روتی ہوئی آنکھ

روتی ہوئی آنکھ

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

از شفیق آحمد شفیق

روتی ہوئی آنکھ ایک کہا نی ہے، جیسا کہ تم ایک کہا نی ہو ، جیسا کہ ہم ایک کہانی ہے۔ ہم وجود کے پردے
میں اتنے بے بس کیوں ہے؟ اور زندگی بے معنی سا کیوں لگتا ہے۔ جب کرہ ارض دو طبقوں میں منقسم ہوا ہو، جس میں ایک خوشحال اور دوسرا بد حال ہو۔ اور بدحال کا بدحال ہونے کا سبب خوشحال کی خوشحالی ہو۔ فطرت محبت اور ، خدمت، کا سبق دیتاہے۔ تو ہم کیوں بٹے ہوئے اور بے فیض مشقوں کی نظر بنے ہوئے ہے۔ روتی ہوئی آنکھ بے بسی، نا امیدی، رسوائی کا آانسو ہے۔ جب سچائی ، اور راستی کو مفادت کے ترازو میں تول کر تقسیم کردیا جاتاہے، اورروتی ہوئی آنکھ کا حق چھین لیا جاتاہے۔

میں روز یونیور سٹی جاتا ہوں اور روز یہ نظارہ دیکھنے کو ملتاہے ۔ کہ انسان کی صورت میں عظیم روحین ہاتھ میں کشکول لیئے بیھک ما نگتے ہیں۔ کیا انسان کی برسا برس کی محنت اور ترقی کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک کے پاس ضرورت سے زیادہ ہونے کہے سبب وہ اپنی طاقت اور جاہ و حشمت میں اضافہ کر رہا ہو، اور باقی کے حصے میں روتی ہوئی آنکھ اور زندگی کے حسرتیں ہوں۔ روح کانپ اٹھتا ہے جب انسان، اور فطرت کے اعضا کو یوں تڑپتے ہوئے دیکھا جاتاہے۔

کسی آدمی سے پو چھا گیا کہ خدا کوں ہے؟ تو ( نعوز باللہ )اس نے کہا خدا روٹی ہے۔ جب سوال کرنے والے نے پھر پوچھا کہ وہ کیسے ؟ تو آدمی نے کہا کہ جوانی کا واقعہ ہے کہ پہلے مسجدوں میں ازانوں کی آوازیں فضا میں ایک عجب حسن بر پا کرتے ، لیکن ایک مرتبہ سخت قحت آیا ، پھر دیکھتے ہی دیکھتے مسجدوں میں آزاں دینے والے بھی غائب ہوئے، پھر اسی دن سے میں نے سمجھا کہ ( نعوز باللہ ) روٹی خد ا ہے، کیونکہ جب تک یہ نہ ہو، تو کوئی خد اکو یاد کرنے والا بھی نہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ انسا ن کی زندگی کا سفر خوراک کی تلا ش کا سفر ہے، زندہ رہنے کی کوشش ہے۔ لیکن روتی ہوئی آنکھ کیلئے زندگی کیسے بہ معنی شے ہوگا جبکہ
وہ زندہ ہوتے ہوئے بھی مر ا ہوا ہوتا ہے۔

سب چہروں میں ایک دہرا معیار پایا جاتا ہے، وہ جو ہے حقیقت میں ہوتا نہیں، اور پھر اپنے بگڑی صورت کو خوبصورت بنانے میں تلے ہوتے ہیں۔ یہ کیا انسان کی عقل مند ہونے کی نشانی ہے جو زمیں کو خوف کے کنویں میں بدل دیا ہے۔ ہر وجود زندہ رہنے کے اندیشے مٰں مبتلا ہے کیا ہوتا جو روتی ہوئی آنکھ نہ ہوتی، اور ایک محبت کی زمین ہوتی جس میں مفادات اور حق مارنے کا رواج نہ ہوتا ۔

سوچ کے سناٹے میں بیان کیا گیا
کائنات کا آخری دکھ روتی ہوئی آنکھ کا گلہ ہے
خاموشی کے ساتھ طے کردی گئیبے بسی کا سفر
پتھروں کی بارش کے ڈر سےکانپ رہا ہے
بھوک کا دستخط شدہ خط بھی
پھر خداکے نام کی تختی دیکھ کر
کٹہرے کو کئی بار چوما
تاکہ خدا کا عذاب نہ پکڑیں،
اورمعافی ہو

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