چلو قسطنطنیہ چلیں – دوسری قسط

چلو قسطنطنیہ چلیں – دوسری قسط

40 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تقسیم ایوارڈ اور گالہ سلیبریشن:

شام آٹھ بجے ایوارڈ تقسیم کر نے کا پروگرام تھا اور سات بجے جوبلی کی شرٹ میں ہم لوگ بیسمنٹ میں جمع ہو نا شروع ہو گئے، جان پہچان اور مان نہ مان میرا تیرا مہمان سب سے ملاقات کرتے ایک دوسرے سے ملتے اور ترکوں کے خشک میوہ جات سے لطف اندوز ہوتے، ہر قسم کی مشروبات کو اندر انڈیلتے رہے۔ جب ہم بیسمنٹ میں پہنچے تو ترکی ثقافت کے کچھ فن کار ہمارے استقبا ل کے لئے کھڑے تھے۔ ان میں ایک وارئیر یعنی جنگجو تھا جس نے زرہ بکتر پہنا ہوا تھا اور لوھے کا خول سر پر چڑھائے اور دایاں ہاتھ زرہ بکتر کے ساتھ لگے ہوے تلوار کو پکڑے کئی چاقو بھی ساتھ لٹکائے سات فٹ سے بھی لمبا قد ، اس کے بائیں جانب ترکیش چوغہ اور بڑا سا ٹوپی پہنے ہوے دل کش مسکراہٹ کے ساتھ۔

ایک اور لڑکا کھڑا تھا ااس کے بائیں جانب دو ترکیش حسینائیں جلوہ افروز تھیں اور ترکش حسن کی نمائندگی بھر پور طریقے سے کرتی تھیں اور ان کے ساتھ دو لڑکے مکمل ترکی لباس میں بڑے بڑے ڈھول لئے کھڑے تھے۔ پھر کیا تھا میاں جاوید کی تو باچھیں ہی کھل گئیں اور فٹ سے ان حسن کے دیویوں کے درمیان کھڑا ہو کر کئی پوز بنوائے گویا کہ میرے جیسوں کے لئے ایک قسم کی راہداری کھولا او پھر دھڑا دھڑ ہر آدمی نے ایک ایک پوز ان کوہ قاف کے ہمسایوں کے ساتھ بنوایااور تر کیش فن کاروں کے ساتھ فوٹو گرافی کرتے خاص کر ان دو خوبصورت ترکی لڑ کیوں جو ترکش لباس میں جسم کا آدھا حصہ ڈھکہ ہوا تھا کے درمیان کھڑا ہو کر ہم سب نے فوٹو کھینچوانا اپنا فرض منصبی جا ن کر بخوبی ادا کرتے رہے اور کچھ لوگ تو خاص کر بار بار اپنا یہ فرض اد کرنے میں منہمک نظر آئے، میں نے بھی پہلے جنگجو کے ساتھ یک فوٹو بنوایا اور دوسرے کے ساتھ ٹوپی بدل کر ایک فوٹو بنوایا اور پھر ترکیش حسیناوں کے درمیان اپنی عمر کا خیال رکھے بغیر اور ان کی مغربی پن کا احساس کئے بغیر ایک فوٹو اترواکر ڈھو ل والوں کے ساتھ بھی ایک فوٹو اتروایا ، اس حال میں بادام پستہ، اور بہت سے خشک میوہ جات کا انبار لگا تھا ہم نے بغیر کسی تعمل کے سب پر کئی کئی مرتبہ ہاتھ صاف کیا اور لیمن جوس، اورنج جوس اور انار کے جوس کے تو کئی کئی گلاس انڈیل دیا جیسا کہ ہم نے صہر ائے گوبھی ابھی ابھی عبور کر کے آئے تھے کہ کئی کئی دنوں کے پیاسے بھی شاید اتنا نہ پیتے۔

۹ بجے کے قریب ایم ڈی صاحب جاوید احمد بھی تشریف لائے اور سیدھا حال میں تشریف لے گئے تو ہم بھی اپنے اس فرض منصبی سے مجبوراََ دست بردار ہوے، اس امید پر کہ اگلہ مرحلہ اس سے بھی زیادہ چمکیلا اور شاندار ہوگا۔ ساڑھے نو بجے کے قریب کاشف کارپوریٹ برانچ شمس آباد نے اللہ کے نام سے گالہ محفل کے آغاز کا اعلان کیا کچھ چٹکلے بھی سناتا رہا اور محفل کو محظوظ کر نے کے ساتھ ساتھ ایوارڈز کا بھی اعلان کرتا رہا ۔اور پھر ہمارے ترکیش بہن بھائی بھی بیچ میں اپنے ہو شربا حسن کے ساتھ حاظر خدمت ہوتے رہے اور ترکیش ڈسکو ڈانس سے کم اور جسم کی نمائش سے زیادہ ہماری مہمان نوازی کر تے رہے اور ہم نے یہ سوچے بغیر کے اگر کسی پاکستانی مولوی کو پتہ چل گیا تو کفر کا فتویٰ صادرہوگا ، اپنے میزبانوں کو صحیح دل کھول کر بل کہ منہ کے بٹن بھی کھول کر داد دیتے رہے اور باری باری اپنا ایوارڈ بھی وصول کرتے رہے۔ رات بارہ بجے کے بعد یہ تقریب اختتام پذیر ہو ئی، اور پھر ہم ترکیش کھانوں پر ٹوٹ پڑھے لیکن پاکستانی سیاست دانوں کے جیالوں کی طرح نہیں البتہ نہایت مہذب طریقے سے اس فرض سے بھی سبک دوش ہو کر اپنے بڑوں کے ساتھ فوٹو گرفی وغیرہ کیا اور میں نے خاص کر ایم ڈی جاوید احمد کے ساتھ فوٹو اتر وائے تاکہ لوگوں کو یہ مغالطہ نہ ہو کہ جاوید احمد ایم ڈی کون ہے اور ۱۴ سال کی سروس کے بعد بھی ٹی ایس او ، جاوید احمد کون ہیں اور ترکی کے وقت کے مطابق رات ۳ بجے میں اپنے کمرے میں گیا اور چار بجے کے بعد نماز دوگانہ ادا کرکے سو گیا ۔

