غذر سے چائینہ تک۔۔۔ نیٹکو کی لاجواب سروس اور نسوار برآمد گی

غذر سے چائینہ تک۔۔۔ نیٹکو کی لاجواب سروس اور نسوار برآمد گی

128 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: دردانہ شیر

غذر پریس کلب کے دوستوں نے اس سال چائینہ جانے کا پروگرام بنایا اور زیادہ تر دوست ہمسایہ ملک سفر کرنے کے خواہشمند تھے راقم اور صدر غذر پریس کلب جاوید اقبال صاحب نے ہنگامی طور پر بارڈر پاس بھی بنوا دیئے جبکہ دیگر کئی ساتھیوں نے بھی بارڈر پاس بنانے اور چائینہ آنے کی یقین دہانی کروائی مگر آخری وقت میں کوئی دوست بھی ہمارا ہمسفر نہ بنا اور جاوید اقبال بھائی بھی اپنی مصروفیات کی وجہ سے نہ آسکے مگر میں نے اپنی ضد نہیں چھوڑی۔

میں نے پروگرام کو حتمی شکل دیدی اور اکیلے ہی چائینہ جانے کا ارادہ کر لیا25اکتوبر کو اپنی گاڑی میں بیٹھ کر سوست جانے کا پروگرام بنا رہا تھا کہ میرے آفس میں اورسیرز پاکستان گلگت بلتستان کے صدر اور سابق امیدوار قانون ساز اسمبلی راجہ میر نواز میر داخل ہوگئے اور باتوں باتوں میں کہنا لگا کہ کافی عرصے سے چائینہ نہیں گیا ہے کل میں چائینہ جارہا ہوں ابھی ان کا یہ کہنا ہی تھا کہ میری خوشی کی انتہا نہ رہی اور سوچا چلو ایک ساتھی تو مل گیا اور ہم دونوں نے چائینہ جانے کا حتمی پر گروام طے کر لیا اور پچیس اکتوبر کی صبح میں اپنی گاڑی میں غذر سے گلگت کی طرف روانہ ہوا۔ گلگت میں محترم میر نواز میر میرا انتظار کر رہا تھا اور وہاں پہنچ کر بغیر کسی تاخیر کے سوست کی طرف اپنا سفر جاری رکھا شام کے کوئی چھ بجے کے قریب ہم سوست پہنچ گئے اور نیٹکو کے آفس سے سوست سے تاشقرغان کا ٹکٹ حاصل کیا اور ساتھ ہی ایک دکان سے کرنسی بھی تبدیل کر کے ہوٹل کی طرف جارہے تھے کہ اس دوران میر ا عزیز اور مشہور سیاسی وسماجی شخصیت ندیم علی رفع سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے رات کا ڈنر کی دعوت دی اور ہم نے ان کی ڈنر کو قبول کیا۔

سوست میں موسم بہت سرد تھا ااور میں نے اپنے ساتھ صرف ایک کوٹ لے کر آیا تھا مجھے محسوس ہوا کہ میں نے گرم کپڑے نہ لاکر سب سے بڑی غلطی کی ہے۔ دوسرے دن 26اکتوبر کو ہم سوست امیگریشن کے دفتر پہنچ گئے سامان کی جانچ پٹرتال ہوئی اور مجھے سمیت میر نواز میر کو پولیو کے قطرے پلائے گئے اور ساتھ ایک پرچی بھی تھما دی گئی اور کہا گیا کہ اس پرچی کو اپنے ساتھ ہی رکھنا ہے۔ اگر یہ پرچی آپ کے پاس نہیں ہوگی تو چائینہ بارڈر فورس آپ کو خنجراب سے واپس کر دینگے۔ بہرحال چائینہ کا یہ میرا کوئی پہلا سفر نہیں تھا اس سے پہلے بھی دو دفعہ چائینہ گیا ہوا تھا مگر سالانہ پولیو کے قطرے پلائے جاتے ہیں پتہ نہیں کہ یہ صحت کے لئے بہتر ہوتے ہیں یا نہیں اس بارے تو میڈیکل سے وابسط افراد ہی بہتر بتا سکتے ہیں چونکہ پولیو کے قطرے تو سالانہ پلانا کئی نقصان دہ نہ ہو بہرحال ہم نے پولیو کے قطرے پی لئے اور اپنا سامان اُٹھائے امیگریشن کے دفتر سے باہر نکل گئے۔

