گاہکوچ بازار میں استادہ گھوڑے کا مجسمہ اور افسرِ شاہی

گاہکوچ بازار میں استادہ گھوڑے کا مجسمہ اور افسرِ شاہی

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آج حسبِ معمول فجر کی نماز کے بعد دوستوں کے ساتھ واک پر گیا۔ گاہکوچ سے سلپی گاؤں کی طرف واک کرتے ہوئے واپسی پر دوستوں نے اصرار کیا کہ ہوٹل سے ناشتہ کرکے جاتے ہیں۔ اب ہم گاہکوچ بازار سے گزرتے ہوئے ہوٹل کی طرف جا رہے تھے۔ گاہکوچ کی سڑکیں، سڑکوں پہ بنی مارکیٹ کی راہداریاں اور دُکانیں کچرے کا ڈھیر معلوم ہو رہی تھیں۔ ہمیں پہلا جھٹکا تب لگا جب ہماری نگاہیں بازار میں لگی ٹائم پیس پر پڑیں۔ صبح سات بج رہے تھے جبکہ ضلعی انتظامیہ کی اس نایاب ٹائم پیس میں رات کے دو بج رہے تھے۔ کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ رات کے اندھیروں سے تو ہمیں ویسے بھی بڑا پیار ہے۔ جو قوم ستر سالوں سے اندھیروں میں رہ رہی ہو اور جس کو اندھیروں سے پیار ہو اس کو نویدِ صبح سے کیا لینا دینا۔ اس کو نظرانداز کرتے ہوئے ہم تھوڑا آگے بڑھے تھے کہ منوں مٹی اور گرد میں اٹا بازار میں استادہ گھوڑے کا مجسمہ ضلعی انتظامیہ اور بلدیہ کی بے حسی کا نوحہ سنا رہا تھا۔ بے ایمانی اور بے حسی کی بھی حد ہوتی ہے جناب۔ آخر گورنمنٹ کے نظام میں وہ کونسی خامی ہے کہ افسرِاعلیٰ سے لے کر بلدیہ کے ایک خاکروپ تک بے ایمانوں کی ایک فوجِ ظفر موج ہے۔ مجال ہے جو ان کو ان کی ذمہ داری کا احساس دلائے۔