برسا کی سیر:

دوسرے دن ہم لوگوں نے برسا جانا تھا ، ناشتے سے فارغ ہو کر ہم لوگ لابی میں جمع ہوے اور بسوں میں سوار ہو کر برسا کی طرف چل پڑے اور خوبصورت مناظر اور عمارات کا بس کی کھڑکی ہی سے فوٹو گرافی کرتے رہے، آج ہمار ی رہنمائی کے لئے ایک مسکراتا اور شرارتوں سے بھر پور اور تیز تراز اور لمبا سا حسن موجود تھا، بس میں جب ہم سوار ہوے تو ہمارے رہنما نے کئی بار سب کو گنتی کیا اور پھر جونہی بس روانہ ہوئی تو ڈرائیور سیٹ کے ساتھ لگی ہوئی سپیکر کے ذریعے حسن یوں مخاطب ہوا ، معزز خواتین و حضرات میرا نام حسن ہے اور میں آج کے دن کے لئے آپ کی رہنمائی کرونگا اور یہ کہ سب سے پہلے آج کا پروگرام ، ابھی ہم ہاربر جائنگے اور وہاں سے فیری کے ذریعے سمندر پار کر کے الوجا جائنگے اور گرانڈ مسجد یا مسجد الو جامی دیکھے نگے اس مسجد کو ۱۳۹۷ء میں یلدرم بایزید نے بنوایا تھا اور پھر ایک ریستوران میں دوپہر کا کھانا کھائینگے اور پھر گرین مسجد اور گرین مقبرہ دیکھے نگے ، ہم آپ کو میٹنگ پویئنٹ اور وقت مقرر کریں گے تاکہ آپ لو گ سیر کے بعد وقت مقررہ پر مقررہ جگہ آ جائنگے تاکہ آپ کا اور ہمارا وقت بچ سکے، پھر ہم کیبل کر کے ذریعے برسا کے پہاڑ کے اوپر جاینگے اور گھنے جنگلات کے اوپر سے گذرتے ہوے یقیناََ آ پ محضوظ ہونگے، ہمارا آج کا سفر یک طرفہ تین گھنٹے کا ہوگا گویا آنا جانا چھ گھنٹے کا ہو گا، پھر اس نے استنبول کا تعرف کریا کہ استنبول کا پرانا نام قسطنطنیہ تھا اس کی کل آبادی سرکاری عداد و شمار کے مطابق ۱۵ ملین یعنی ڈیڑھ کروڈ لیکن عملی طور پر اس کی آبادی دو کروڈ سے کم ہر گز نہیں۔ اس نے بتایا کہ استنبول کا ۹۷ فی صد ایشیا ء میں اور صرف ۳ فی صد یورپ میں واقع ہے ، لیکن مجھے تو یہ۱۰۵ فیصد سے بھی زیادہ یورپ نظر آیا کیو نکہ یہاں کی بچیا ں او ر بوڑھیاں جن کی چہرے کی جریاں اور کھال مجھ سے بھی یادہ لٹکے ہوے ہیں لیکن جسم کی مکمل نمائش میں جوان لڑ کیوں کو بھی پیچھے چھوڑا ہے ، یہاں کی جوانیاں انتہائیحھوشربہ، حسن سے بھرپور، اور اور جسمانی دولت سے مالامال نظر آتی ہیں جسم کی درمیانی حصے کو تھوڑا بہت چھپایا ہو تا ہے باقی سب یورپ نظر آتا ہے،ہمارے رہنما نے مزید بتایا کہ استنبول جس کو مسجدوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے میں ۳۲۰۰ مساجد ، ۱۵۰ عیسائی گرجہ گھر اور ۱۲۰ یہودی کلیسا ء ہیں ، اس نے ایک پل کی طرف عشارہ کر کے بتایا کہ اس پل کو محمد الفاتح بریج کہا جاتا ہے ۔اس کا پرانا نام قسنطنیہ تھا، پہلے یہ شہر عسائی شہر تھا پھر یونانیوں نے قبضہ کیا اور پھر ۳۳۰ ء میں رومن قابض ہو گئے اور رومن بادشا کی ماں رومن کتھولک تھیں اس کی ایما پر عیسائیت سرکاری مذہب قرار دیا گیا ۔ سترویں صدی میں یہاں شہنشاہیت تھی یا تو ان کا کہا مانو یاقتل ہو جاو اور یا ملک چھوڑ دو، اٹھارویں صدی میں عثمانیہ حکومت قائیم ہوئی ، عثمانیوں نے تعلیم کو عام کیا ، الوجامی مسجد جو کہ برسا ء میں ہے اس کے دو ممبرز ہیں ان کے بارے میں مسجد پہنچ کر میں آپ کو بتاونگا کہ ایسا کیوں ہوا لیکن راستے میں وہ کسی دوسری بس میں گیا اور ہمیں یہ معلوم نہ ہو سکا کہ دو ممبرز کیوں بن گئے تھے۔ وہ تر کی کے بارے میں مزید کچھ بتا رہا تھا کہ ہمارے ایک ساتھی کاشف نے ان سے سوال کیا کہ اتا تر ک نے تو عثمانی حکومت کو ختم کیا تو یہ با ت اس کو اچھی نہ لگی جو کہ اس کے چہرے کے تاثرات سے ظاہر ہو رہا تھا کہ ترکی اتا ترک کے خلاف کوئی بات سننے کو تیار نہیں، بہر حال اس نے تحمل کے ساتھ جواب دیا کہ نہیں ایسا بالکل بھی نہیں ہے کمال اتا ترک تو سلطان کا فوجی کمانڈر جنرل تھا عثمانی حکومت کو تو وارثاپکٹ کے تحت انگریزوں نے ختم کیا تھا اس لئے اتاترک نے ترک قوم کو بچانے کے لئے حکومت سنبھا ل لیا اور یہ اس کا ہم پر احسان ہے ، چونکہ اس وقت عراق، شام، اور فلسطین وغیرہ ہمارے ساتھ نہیں تھے صرف ہندوستان کے مسلمان او ر افغان ہمارے حق میں تھے یہی وجہ ہے کہ ترکی پاکستان کو بہت چاہتے ہیں۔ ترکی پاکستان سیم سیم ۔ ملک کے ۸۱ بڑے بڑے شہر ہیں، پہلا سلطان مراد تھا لیکن اس سے پہلے خلیفہ تھے ، چو نکہ کاشف ان سے سوالات پوچھ رہا تھا اس لئے اس نے اس بحث سے اپنے آپ کو الگ کیا ، جب ہم ہاربر پہنچ گئے تو بسوں سمیت فیری میں لوڈ ہو گئے اور پتہ بھی نہیں چلا اور ہم سمندر کا یہ راسہ طے کیا اور دوبارہ بسوں میں لد کر سوئے منزل روانہ ہو گئے۔ راستے میں جو بھی پہاڑیا ں نظر آئیں ان پر گھنے جنگل نظر آگئے لیکن یہ جنگل قدرتی نہ تھے بل کہ یہ درخت اُ گائے گئے تھے اور ایک ترتیب سے لگائے گئے تھے جب ہم نے اپنے رہنما سے پوچھا تو اس نے کہا کہ یہ درخت لگائے گئے ہیں اور یہ کہ زیادہ تر درخت زیتون کے ہیں اور یہ وجہ ہے کہ ہمارا خوردنی تیل زیتون کا ہے

