غذر: ڈی ایچ کیو ہسپتال مریضوں کے لیے در سر بن گیا ہے ۔ انفارمیشن سکرٹیری پاکستان تحریک انصاف

غذر(بیورو رپورٹ) پاکستان تحریک انصاف ضلع غذر کے انفارمیشن سکرٹیری علی احمد شاہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال مریضوں کے لیے در سر بن گیا ہے ہسپتال کے اندر نہ گائناکالوجسٹ ہے نہ میڈیکل اسپیشلسٹ اور نہ ہی سرجیکل اسپیشلسٹ موجود ہے آپریشن تھیٹر تیار ہے لیکن سرجن نہ ہونے کی وجہ سے بند پڑا ہے جسکی وجہ سے چھوٹے چھوٹے کیس بھی گلگت ریفر کیاجاتا ہے خاص کر ایکسیڈنٹ کیس جو کہ انتہائی خطرناک ہوتے ہیں صرف فرسٹ ایڈ دیکر گلگت ریفر کیا جاتا ہے جسکی وجہ سے بعض دفعہ لوگوں کی قیمتی جانیں بھی ضائع ہوجاتی ہے گائنا کالوجسٹ نہ ہونے کی وجہ سے غریب لوگ دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں مریض اپنے جیب سے پیسے خرچ کر کے پرائیویٹ لیبارٹریوں میں ٹیسٹ کرواتے ہیں ۔صرف اور صرف نام ڈی ایچ کیو ہسپتال رہ گیا ہے کیونکہ ضلع غذر پانچ تحصیلوں پر مشتمل ایک بہت بڑا ضلع ہے اس ضلع کی آبادی بھی بہت زیادہ ہے ان پانچ تحصیلوں کا انحصار اس ڈی ایچ کیو ہسپتال پر ہے علاج کی غرض سے غریب لوگ گاہکوچ ہسپتال آتے ہیں لیکن مایو س ہوکر گلگت جانا پڑتا ہے جو کہ ان مریضوں کے ساتھ سر سر ناانصافی ہے ایم ایس ڈی ایچ کیو گزشتہ چھ سالوں سے تعینات ہے لیکن ابھی تک کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور وزیر سیاحت فداخان فدا بھی اس حلقے سے تعلق رکھتے ہیں وہ بھی اس ہسپتال کی طرف کسی قسم کی کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں ہم وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان چیف سکرٹیر ی گلگت بلتستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے کا نوٹس لیں۔۔۔۔۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

کیٹاگری میں : صحت