پاکستان میں صرف چھ ہزار کرپٹ سیاستدان، بیوروکریٹس اور عوام دشمن لوگ ہیں، سینیٹرسراج الحق کا چترال میں اجتماع سے خطاب

پاکستان میں صرف چھ ہزار کرپٹ سیاستدان، بیوروکریٹس اور عوام دشمن لوگ ہیں، سینیٹرسراج الحق کا چترال میں اجتماع سے خطاب

50 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال ( محکم الدین ) امیر جماعت اسلامی پاکستان سنیٹر سراج الحق نے کہا ہے ۔ کہ پاکستان میں صرف چھ ہزار سیاستدان ، بیورو کریٹ اور عوام دُشمن لوگ ہیں ۔ جن کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال کر کال کوٹھریوں میں قید کئے بغیر اس ملک میں کرپشن پر قابو نہیں پایا جا سکتا ۔ اور نہ اسلامی نظام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے ۔ تاہم جماعت اسلامی اس ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کرکے رہے گی یا اس راہ میں جدو جہد کرکے اپنی زندگیاں قربان کرے گی ۔

ان خیالات کاا ظہار انہوں نے اتوار کے روز چترال کے مقام دروش میں ایک بڑے جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر اُن کے ہمراہ امیر صوبہ مشتاق احمد خان ، ضلع ناظم دیر صاحبزادہ فصیح اللہ بھی موجود تھے ۔

انہوں نے کہا  کہ موجودہ حکمران پاکستان کو ایک سیکولر سٹیٹ بنانے کی کو شش کر رہے ہیں ۔ اور اُن کی یہ کو شش ہے  کہ اس طریقے سے قیام پاکستان کے مقاصدکو صرف ایک زمین کے ٹکڑے کے حصول تک محدود کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ان حکمرانوں کے اسلام دُشمن مقصد کو کبھی بھی کامیاب ہونے نہیں دے گی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ نہایت افسوس کا مقام ہے کہ پاکستان نے طویل جدو جہد کے بعد سفید ریچھ روس کو شکست سے دوچار کیا تھا ۔ لیکن آج موجودہ وزیر خار جہ اسے پاکستان کی غلطی سے تعبیر کر رہا ہے ۔ جو کہ نہ صرف انتہائی افسوسناک ہے ۔ بلکہ پاکستان کی کوششوں اور قربانیوں پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے۔

سراج الحق نے کہا کہ ہم نے سی پیک منصوبے میں متبادل چترال روٹ کے بغیر اس منصوبے کو نامکمل قرار دیا تھا ۔ اور میں چترال تاجکستان روٹ کو اس علاقے کی معاشی ترقی کیلئے لازمی تصور کرتا ہوں ۔ اس لئے مطالبہ کرتا ہوں کہ ان دونوں منصوبوں کو صرف کاغذ پر دیکھانے کی بجائے عملی طور پر اس پر کام کیا جائے ۔

اس موقع پر امیر جماعت اسلامی صوبہ خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان نے کہا کہ پاکستان کی 343سیاسی پارٹیوں میں سے صرف جماعت اسلامی ہی ہے جس کے قائدین آف شور کمپنیوں سے پاک ہیں ، اور اس کی تصدیق سپریم کورٹ نے بھی کر دی ہے ۔ ہم ملک کے غریب عوام کو انصاف دلانے اُس کے حقوق کے تحفظ کیلئے سیاست کرتے ہیں ۔ ہمارا مقصد حکومت کا حصول ہر گز نہیں ہے ۔ انہوں نے موجودہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی پر الزام لگایا کہ اقوام متحدہ کیلئے موجودہ دورے کے دوران انہوں نے مہنگے ترین ہوٹلوں کے مزے آڑائے ۔ انہوں نے کہا کہ نہایت افسوس کا مقام ہے کہ موجودہ حکمران برما کے مظلوم مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف بھی آواز نہیں اُٹھاتے اور ڈاکٹر عافیہ جیسی پاکستان کی بیٹی کی رہائی کیلئے ایک خط بھی امریکی حکومت کو لکھنے کیلئے تیار نہیں ۔ مشتاق احمد نے کہا کہ پاکستان کی حکومت پر چوروں اور ڈاکووں کا قبضہ ہے اور یہ پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ، اے این پی کے نام سے غریب عوام کے حقوق پر قابض ہیں اس لئے ان سے چھٹکارہ حاصل کئے بغیر ملک کی تعمیر و ترقی ممکن نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن 2018 میں چترال کی تمام سیٹیں جماعت اسلامی کی ہیں ۔ اور جماعت بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو منشیات کا اڈہ بنایا گیا ہے ۔ اور جوان نسل کو اس آگ میں جھونک دیا گیا ہے ۔ انہوں اپنے مد مقابل پارٹیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ۔ کہ یہ پارٹیاں نہیں بلکہ پراپرٹیاں ہیں ۔ جو صرف پیسے بنانے کیلئے کام کرتے ہیں ۔ انہوں نے صوبے میں اپنی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا ۔ کہ ہم نے صوبے میں سود کے خلاف قانون بنایا ۔ عقیدۂ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے مضامین کو نصاب میں دوبارہ شامل کیا ۔ اور قران پاک کو سکول کی سطح پر ناظرہ اور ترجمے کے ساتھ پڑھنے کو لازمی قرار دیا ۔ اور کروڑوں بچوں کو قرآن کے ساتھ جوڑ دیا ہے ۔

جلسے سے امیر جماعت اسلامی چترال مولانا جمشید احمد ، سابق ایم این اے مولانا عبد الاکبر چترالی ، ضلع ناظم اپر دیر صاحبزادہ فصیح اللہ، ضلع ناظم چترال مغفرت شاہ ، سابق چیرمین ڈسٹرکٹ کونسل چترال خورشید علی خان نے خطاب کیا ۔ اس موقع پر مختلف پارٹیوں سے درجنوں افراد نے جماعت اسلامی میں شمولیت کا اعمان کیا ۔ امیر جماعت سراج الحق نے اُنہیں ہار پہنائے اور مبارکباد دی ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