مخلص ترکی:

ترکوں کی مخلصی کا اندازہ اس بات سے لگائے کہ ہمارے رہنما یا گائیڈ راستے میں جہا کہیں کوئی اچھی سی مارکیٹ آتی تھی وہ بغیر کسی پروگرام کے ہمیں اتار تے تھے اور کہتے تھے کہ یہ مشہور مارکیٹ ہے آپ دیکھے اور اتنے بجے یہاں بسوں پر پہنچ جائیں ، ان کا مقصد صرف یہ ہو تا تھا کہ پاکستانی کچھ نہ کچھ لیرا ہمارے ملک میں خرچ کریں اور واقع ہی اندھے تقلید کے پاکستانی بغیر سوچے سمجھے کچھ نہ کچھ خرید لیتے تھے اور ایک دوسر ے کا دیکھا دیکھی بہت کچھ خریدتے تھے ، تو ہمیں بھی راستے میں ایک سٹور پر اتارا گیا اور کہا کہ یہ گرانڈ مارکیٹ ہے آپ اسے دیکھے اور جلدی آ جائے ، تو ہم اگلی منزل کی طرف جائینگے ۔ اور پھر کیا تھا کہ پاکستانی جڑ گئے اور اچھا خاصا وقت اور کرنسی کا ضیاء کر دیا ، یہا ں سے حسن ہم سے بچھڑ گیا اور ہم یاسین ترکی کے رہنمائی میں آگے بڑھے عورتیں گنتی بیلچہ چلاتی ہیں: راستے میں میں نے نوٹ کیا کہ ایک جگہ سڑک کے کنارے بنے ہوے پھولوں کی کیاریوں میں پاکستانی بلدیا کے ملازمین کی طرز کے بنے ہوے کوٹیا ں پہن کر کچھ ترکیش عورتیں کام کر رہی تھیں بڑی صحت مند تھیں اور ہر قسم کی دولت سے مالا مال تھیں اور کیارویوں میں گنتی بیلچہ سے کام کر رہی تھیں۔ دوپہر بارہ بجے ہم لوگ الوجہ پہنچ گئے اور پھر گرینڈ مسجد یا الوجامی مسجد کے سامنے بسوں سے اتر گئے تو ہمارے گایئڈ یاسین نے ایک گھنٹے کا وقت دیا اور ہم اتر کر مسجد کی طرف روانہ ہو گئے ، جیسا کہ ہمارے گایئڈ نے بتایا تھا کہ یہ مسجد سلطان یلدرم بایزید نے بنوایا تھا ، ترکی کی مسجدیں جس نے بھی بنوایا ہے خاصکر استنبول کی ساری کی ساری مسجدیں جوہم نے دیکھا یا نظر آتی ہیں اسلامی فن تعمیر کی شاہکار ہیں ان میں مجھے تو مصر کی فاطمی فن تعمیر نظر آ رہی تھی یہ میری ذاتی رائے ہے ، بہر حال یہ مسجد ۱۳۹۷ء میں بنایا گیا تھا اس مسجد کے چھت کے سولہ (۱۶) گنبد ہیں ، سولہ ہی بڑے بڑے ستون ہیں جن کی چوڑائی تقریباََ پندرہ فٹ ، اور اونچائی تقریباََ ۳۰ فٹ ہے اور موٹائی تقریباََ تین فٹ ہے اور اس مسجد میں دو ممبر ہیں جن کے بارے میں ہمارے گائیڈ نے بتانے کا وعدہ کیا تھا لیکن راستے میں وہ کسی دوسری بس میں چلا گیا تھا یا ہم دوسری بس میں شاید سوار ہوگئے تھے۔ چاروں طرف دیواروں پر خوبصورت گلکاریاں کی گئیں ہیں اور قرٓآنی آیات شریف نہایت نفیس طریقے سے لکھی گیءں ہیں ہر گیٹ یا دروازے کے ساتھ اندر جوتے رکھنے کے ریک بنائے گئے ہیں جو کہ ہمارے پاکستان میں صرف اسماعیلی جماعت خانوں میں باقائدہ شوز کمپنی ہوتی ہیں اور بوائز سکاوٹس نماز کے اوقات کار میں ڈیوٹی دیتے ہیں اور ایک باقائدہ نظام ہے ، اسکے علاوہ کسی مسجد میں جوتے سنبھالنے کا کوئی انتظام نہیں لیکن ترکی کے تمام مساجد میں جن جن میں ہم گئے جوتے رکھنے کا کم ازکم انتظام تو ہے یہ مسجد ایک شاندار اور تاریخی مسجد ہے یہاں سے نکل کر سڑک کے نزدیک ایک خو ب صورت فوارہ چل رہاتھا وہا ں پہنچ کر ہم نے فوٹو گرافی کیا اور ویڈیو بنائے اور جب سب لوگ جمع ہو چکے تو ہمارے گائیڈ نے بس میں بٹھا کر گنتی کیا اور روانہ ہوے ایک ریستوران میں کھانا کھایا ترکی کھانے مجھے بڑے راس آئے تھے کسی قسم کی کوئی شکایت ان پانچ دنوں میں میرے معدے نے بالکل نہیں کیا اور خوب دبا کر کھانا کھاتا تھا ۔ان کی کھانے میں سلاد اور کھیرا کا زیادہ استعمال ہے اور خوب مزیدار بھی۔

گرین ماسک (مسجد)

کھا نا کھانے کے بعد ہم لوگ گرین مسجد ( سبز مسجد ) دیکھنے گئے تو وہاں ہم نے فوٹو گرافی وغیرہ کیا اور ویڈیو بنائے یہ مسجد ۱۴۱۳ء میں پانچواں عثمانی خلیفہ محمد العشری نے بنوایا تھا اس مسجد میں سبز ٹائلیں اور زمرد کے پتھر کا ستعمال کیا گیا ہے اس لئے اس کو گرین مسجد کہا جاتا ہے ، اس مسجد کا ایک حصہ خلیفہ کے دربار کے لئے اور ایک کمرہ اس کی رہائش کے لئے مختص تھا لیکن اب دربار والا حصہ بھی مسجد میں شامل ہے اور رہائشی کمرہ اب دفتر ہے یہ باتیں اس مسجد کے موزن نے ہمیں بتایا بھی اور دفتر والے کمرے کو کھول کر دکھایا بھی اور سورہ رحمان کی چند آیات کی تلاوت بھی کر کے سنایا اور نکلتے ہوے ایک برتن دکھایا کہ اگر کوئی چندہ دینا چاہے تو اس میں ڈالے ، دربار والے حصہ میں ایک فوارا بھی ہے اور ایک طرف ایک نلکہ بھی تھا جس کے ساتھ پیتل کا ایک خوبصور پیالہ پاکستان کی طرح باندھا ہوا تھا اور اس کو دیکھ کر میں ہنسا تھا کہ چلو ہمارے ترکی بھائیوں کا ایک عادت تو کم از کم ہم پاکستانیوں سے ملتی جلتی ہے کہ انھوں نے بھی پیالے کو قید کیا ہے اور ہو سکتا ہے کہ کسی پاکستانی نے کسی پیالے پر ہاتھ صاف کیا ہو اور ان کو بھی پیالہ قید کرنے کا خیال آیا ہو۔اس مسجد کے بھی تقریباََ پانچ گنبد تھے اور انتہائی خوبصورتی سے قرآنی ایات سے سجایا گیا ہے اس مسجد کے چار حصے تھے جیساکہ بتایا گیا کہ بادشا کے میٹنگ روم یا دربار کا جگہ بھی اب مسجد میں شام ہے جس کی وجہ سے چار حصے الگ الگ نظر اتے ہیِں۔

