گلگت بلتستان واٹر اینڈ پاورڈیپارٹمنٹ میں میرٹ کا قتل روکا جائیں، ینگ انجنیئرزایسوسی ایشن گلگت بلتستان

گلگت بلتستان واٹر اینڈ پاورڈیپارٹمنٹ میں میرٹ کا قتل روکا جائیں، ینگ انجنیئرزایسوسی ایشن گلگت بلتستان

104 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت: ینگ انجنیئرزایسوسی ایشن گلگت بلتستان نے الزام لگایا ہے کہ گلگت بلتستان کے واٹر اینڈ پاور ڈیپارٹمنٹ نے اپنے من پسند لوگوں کو نوازنے کیلئے قانون کے برخلاف گریڈ 11 اور 16 کے ڈپلومہ ہولڈرز کو ڈائریکٹ گریڈ 17 کے اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجنیئرز کی پوسٹس پہ پرومشن دینے کی سفارش کردی ہے ۔

انہوں نے کہا ہے کہ سیکریٹری واٹر اینڈ پاورنے ایک سمری سیکریٹری سروسز کو ارسال کی ہے کہ ڈیپارٹمنٹ میں اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجنیئرز گریڈ 17 کی 28 خالی آسامیاں ہیں اور ان خالی آسامیوں کو پر کرنے کیلئے ڈیپارٹمنٹ میں انجنیئرز موجود نہیں لہٰذا سب انجنیئرز کوگریڈ 11 اور اسسٹنٹ انجنیئرز گریڈ 16 کو ترقی دے کر گریڈ 17 میں بھرتی کیا جائے ۔

ینگ انجنیئرزایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ڈیپارٹمنٹ کے قانو ن کے مطابق اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجنیئرز کی پوسٹ کیلئے انجنیئرنگ کی ڈگری لازمی ہے جبکہ اب واٹر اینڈ پاور ڈیپارٹمنٹ اپنے ہی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے من پسند لوگوں کو نوازنے کیلئے ڈپلومہ ہولڈرز سب انجنیئرز اور اسسٹنٹ انجینئرز کو انجینئرنگ ڈگری ہولڈرز کی جگہ پہ تعنیات کرنے جارہی ہے ۔

This slideshow requires JavaScript.

انہوں نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے سینکڑوں انجنیئرز ہاتھوں میں ڈگریاں لئیے نوکریوں کیلئے دردر کی ٹھوکریں کھانے پہ مجبور ہیں ۔ اور واٹر اینڈ پاور ڈیپارٹمنٹ ان 28 خالی آسامیوں کو پر کرنے کیلئے باقاعدہ ٹیسٹ و انٹرویو کے زریعے نئے انجنیئرنگ ڈگری ہولڈرز کو بھرتی کرنے کی بجائے ڈپلومہ ہولڈرز کو پرموشن دے رہی ہے ۔

انہوں نےگلگت بلتستان کے باشعور صحافی ، سیاسی قائدین اور سماجی کارکنان سے گزارش کی ہے کہ وہ انجنیئرز کے ساتھ میرٹ کے اس قتل عام کے خلاف آواز اٹھائیں تاکہ ہمارا علاقہ اقراپروی اور کرپشن جیسی لعنت سے پاک ہوسکے ۔

ینگ انجنیئرزایسوسی ایشن نے چیف سیکریٹری اور دوسرے متعلقہ افراد سےمطالبہ کیاہے کہ واٹر اینڈ پاور ڈیپارٹمنٹ کے اس کرپشن کے خلاف فوری نوٹس لیں اور ان خالی آسامیوں کو فوری طور پہ FPSC یا کسی دوسرے ٹیسٹنگ سروس کے ذریعے پرکریں تاکہ شفاف طریقے سے ٹیسٹ و انٹرویو کے ذریعے مستحق انجنیئرز کو ان کا حق ملے ۔

 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