باہر چائینہ جانے کے لئے لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی اپنا سامان گاڑی میں لوڈ کرانے کے بعد کوئی دس بجے کے قریب ہم چائینہ کی طرف روانہ ہوگئے ہم نیٹکو کی جس گاڑی میں سوار تھے اس چھوٹی سی گاڑی میں آٹھ مسافروں کو بیٹھنے کی گنجائش ہے اور اس سے قبل بھی میں کئی بار ان گاڑیوں میں چائینہ گیا ہوا تھا مگر اس دفعہ نیٹکو جس کو لاجواب سروس کہنا بھی ظلم ہے اس چھوٹی سی گاڑی میں 14مسافروں کو بیٹھا دیا گیا اور مال مویشوں کی طرح اس گاڑی میں سوار ہوگئے فرنٹ سیٹ میں اور میرنواز کی قسمت میں آگئی حالانکہ ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر ایک مسافر کو بیٹھا دیاجاتا ہے مگر لاجواب سروس کے باکمال لوگوں نے دو سواریوں کو بیٹھا دیا۔ مسافروں نے احتجاج کیا مگر ان کی کس نے سننی تھی حالانکہ پاکستان سے چائینہ جانے والی گاڑیوں کی مناسب دیکھ بال ہو اور نئی گاڑیاں اس روٹ پر لگایا جائے مگر نیٹکو کے بڑوں کو اس حوالے سے کوئی احساس تک نہیں ہمارے بعد والی نیٹکو کی کوسٹر کی حالت ہماری گاڑی سے بھی بدتر تھی بہرحال مسافروں نے تو سفر کرنا تھا اس گاڑی کے سلنسر سے اتنا آلودہ دھواں نکل رہا تھا کہ شاید گاڑی کو محکمہ والوں نے خریدنے کے بعد شاید اس پر کسی قسم کی توجہ دینے کی زحمت گوارہ نہیں کی ہو بہر حال نیٹکو کی ان خستہ حال گاڑیوں کے سفر نے ہمیں بھی اچھا خاصہ سبق دیا۔

ایک بجے کے قریب ہم چائینہ بارڈر فورس کے آفس پہنچ گئے تھے جہاں تمام مسافروں کی سخت چیکنگ ہورہی تھی اور خصوصا موبائل فون کی سخت چیکنگ کی جارہی تھی اس موقع پر دلچسپ صورت حال اس وقت پیش آئی جب ہمارے صوابی کے ایک دوست سے کوئی دو درجن کے قریب نسوار کی پوڈیاں برآمد کر لی اور چائینہ بارڈر فورس نے نسوار کو اپنے قبضے میں لے لیا جس پر صوابی کے ہمارے اس دوست نے چائینہ جانے سے صاف انکار کیا اور اپنا بیگ لیکر واپس پاکستان جانے کی ضد کر دی ابھی ایک طرف ہم ویسے ہی لیٹ ہوگئے تھے کہ اب ایک اور مصیبت سے ہم پریشان تھے دوسری طرف چائینہ بارڈر فورس اس شخص کو چائینہ جانے کا کہہ رہے تھے مگر وہ انکار کر رہا تھا کہ جب تک میرے دودرجن نسوار کی پوڈیاں مجھے واپس نہیں ملتی میں چائینہ نہیں جاونگا دوگھنٹے تک ہماری گاڑی اس نسوار والے مسلے پر کھڑی رہی آخر کا ر ہماری گاڑی اور دیگر پیچھے سے آنے والی گاڑیوں کے مسافروں نے پاکستان واپس جانے والے مسافر کو یہ کہہ کر راضی کرایا کہ ہم اپ کو اپنے جیب میں موجود نسوار کی ایک ایک پوڈی دیتے ہیں لہذا آپ چائینہ فورس کے ساتھ ضد چھوڑ دے اور گاڑی میں بیٹھ جائے اس طرح نسوار کے عشق اس مسافر کو چندہ نکال کر تمام مسافروں نے چھ پوڈی نسوار دینے میں کامیاب ہوگئے جس کے بعد یہ مسافر ہمارے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئے۔۔۔۔۔(جاری ہے )

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author