اسے RCC یعنی کنکریٹ سے بنادے جوکہ اس کی بس سے باہر ہے۔

متاثرین نے چیف جسٹس آف پاکستان سے از خود نوٹس لینے کی اپیل کی ہے تاکہ ہزاروں کی تعداد میں ان کی درختوں کو بے دریغی سے کاٹنے سے روکا جائے اور ، وزیر اعظم پاکستان اور واپڈا کے اعلے ٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سلسلے میں تحقیقات کی جائے کہ ایک ہی شحص کنسلٹنٹ اور ٹھیکدار بھی خود ہے اور ان کو فائدہ پہنچانے کیلئے لوگوں کی کروڑوں روپے مالیت کی ذرعی زمین اور تیار درختوں کو کاٹے جارہے ہیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر ان کے اوپر ہونے والے اس ظلم کو نہیں روکا گیا تو وہ راست قدم اٹھانے اور پر تشدد اختجاج کرنے پر مجبور ہوں گے جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