گرین مقبرہ:

گرین مسجد کے سامنے ذرہ اونچائی پر ایک مقبرہ نظر آتا ہے اس میں بھی وہی سبز ٹائل اور پتھر کا اسعمال کیا گیا ہے اور اسی نسبت سے گرین ٹامب (مقبرہ) کہا جاتا ہے جب اس میں داخل ہوے تو پتہ چلا کہ یہ اسی خلیفے کا مقبرہ ہے جس نے گرین ماسک (مسجد) بنوایا تھا اور خلیفہ کے قبرکے پاؤں کے ساتھ دایءں بایءں دو چھوٹی چھوٹی قبرے تھیں جو کہ ان کی شہزادوں کی تھیں اور پائینتی میں چار قبریں تھیں جن میں سے ایک پر کسی خاتون کا نام لکھا تھا اور ہو سکتا ہے کہ یہ ساری قبر یں اس خلیفے کی گھر والے اور ان کی بیوی کا قبر ہو۔ مقبرے کا سن کر پاکستانی خوش ہو ے تھے کی کسی پیر فقیر یا کسی صحابی کا قبر ہو جیساکہ پتہ چلا کہ ایوب انصاری کا مقبرہ استنبول میں بلیو ماسک(مسجد) کے نزدیک کہیں ہے لیکن جب وہا ں خلیفہ محمد العشعری کے نام کا کتبہ دیکھا تو سب کہنے لگے کہ نہیں اوئے اے تے پانچویں خلیفے دا قبر ہیگا ، اننا نے ساڑہ وقت ضایع کرا دتا اے، وہاں سے نکل کر ارد گرد کے مارکیٹ میں اوارہ گردی شروع کیا اور دکانوں اور فٹ پاتھ پر بکھرے ہوے نایاب اشیا کی انبار دیکھنے لگے اگر ترکی لیرا کے حساب سے دیکھا جائے تو خاصے نہیں بلکہ نہایت مناسب قیمت تھا جب کہ ہم ایک ترکی لیرا کو تینتیس (۳۳) سے ضرب دے کر دیکھتے تھے ہماری قیمت خرید ہمیں اجاذت نہیں دیتی تھی۔ایک انگوٹھی کی قیمت جو کہ دوکاندار ذمرد کا بتا رہا تھا لیکن میرے خیال میں ایک عام سا پتھر کا تھا ۱۵۰ ترکی لیرا بتایا جوکہ ۴۹۵۰ روپے پاکستانی بنتا ہے۔ اسی طرح ایک دو معمولی شالوں کی قیمت ۲۵ سے ۳۵ لیرا کا بتایا گیا جو کہ ۸۲۵ پاکستانی روپے اور ۱۱۵۵ پاکستانی روپے کا بنتا تھا۔ ایک تسبیح کا پوچھا تو ۳۰ لیرا بتایا جو کہ ۹۹۰ روپے بنتا ہے جبکہ میں نے صرافہ بازار ، راولپنڈی سے ۶۰۰ پاکستانی کا خریدا تھا ۔ پانی کا چھوٹا بوتل جو کہ پیراسٹامول کے شربت کے بوتل کے سایئز سے کچھ بڑا ہو تا ہے ۳۳ پاکستانی کا ملتا ہے جب کہ پاکستان میں اس سے بڑا سائز ۳۰ روپے کا ملتا ہے۔ مارکیٹ ہو یا دکان بہت خوبصور تھے اور نایاب اشیاء ہوں یا کھلونے ، روز مرہ ضروریا ت کی اشیاء تھیں یا پھل فروٹ، کپڑے کی دکان ہو یا سبزی کی دکان ، سب صاف ستھرے اور چمکتے دھمکتے دکھائی دیتے تھے بلکہ آنکھوں کو خیرہ کر دیتے تھے ۔ بڑے بڑے مارکیٹوں میں تو باقائدہ ریٹ اشیاء کے اوپر اور ریک پر لکھا گیا تھا گاہک اپنی مرضی کی چیزیں اور ا ن کی قیمت اگر پسند آگئے تو اٹھا کر ریڑھے میں لاد کر کونٹر پر جاتے تھے اورکونٹر پر بیٹھے ہوے عملہ ہر چیز کو کمپیوٹر کو دکھاتے اور گاہک کو بھی دکھاتے کہ کیا ان کو یہ قیمت منضور ہے گویا وہ یہ تسلی بھی کرتے تھے کہ کیا کسٹمر نے اس کی قیمت کا بھی اندازہ کیا ہے یا ایسے ہی اٹھا لایا ہے جب گاہک سر ہلا کو تصدیق کرتا تو اگلہ چیز کمپیوٹر کو دکھاتا اور بل بنا کر ٹوٹی پھوٹی انگیر یزی میں بل بتا بھی دیتے اور بل بھی تھما دیتے ہیں ، لیکن عام مارکیٹ یا بازار میں راجہ بازار راولپنڈی کی طرح دکاندار گاہک کو پکار پکار کر اپنی طرف متوجہ کر تے تھے ااور چیزوں کی اصلی قیمت سے زیادہ بھی بتاتے تھے ااور پھر ہم پاکستانی بھی تو ان سے الجھ کر کم از کم اپنے مرضی کے مطابق نہیں تو پھر بھی کچھ نہ کچھ کم کرا دیتے تھے،عام لوگ انتہائی سلجھے ہوے کسی کو کہیں پر بھی جلدی نہیں جس طرح پاکستانیوں کو ہر جگہ جلدی ہوتی ہے۔ اس گرین مسجد اور گرین مقبرے کے گرد ز یادہ تر دوکانیں مکانوں کے اندر تھے جو کہ پرانے طرز تعمیر کے نمونے تھے اور ان دکانوں کو بھی علحٰیدہ علحٰیدہ بند کر نے کا کوئی طریقہ نہیں نظر آیا کیو ں کہ مکان کے مختلف کمروں سے دروازے ہٹا کر دکان بنائے گئے تھے صرف ایک ہی دروازہ سے داخلہ تھا اس بیرونی دروازے کو بند کیا تو تمام دکانیں محفوظ ، یہاں یعنی ترکی میں پولیس نظر نہیں آتی، البتہ سکیوریٹی کے عہدے دار کہیں کہیں نظر آ تے تھے، صرف تقسیم سکیور یا چوک میں ایک بکتر بند گاڑی او ر فوجی اہلکا ر دیکھنے میں آتے تھے۔

