آخر یہ بے چینی کب تک!

آخر یہ بے چینی کب تک!

22 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: ایس ایم شاہ

گزشتہ ہفتے کراچی جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک صمیمی دوست کے ہاں ٹھہرا۔ کافی عرصے سے اس سے ملاقات نہ ہوپائی تھی۔ وہ بھی کافی خوش تھے اور میں بھی کافی خوش تھا۔ کافی پذیرائی بھی کی اور مختلف جگہوں کی سیر بھی کرائی۔ اگلے روز اس نے کہا کہ ہمارے ہمسائے کا اکلوتا بیٹا عرصہ دراز سے لاپتا ہے، ان کا باپ بہت ہی بے چین ہے۔ ہم ان کو ذرا تسلی دے کے آتے ہیں۔ میں نے بھی ہاں کیا۔ ہم دونوں ساتھ چلے۔ دروازہ کھٹکھٹایا۔دروازہ کھلا۔ سامنے ایک چھوٹی سی بچی  کھڑی تھی ۔ میرے دوست کا چہرہ دیکھتے ہی وہ رونے لگی، میں تعجب کرنے لگا آخر ایسا کیوں ہوا۔ استفسار پر معلوم ہوا کہ یہ اس لاپتا شخص کی بیٹی ہے۔جس کی ماں بھی دو ماہ قبل ایک ٹریفک حادثے میں انتقال کر گئی ہے۔  کیونکہ میرا دوست ہمیشہ ان کے بابا کے ساتھ ہوا کرتے تھے تو انہیں دیکھتے ہی اسے ابو یاد آیا۔ مختلف بہانےکیے گئے لیکن وہ مان نہیں رہی تھی اور روتی ہی جارہی تھی۔ مجھ پر یہ حالت بہت گراں گزری اور دل ہی دل میں دعا کی کہ خدایا کسی چھوٹی بچی کو باپ کی جدائی کا  صدمہ نہ دکھا۔ ہم دونوں کے آنکھوں سے بھی بے اختیار آنسو رواں تھے۔ گھر میں داخل ہوا تو ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔ اس کے اندر ایک بہت ہی عمر رسیدہ بزرگ بیٹھے تھے ۔ اس کی کمر جھکی تھی اور بینائی بھی بہت کمزور تھی۔ ہم دونوں نے جب اسے سلام کیا تو میرے دوست کو اس نے آواز سے پہچان لیا۔جونہی ہم فرش پر بیٹھ گئے تو وہ اپنا درد دل سنانےلگے۔یہی  میرا اکلوتا بیٹا میرے  بڑھاپے کا واحدسہارا تھا، یہی ہمارا گھر چلاتے تھا، یہی روزانہ میرے لیے دوا لاتا تھا اورمجھے کھانا کھلاتا تھا۔ چند ماہ قبل یہ معمول کے مطابق اپنے کام پر گیا پھر واپس ہی نہ آیا، لوگوں کا کہنا ہے کہ حساس ادارے ان کو اٹھاکے لے گئے ہیں۔ ہم نے عدالت کی طرف رجوع کیا، عدالت نے نوٹس بھی لیا، لیکن ابھی تک کوئی خبر نہیں، ہم نے کہا، اس کا جرم کیا تھا؟ کیا اس نے کسی کو جان سے مارا تھا؟ کیا اس نے چوری کی تھی؟ کیا اس نے کسی کے گھر پر ڈاکہ مارا تھا؟…ہم سوالات کرتے گئے وہ بزرگ ہر مرتبہ نفی میں جواب دیتے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ میرا بیٹا بہت ہی بااخلاق اور مہذب جوان تھا۔ آج تک اس کی کوئی شکایت نہیں آئی تھی ۔

بالفرض ان کی کوئی غلطی ہو یا ان پر کوئی الزام ہو بھی تو ہم گھر والوں کو  اطلاع دے کر پولیس کے ذریعے پکڑ کر قانون کے کٹہرے میں لانا چاہیے تھا۔ عدالت میں بازپرس ہونا چاہیے تھا۔ ہماری وہ عدالت جو وزیر اعظم کو بھی سزا دیے بغیر نہیں چھوڑتی،  ایسے چھوٹے مسائل کا حل کرنا ان کے لیے کونسی مشکل ہے۔ ایسا نہیں کہ جب چاہے کسی شہری کو لاپتا کرے۔ غریبوں کے چولے بجاتا رہے، بچوں کو بے سرپرست اور بوڑھوں کو بے سہارا کرتا رہے۔ وہ اپنا درد دل بیان کررہے تھے اتنے میں ایک اور شخص کی آمد ہوئی۔ وہ بھی ان کی خبرگیری کے لیے ہی آئے تھے۔ ان کا کہنا تھا بھائی صاحب یہ صرف ان کا مسئلہ نہیں بلکہ بہت سارے گھروں میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔یہ صرف کراچی کا مسئلہ نہیں بلکہ دوسرے صوبوں کی بھی یہی صورتحال ہے۔کسی کا بھائی لاپتا ہے تو کسی کاباپ، کسی کا شوہر گمنام ہے تو کسی کا کوئی اور عزیز۔

اس وقت بے چینی کا عالم ہے، ہر کوئی جب گھر سے نکلتا ہے تو اس کے گھر والے اس کے دوبارہ واپس پہنچنے تک بے چین رہتے ہیں کہ کہیں میرا عزیز بھی کوئی اٹھاکے نہ لے جائے۔اس وقت  میرے تعجب کی انتہا نہ رہی۔ ایک اسلامی مملکت  اور جمہوری حکومت کے اندر آخر اتنا بڑا ظلم کیوں؟!ایسے کاموں کی دنیا کے کسی ملک میں اجازت نہیں ہے۔عوام کو امن فراہم کرنا اور ان کے جان، مال  اور عزت و آبرو کی حفاظت کرنا حکومت اسلامی کی ذمہ داری ہوا کرتی ہے۔لہذا چیف جسٹس آف پاکستان  کی ذمہ داری بنتی ہے کہ از خود نوٹس کے ذریعے ان بے گناہ محب وطن شہریوں کی داد رسی کریں اور انہیں سستا انصاف فراہم کریں۔ کیونکہ اس وقت لوگوں کا واحد آسرا عدالت عظمیٰ ہے۔ان شاء اللہ  سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب ان غریبوں اور بے نواؤں کو کبھی مایوس نہیں کریں گے اور ہر صورت میں ان لاپتا افراد کی بازیابی کو ممکن بنائیں گے۔ کیونکہ مسائل کا حل بے چینی پھیلانے اور امن و امان کو سبوتاژ کرنے میں  نہیں بلکہ عدل و انصاف کی فراہمی اور امن و امان کو یقینی بنانے میں مضمر ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان زندہ باد۔ پاکستان پائندہ باد

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