تذکرہ اگر افسرِشاہی کی ہو تو مجال ہے کہ یہ وقت پہ دفتر آجائے۔ افسرِشاہی یعنی بیورکریٹس صبح گیارہ بجے دفتر آتے ہیں تو ایک آدھ گھنٹے دفتر میں گزار کر واپس چلے جاتے ہیں۔ آخر بڑے آفیسر جو ٹھہرے۔ میں نے کئی دفعہ سوالیوں کو ان بیوروکریٹس کے دفاتر کے سامنے گھنٹوں انتظار کرتے دیکھا ہے۔ میں سوچ کے حیران ہوں کہ یہ خود بے حس اور بے ایمان سہی لیکن اپنی اولاد کو بھی حرام کا لقمہ کیوں کھلاتے ہیں۔ اس کا مطلب ہرگز ایسا نہیں کہ سب کے سب ایسے ہیں کچھ خدا ترس اور ایماندار بیوکریٹس بھی ہیں۔ جن کو اللہ سلامت رکھے۔ لیکن یہاں تذکرہ ان بے حسوں کا ہے۔ اس دفعہ رمضان المبارک کی بات ہے کہ مجھے اپنے کسی بیوروکریٹ دوست کے دفتر جانے کا اتفاق ہوا۔ کسی رشتہ دار کا چھوٹا کام تھا۔ ہم صبح ٹھیک وقت پر موصوف کے دفتر پہنچے۔ بیوروکریٹ دوست کے پرسنل سیکریٹری کا کہنا تھا کہ صاب رمضان المبارک کی وجہ سے لیٹ سے دفتر آتے ہیں۔ خیر ایک آدھ گھنٹے کے انتظار کے بعد موصوف دفتر تو آئے لیکن نہ جان نہ پہچان والی کیفیت کے ساتھ اپنے دفتر میں گھس گئے۔ ان کے پی اے نے کہا کہ صاب کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے روزہ جو رکھا ہے۔ اس لیے آج ملاقات ممکن نہیں۔ میں نے اپنا وزٹنگ کارڈ انہیں تھمایا اور کہا کہ اپنے روزدار صاب کو یہ کارڈ دیدے۔ ہم بڑے دُور سے کسی ضروری کام کے سلسلے میں آئے ہیں۔ خیر جب کارڈ اندر لے جایا گیا تو تھوڑی دیر کے بعد روزہ دار صاب نے ہمیں اندر طلب کر ہی لیا۔ چہرے پر خفگی کے آثار لیے روزہ دارصاب اپنی بڑی کرسی پر بیٹھا تھا۔ نہ سلام دُعا میں گرمجوشی نہ استقبال۔۔۔۔۔۔ اگر کچھ کہا گیا تو صرف اتنا کہ رمضان کا مہینہ ہے اور ہم روزہ دار لوگ۔۔۔۔۔۔ اب اس محترم کو کون روزے کا فلسفہ سنانے بیٹھ جائے۔ خیر ہم ان کے دفتر سے نکلیں اور میں دن بھر یہ سوچنے پہ مجبور ہوا کہ رمضان المبارک تو تقویٰ کا درس دیتا ہے اور یہ پیٹ کا بھوکا بیوروکریٹ اور اس کا رویہ سب سمجھ سے باہر تھے۔ مجھے اتنا احساس ضرور ہوا کہ بے ایمان اور بے حس یہ بیوروکریٹس نہیں بلکہ مسلہ حکومتی ںظام میں ہے جس کی وجہ سے تھوک کے حساب سے آپ کو سرکاری محکموں میں ایسے لوگ ملیں گے۔ کاش حکومت کو تھوڑی سی ہی عقل آتی اور وہ ان اداروں کو پرائیویٹائز کرتی۔ چیک اینڈ بیلینس کا اچھا نظام ہوتا۔ ملازمین چھوٹے ہوں یا بڑے اپریزل کے ذریعے ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا تو کم سے کم سرکاری اداروں میں ایماندار نہ سہی لیکن بے حس لوگ تو نہیں ہوتے۔ ان سرکاری اداروں کو ایک سال کے لیے اگر آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک جیسے کسی عالمی ادارے کے حوالے کیا جائے اور وہ نظام ان پر لاگو کیا جائے تو ان اداروں سے بہت سارے بے حسوں کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔

بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ بات ہو رہی تھی۔ گاہکوچ بازار میں استادہ گھوڑے کے مجسمے پر پڑی منوں مٹی کی۔ ضلعی انتظامیہ اور بلدیہ تھوڑی سی شرم کرے تو یہ گرد صاف کیا جاسکتا ہے۔

جمال آروز کی لکھی ہوئی ایک دلچسپ تحریر اپنے تمام ملازمت پیشہ دوستوں کی نذر کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ وہ لکھتے ہیں:

’’ایک دن مجھے عرفان کا فون آیا۔ میں نے فون کاٹ دیا۔ اس نے پھر فون کیا۔ میں نے دوبارہ کاٹ دیا۔ اس کے بعد جب میں نے اسے فون کیا تو وہ شکوہ کرنے کے انداز میں کہنے لگا میں کال کر رہا تھا ناں، آپ نے کیوں کاٹ دی؟ میں نے کہا تم آفس کے فون سے کال کر رہے تھے اور مجھے معلوم ہے کہ تمہارا مجھ سے یہ رابطہ کسی دفتری ضرورت کے تحت نہیں بلکہ گپ شپ کے لیے تھا۔ کہنے لگا، چھوڑیں سر جی! اتنی بڑی کمپنی ہے، میری ایک فون کال سے ان کا کچھ نہیں بگڑتا۔ میں نے کہا ان کا کچھ بگڑے نہ بگڑے تمہارا بہت کچھ بگڑ جائے گا، کیوں کہ ایک دن تمہیں ان تمام امانتوں کا حساب دینا ہے۔

