موٹر سائیکل حادثات میں نوجوانوں کی اموات ۔۔۔لمحہ فکریہ

موٹر سائیکل حادثات میں نوجوانوں کی اموات ۔۔۔لمحہ فکریہ

105 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت بلتستان میں موٹر سائیکل حادثات میں مسلسل اضا فہ اور ان حادثات میں قیمتی جانوں کا ضائع ہونا روز کا معمول بنتا جارہا ہے ان حادثات میں خصوصاکم عمر نوجوانوں کا اموات ایک تشویش ناک صورت اختیار کرچکاہے ایک محتاط اندازے کے مطابق صوبے میں ماہانہ کم از کم درجن بھر حادثات رونما ہورہے ہیں جن میں سے اسی فیصد حادثوں میں سر کے چوٹ کی وجہ سے اموات واقع ہورہے ہیں ۔

ہر حادثے کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آجاتے ہیں چالان بھی کیا جاتا ہے بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل سواروں کو جرمانے بھی کروائے جاتے ہیں اور پھر اگلے دن ناکے بھی ختم ہوجاتے ہیں اور کسی دوسرے حادثے تک ہم سب کچھ بھول جاتے ہیں۔

سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ کم عمر اور بے قابو موٹر سائیکل سوار نہ صرف اپنی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں بلکہ راہ چلتے لوگوں کیلئے بھی مہلک ثابت ہوسکتے ہیں ان میں سے اکثریت پچیس سال سے کم عمر نوجوانوں کا ہے جو نہ ہیلمٹ پہنتے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس لائسنس اور کاغذات ہوتے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر ٹریفک قوانین سے بھی نا واقف ہوتے ہیں۔

موٹر سائیکل حادثات کے وجوہات پر اگر غور کیا جائے تو اس میں تیز رفتاری ،کرتب دکھانے کا شوق ،آورٹیکنگ ،ویلنگ اور حادثوں میں اموات کی وجہ ہیلمٹ کا نہ ہونا شامل ہے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے نوجوان ٹریفک قوانین کی پاسداری نہ کرنے اوربڑوں کی بات نہ ماننے کی وجہ سے اپنے خاندان کو کربناک حالات سے دوچار کرتے ہیں جواس خاندان کیلئے قیامت سے کم نہیں ہوتا ۔

جب بھی اسطرح کا واقعہ رونما ہوتا ہے تو ہم مختلف لوگوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں بعض لوگ اس کو والدین کی غفلت قرار دیتے ہیں تو کچھ لوگ اس کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوتاہی قرار دیتے ہیں والدین کی غفلت کا جہاں تک تعلق ہے تو کوئی بھی شخص اپنے بچے کو اس طرح ضائع کرنا شاہد کبھی بھی نہیں چاہے گا مگر بد قسمتی سے ہمارے کم عمر نوجوانوں کی رویوں میں اس حد تک بگاڑ پیدا ہوچکا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے والدین بلکہ پورے معاشرے کو ایک اذیت سے دوچارکررہے ہیں گزرنے والاایک دفعہ گزر جاتا ہے لیکن جو زندہ ہوتے ہیں وہ زندہ درگور ہوجاتے ہیں۔

جہاں تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کا سوال ہے تو وہ بھی قوانین کے مطابق کاروائیاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں البتہ قوانین اس قسم کے موجود ہیں جو موثر ثابت نہیں ہورہے ہیں آپ قانون کے تحت کسی کو چالان کرسکتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ جرمانہ یا ایک دو دن کیلئے حوالات میں بند کرسکتے ہیں اسکے بعد پھر وہی سلسلہ شروع ہوجاتاہے اور بدقسمتی سے ایڈونچر کے شوقین نوجوان ان کمز ور قوانین سے فائدہ اٹھاکر پھر سے قانون شکنی کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں پھرسے ایک خاندان المناک حالات سے دوچار ہوجاتا ہے۔

اس تمام صورتحال میں دو ہی طریقے ہوسکتے ہیں جن سے نوجوان نسل کو ان خطرناک حادثات سے کسی حدتک بچایا جاسکتاہے حادثات پر مکمل کنٹرول ناممکن ہے البتہ ان کے شدت کو کم کیا جاسکتاہے اس کیلئے موثر قانون سازی کی فوری ضرورت ہے جو ہمارا قانون ساز اسمبلی اور ہمارے منتخب نمائندے ہی کرسکتے ہیں اس کے علاوہ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ،تعلیمی ادارے اور سول سوسائٹی کے اشتراک سے آگاہی پروگراموں کا انعقاد کیا جاسکتا ہے جن میں ٹریفک کے قوانین سے آگاہی ہیلمٹ کے استعمال کی اہمیت اور حادثوں کے باعث پیدا ہونے والے حالات خاندانو ں پر گزرنے والے مصائب سے نوجوان نسل کو آگاہ کیاجاسکتا ہے ایسے پروگراموں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان ،ڈاکٹر ز،دانشورز ،علماء اکرام اور اساتذہ اور ایسے حادثوں سے متاثرہ والدین نوعمربچوں کوان حادثات کے اسباب سے آگاہ کرسکتے ہیں۔

ہمارے منتخب نمائندے جن کے پاس قانون سازی کے اختیار ات موجو د ہیں ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں سخت قانون سازی کریں جن میں اٹھارہ سال سے کم عمر افراد پر موٹر سائیکل چلانے کی مکمل پابندی ،بغیر لائیسنس کے کوئی بھی گاڑی چلانے پر مکمل پابندی ،بغیر کاغذات کے موٹر سائیکلوں کو ضبط کرنے اور ہیلمٹ کے بغیر موٹر چلانے والوں کے خلاف سخت کاروائی سے متعلق قانون سازی کریں نیز قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی ان قوانین پر سختی سے عمل کرنے کی پابند بنادے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author