کیبل کار :

برسامیں کافی دیر گھومنے اور دیکھنے کے بعد ہم لوگ کیبل کار کی طرف روانہ ہوے اور بہت جلد ہی یہ سٹیشن آیا اور ہر بس کے رہنما نے اپنے اپنے بس کے سواریوں کو اپنے ہاتھ میں اُٹھائے ہوے جوبلی لائف کے بورڈ دیکھا کر ایک جگہ جمع کیا اور مختصراََ بتایا کہ یہ ٹکٹ واپس یہاں آنے تک سنبھا ل کر رکھنا ہے سفر دو مرحلوں میں ہو گا کچھ فاصلے پر آپ کار سے اتر جائنگے اور وہا ں سے آ خری سٹیشن تک بھی یہی ٹکٹ دکھا کر جا سکے نگے لیکن ہمارے سارے ساتھی اور سینیر اس درمیانے سٹیشن سے ہی واپس آئے اور یہ آئے وہ گئے ہو گئے لیکن ہم کچھ لوگ گھنٹہ بھر رک کرفوٹو گرافی کر تے رہے ، ایک سکیوریٹی اہل کار جو ہمارے ساتھ شروع سے کار میں سوار ہو ا تھا اُس کی اِس درمیانی سٹیشن پر ڈیوٹی تھی نے بتایا کہ اس کیبل کی لمبائی چالیس کلو میٹر ہے اور یہ کہ یہ ساری جنگل اگایا گیا ہے اور یہ کہ زیادہ تر زیتون کے درخت تھے اور یہی وجہ ہے کہ ہم زیتون کے تیل کو بطور خوردنی تیل استعمال کرتے ہیں، اتنے گھنے جنگل ہیں کہ جگہ جگہ بورڈ لگا ہوا ہے کہ گیدڑ، بھیڑیئے، اور ریچھ کا خطرہ ہے کیو نکہ بورڈ پر ان کی تصویریں بنائے گئے تھے جس سے ہم نے یہ اندازہ لگایا تھا ۔ یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ان کیبل کاروں میں آٹھ آٹھ بندوں کے بیٹھنے کا جگہ ہے لیکن زبردستی آٹھ بندے نہیں بٹھاتے اگر کوئی خوشی سے بیٹھے توٹھیک ورنہ جتنے بندے ایک گروپ کے بیٹھے تو عملہ صرف آواز ضرور دیتے ہیں کہ کوئی ان کے ساتھ بیٹھے گا اگر کوئی نہ بیٹھے تو پاکستانیوں کی طرح زبردستی کسی دوسرے کے ساتھ نہیں بٹھاتے ہم بھی صرف تین تھے اور ساتھ ایک سکیوریٹی کا اہلکار جو درمیانے سٹشن پر ڈیوٹی پر جا رہے تھے ہمارے ساتھ بیٹھے تھے۔جس درمیانے سٹیشن پر ہم اترے تھے وہاں پر بھی ایسے خوبصورت مارکیٹ ہیں کہ ہمارئے موتی بازار اور انار کلی میں بھی ایسی مارکیٹیں نہیں ہیں ، ایک گرم قسم کی کوٹ کی قیمت پوچھا تو بتایا گیا کہ ۱۰۰ ڈالر ، جو کہ تقریباََ ۱۰۶۰۰ پا کستانی روپے بنتاہے۔ اسی طرح بہت خوبصورت خوبانی اور شہتوت، سٹرا بری یا رس بری قسم کے پھل وغیرہ کی قیمت ۲۰ لیرا فی کلوبتایا گیا۔یہ سٹال نہایت خوب صورت طریقے سے سجایا گیا تھا جو کہ پھولوں کی طر ح نظر آرہا تھا، نہایت خوبصورت خوبانی اوراخروٹ بھی تھے، اس جگہ ایک بندہ ایک بڑے بالو والی بلی اور ایک بہت بڑا طوطا لے کر بیٹھا ہوا تھا اور ایک بندہ ایک پونی ( پستہ قد) گھوڑا زین سے کس کر لگام پکڑ کر گھوم رہا تھا اس کا قد دو فٹ سے شاید کچھ زیادہ اونچا ہوگا، پاکستانی بکرے کی قد جتنا قد تھا شاید لمبائی میں کچھ لمبا تھا جو بندہ اس کو لئے گھوم رہا تھا اسکے گٹھنے سے کچھ اونچا تھا البتہ موٹا تازہ تھا ، ہم پاکستانی ایسی چیزوں میں کم ہی دلچسپی لیا کرتے ہیں۔چو نکہ ہم صرف چار بندے اپنے ٹیم کے رہ گئے تھے اس لئے ہم نے بھی واپسی کی راہ لی ۔آتے جاتے ہم نے ویڈیو بنایاتھا اور فوٹو گرافی بھی خوب کیا تھا ، ہم واپس آنے والے اپنی ٹیم کے آخری بندے تھے جب نیچے ابتدائی سٹیشن پر پہنچے تو آخری بس ہمارا انتظار کر رہی تھی۔بس میں سوار ہوے تو بس روانہ ہوئی اور شام شام کو ہم ہاربرپر پہنچے تھے اورصبح کی نسبت اب کے کافی انتظار کر نی پڑی شاید رش تھا پھر فیری کے ذریعے ہم استنبوم کی طرف نکل گئے اور آٹھ بجے کے قریب ہوٹل پہنچ گئے۔

