ڈگری کالج ہاتون: سو  کے لگ بھگ طلبہ، ایک درجن لیکچررز، اور رزلٹ 29 فیصد

ڈگری کالج ہاتون: سو کے لگ بھگ طلبہ، ایک درجن لیکچررز، اور رزلٹ 29 فیصد

51 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

غذر(بیورو رپورٹ) ڈگری کالج ہاتون غذر کے مایوس کن رزلٹ نے طلبہ کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی پریشان کرکے رکھ دیا ہے۔ ہاتون ڈگری کالج میں ایک درجن لکچراز تعینات ہیں اور کالج میں سٹوڈنٹ کی تعداد بھی ایک سو سے زیادہ نہیں۔ لیکن اس کے باوجود رزلٹ صرف 29فی صد۔ آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ کالج انتظامیہ کی طرف سے تعلیم پر توجہ نہیں دی جارہی ہے۔

دوسری طرف اس وقت انٹر کالج یاسین میں 600طلباء وطالبات زیر تعلیم ہیں اور پرنسپل سمیت صرف چار لیکچرارز تعنیات ہیں، اور ان کا رزلٹ 54فی صد آیا ہے۔ عوامی حلقوں نے بہتر کامیابی پر پرنسپل شیر نادر سمیت ان کی ٹیم کی محنت کو داد دی ہے۔

اسی طرح گرلز انٹر کالج گاہکوچ کی بھی حسب روایت اس سال بھی 72فی صد رزلٹ آنے پر والدین اور بچوں نے انتہائی مسرت کا اظہار کیا ہے اورکالج کی پرنسپل کا شکریہ ادا کیا ہے۔

دوسری طرف، گوپس انٹر کالج کا رزلٹ 60فی صد اورچٹورکھنڈ انٹر کالج کا 43فی صد رزلٹ آنا بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ سٹاف کی کمی کے باوجود بھی ان کالجز کے لیکچررز نے محنت کی ہے۔ سوائے ڈگری کالج ہاتون کے دیگر تمام کالجز کا بہتر رزلٹ آیا ہے۔

عوامی سیاسی اور سماجی حلقوں نے سٹاف کی کمی کے باوجود بھی بہتر رزلٹ لانے پر ان کالجز کے سٹاف کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے اور ڈگری کالج ہاتوں کے مایوس کن رزلٹ پر سخت مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے سیکریٹری ایجوکشن سے اس حوالے سے باقاعدہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ایک درجن لیکچررز کی تعنیاتی کے باوجود مایوس کن رزلٹ آنے کی اصل وجہ معلوم کی جائے اور ساتھ ساتھ یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ جن کالجز میں سٹاف کی کمی ہے وہاں پوری سٹاف تعنیات کی جائے تاکہ اگلے سال اس سے بھی بہتر رزلٹ دے سکیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