تقسیم سکیور اور ہندوستانی کھانہ :

کمرے میں گیا تو شیخ وحید لمبے پڑے تھے تھوڑی دیر رک کر نیچے آیا تو علاولدین صاحب ملے اور کہا کہ جاوید ہم تمھارا انتظار کر رہے ہیں چلو باہر لوگ کھڑے ہیں۔ میں جانا نہیں چاہ رہا تھا کیو نکہ ترکی میں کچھ لوگوں کا رویہ عجیب ساتھا وہ ایسے موڑ بناتے تھے جیسے باقی سب لوگ ان کی وجہ سے آئے ہیں او ر وہ ان کی وجہ سے ڈسٹرب ہو رہے ہیں۔ جبکہ پاکستان میں ان کا رویہ ایسا ہر گز نہیں تھا۔ جب میں ان کے نزدیک جاتا تھا تو وہ دوسری طرف منہ کر تے تھے ایک دو مرتبہ میں جان بوجھ کر ان کے نزدیک ہو نے کی کوشش کیا لیکن جب دیکھا کہ واقع ہی ان کا رویہ تبدیل ہے تو میں نے بھی ان سے سرو کار نہیں رکھا، جب تقسیم سکیور یا میدان انقلاب جانے لگے تو چار چار بندے ٹیکسی میں بیٹھ کر چلنے لگے ہم بھی چار بندے ایک ٹیکسی میں بیٹھے اور تقسیم سکیور یعنی وہ جگہ جہا ں دو سال قبل طیب اردگان کی حکومت کے خلاف ایک نا کام فوجی بغاوت ہو ا تھا جسے اردگان کے حامیوں نے ناکام بنایا تھا ، ترکی کے لوگ اپنے ملک اور اردگان سے بہت محبت کرتے ہیں اور پاکستان سے بھی بہت محبت کرتے ہیں جب ان کو پتہ چلتا تھا کہ ہم پاکستانی ہیں وہ تھمب اپ کرتے تھے اور ترکی پاکستان برادر ترکی پاکستان سیم سیم کا نعرہ بلند کرتے تھے، او ر جب ہم تقسیم سکیور پہنچ گئے تو فی کس ہم نے ٹیکسی کو پانچ پانچ لیرا دے کر اتر گئے اور ٹیکسی والے اس چوک کو میدان انقلاب بتاتا تھا۔ ہم ٹیکسی سے اُتر کر باقی دوستوں کا انتظار کرنے لگے جب علاء الدین اوردوسرے ساتھی آگئے تو ایک سڑک پر سیدھے چلنے لگے معلوم ہوا کہ ہندوستانی ریستوران کی تلاش ہے کہ دیسی کھانا کھایا جائے لیکن اتنے چلے کہ تھک گئے اور بے زار ہو کر کئی دفعہ واپسی کا کہا لیکن پھر میاں جاویدجو آگے آگے تھا تو اس نے کہاں رکنا تھا چونکہ ترکی کاحسن سارا کا سارا سڑکوں پر تھا اور نوجوں لڑکے اور لڑکیا ں خاص کر مکمل یورپ بن کر ترکیش حسن کے جلوے دکھا رہے تھے اور سرخ و سفید تنو مند بچیاں اپنی حسن اور حسن کی دولت کا بھر پور نمائش کر رہی تھیں اور ایسا لگ رہا تھا ہم ترکی میں نہیں بلکہ برلن یا اسٹریا میں گھوم رہے ہیں کیونکہ یہاں تو نوجوان اور نوجوانیاں ایسے مست تھے کہ دوسروں کی موجودگی کا ان کو ایسا بھی احساس نہیں تھا جو کہ مغربی جوڑوں کی طرف دیکھنے سے وہ بر ا مناتے ہیں مگر ہمارے مسلم برادر ملک کے باشندے برا نہیں مناتے تھے ان کو کھلی چھٹی تھی کہ وہ اپنے حسن اور اس کی دولت مندی کا کھل کر مظاہرہ کرے تاکہ مہمانوں کی دل جوئی میں کوئی کسر نہ رہ جائے اور ملک کا ٹوریزم کہیں فیل نہ ہو اور یہ لوگ بہت ہی صحت مند اور تنومند تھیں جس کی وجہ سے جلوہ دکھانے میں زیادہ مشکل پیش نہ آتا تھا آپ سمجھ تو گئے ہوں گے اگر نہیں تو میاں جاوید سے پوچھے،کیو نکہ وہ کئی بار ہوٹل ڈھونڈتے ڈھونڈتے ترکیوں کے دولت کدوں سے ٹکراتے ٹکراتے بچ گئے تھے، تو ایسے میں میاں جاوید تو کیا میرا بھی جی چاہ رہا تھا کہ چلتے جاو، چلتے جاو اورآ خر کار پتہ لگا کہ کسی نرگیس کی گلی میں یہ ہوٹل ہے یعنی نرگیس سٹریٹ میں ، دس پندرہ منٹ مزید چلنے کے بعد گلی بھی مل گیا اور ہوٹل بھی، لیکن کاش ہندستانی فوڈز والی یہ ریستوران بند ہو چکا تھا چونکہ رات کے بارہ بج کر کچھ منٹ ہو چکے تھے۔ سب کے منہ لٹک گئے اور واپسی پر ایک کینگ بر گر والے کے پاس گئے اس نے کسی پیکیج کے تحت نو نو لیرا کا ایک چکن برگر دینے کا عندیہ دیا تو ہم سب نے بیک آواز( آمیین ) کہا کیو نکہ اتنے تھکے تھے کہ وہی رہنے کو جی چاہتاتھا اور تھوڑی دیر کے بعد برگر کھا کر واپسی کی راہ لی اور تقسیم چوک یا تقسیم میدان سے دوبارہ ٹیکسی کیا اور ہوٹل آگئے تو رات کے تیں بج رہے تھے ، چار بجے کے بعد میں نے ایک دو سجدے کئے اور پھر صبح کے سات بجے تک سو گیا اور تیا ر ہو کر ناشتہ کر نے گیا تو عملے کے لوگ پریشان ہو گئے کیوں کہ جب سے ہو ٹل میں آیا تھا تو گلگتی ٹوپی میں مکمل گلگتی ثقافت کے ساتھ تھا لیکن آج ٹوپی نہیں پہنا تھا تو جوبلی لائف انشورنس کے وہ عملہ جو کراچی اور دوسرے جگہوں سے آئے تھے وہ بھی پریشان تھے کہ یہ کون ہے اور ایک ویٹرس لڑکی میرے پاس آئی اور پوچھنے لگی کہ کیا میں ہوٹل کا مہمان ہوں، میں نے مسکرا کر کہا کہ نہیں میں ناشتہ کر نے آ یا ہوں تو اس کو مکمل شک ہوا تو میں نے کہا کہ میں جوبلی لائف انشورنس کا نمائندہ ہو ں تو وہ متجسس انداز میں میرا سر تا پا دیکھنے لگی اور میں نے ان سے کہا کہ میں نے وہ پام پام والا ٹوپی نہیں پہنا ہے تو وہ کہنے لگی کہ آپ پاکستانی نہیں لگتے ہیں اور اس دوران کراچی کے کچھ دوستوں نے بھی حیرت کا اظہار کیا ، بہر حال میں ناشتہ کر نے کے بعد کمرے میں جاکر ٹوپی پہن کر آیا اور ہوٹل کے عملے کو کہا کہ کیا اب بھی شک ہے تو وہ معزرت کرنے لگی او ر ایک لڑکے کو بلایا اور وہ اس کا بھائی تھا اورپنے بھائی کا بھی تعرف کرایا اور کہا کہ یہ میرا بھائی ہے ۔ میں لابی میں آیا چونکہ آ ج ہمارا فری ڈے تھا۔

جاری ہے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