اسی طرح ایک دن میں نے کسی دوست کو فون کیا، مجھے کوئی وزنی مشین ایک جگے سے دوسری جگہ لانی تھی۔ میں نے پوچھا یار کوئی پک اپ والا جاننے والا ہے؟ وجہ پوچھی میں نے بتادی۔ کہنے لگا، کیوں خوامخواہ خرچہ کرتے ہیں۔ کمپنی کا ڈرائیور میرا دوست ہے، ڈیوٹی کے بعد جب فارغ ہوجاؤں گا تو اسے وین سمیت لے کر آؤں گا یوں مفت میں کام ہوجائے گا۔ ان دنوں وہ کسی بڑی کمپنی میں جاب کرتا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا کمپنی کے مالک کو اس چیز کا پتہ ہے کہ ڈرائیور اس طرح، اس کی اجازت کے بغیر، کمپنی کے باہر کے کسی شخص کے کام میں گاڑی کا استعمال کرے گا؟ کہنے لگا، ایسا تو نہیں۔ میں نے کہا پھر یہ جائز نہیں۔ کہنے لگا، تو کیا ہوگیا۔ پیٹرول آپ ڈلوا دینا۔ میں نے کہا گاڑی صرف پیٹرول ہی تو استعمال نہیں کرتی، اس میں آئل بھی ڈلتا ہے، اس کا انجن بھی پرانا ہوتا ہے، اس کے ٹائر بھی گھستے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ بلا اجازت کسی کی چیز استعمال کرنا تو ویسے بھی اخلاقاً درست نہیں۔ مجھے کچھ رقم بچانے کے لیے ایسی سہولت نہیں چاہیے۔

یہ ایک المیہ ہے کہ جاب کرنے والے افراد میں سے ایک کثیر تعداد کو معلوم ہی نہیں کہ امانت کیا چیز ہوتی ہے، اس کا استعمال کس طرح کرنا ہوتا ہے اور یہ کہ بالآخر ان امانتوں کا ایک دن انہیں حساب بھی دینا ہوگا۔ کمپنی کی طرف سے گاڑی، پیٹرول، فون، قلم، کاغذ، فرنیچر، گھر، رقم، لیپ ٹاپ اور جو بھی سہولیات ملتی ہیں وہ سب امانتیں ہوتی ہیں۔ حتٰی کہ ٹشو پیپر کے ڈبے اور روم اسپرے بھی امانت ہیں۔ ہر شخص، جو مسلمان ہے اور اللہ کا خوف رکھتا ہے اسے چاہیے کہ ان امانتوں کی حفاظت کرے اور سوچ سمجھ کر خرچ کرے۔ کئی چیزیں ایسی ہیں جن کے غلط استعمال کا علم کمپنی انتظامیہ کو نہیں ہوسکتا اور نہ کبھی ہوگا، مگر یاد رہے کہ ایک ایسی ذات بھی موجود ہے جو انسان کے ہر عمل کو دیکھ رہی ہے اور چھوٹی سی چھوٹی خیانت کو بھی جانتی ہے۔

چند سال قبل مجھے یاد ہے کہ میں نماز کے لیے مسجد میں داخل ہوا تو ایک نوجوان دوسرے کے ساتھ الجھ رہا تھا۔ قریب جا کر وجہ معلوم ہوئی کہ وہ مسجد کی بجلی سے اپنا موبائل چارج کر رہا تھا جس پر دوسرا اسے سمجھا رہا تھا کہ مسجد کی بجلی کو اپنے ذاتی مصرف میں لانا گناہ ہے۔ جبکہ دوسرے کا اصرار تھا کہ اس سے کتنی بجلی خرچ ہوتی ہے؟ سمجھانے والا بضد تھا کہ سوال ’’کتنی‘‘ کا نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ جتنی بھی خرچ ہوتی ہے وہ جائز ہے یا ناجائز؟

چھٹی کے لیے جعلی میڈیکل سرٹیفیکٹ بنوانا، سفری اخراجات کے جعلی یا اضافہ شدہ بل پیش کرنا، کمپنی کے موبائل سے دوستوں کے ساتھ گپ شپ کرنا، جس کا بل کمپنی کو دینا پڑے، کمپنی کی گاڑی کا ذاتی استعمال جس کی اجازت نہ دی گئی ہو، ڈیوٹی کے اوقات میں اپنا کوئی ذاتی کام نمٹانا، اخبار پڑھنا، کرکٹ کے ٹورنمامنٹ دیکھنا۔ ڈیوٹی اوقات میں بچوں کو اسکول لے جانا اور پھر واپس اٹھانا، کمپنی کی گاڑی میں دوستوں یا فیملی کو لے کر سیر سپاٹے کرنا اور اس طرح کی کئی خیانتیں جن کو آج ہمارے مسلمان بھائی گناہ تک نہیں سمجھتے، نہیں جانتے کہ کتنا بڑا بوجھ وہ اپنے کندھوں پر لادتے چلے جا رہے ہیں جو انہیں آخرت میں اٹھانا ہوگا۔

حقوق العباد کے ضمن میں اللہ کا خوف رکھنے والے انسانوں کی کچھ مثالیں ذہن میں آ رہی ہیں۔ ایک صاحب کی ڈیوٹی پنجاب میں کسی جگہ لگی جس کے لیے انہیں کمپنی کی طرف سے گاڑی بھی دی گئی۔ وہ صاحب شہر سے پانچ سات کلومیٹر دور ایک گاؤں میں رہتے تھے۔ دن بھر کمپنی کے کام نمٹانے کے بعد شام کو جب فارغ ہوتے تو گاڑی شہر میں موجود دفتر میں کھڑی کرتے اور خود اپنی سائیکل پر چڑھ کر گاؤں کی طرف روانہ ہوجاتے، جو وہ ہر روز اپنے ساتھ گاؤں سے لاکر دفتر میں چھوڑا کرتے تھے۔ کسی نے پوچھا، گاڑی پر کیوں نہیں جاتے؟ جواب دیتے کہ کمپنی کی گاڑی، کمپنی کے کام کے لیے ملی ہے، اپنے ذاتی کاموں کے لیے نہیں۔ جب گاڑی ساتھ لے کر جاؤں گا، تو امانت میں خیانت ہونے کا خطرہ رہے گا۔

اسی طرح مجھے اسلاف میں سے کسی کا واقعہ یاد آ رہا ہے، نام بھول رہا ہوں۔ وہ اپنے شہر سے دو تین سو کلومیٹر دور کسی دوسرے شہر میں کسی کام سے گئے۔ وہاں چلتے پھرتے ان کو کچھ لکھنے کے لیے قلم کی ضرورت پڑی جو انہوں نے کسی سے مانگ لیا۔ جو کچھ لکھنا تھا، لکھ کر قلم واپس کرنا بھول گئے اور اونٹ یا گھوڑے پر سوار ہوکر اپنے شہر واپس آگئے۔ واپس پنہچتے ہی ان کی نظر اپنی جیب میں رکھے قلم پر پڑی۔ اسی وقت انہوں نے واپسی کا سفر شروع کیا اور اس شہر میں پہنچ کر جس شخص سے قلم لیا تھا اس کو واپس کیا، ساتھ میں معذرت بھی کی۔

عمربن عبدالعزیز کا واقعہ تو سب کو معلوم ہی  ہے کہ کوئی صاحب ان سے ملاقات کے لیے آئے۔ آپ چراغ کی روشنی میں اپنے سرکاری امور نمٹانے میں مصروف تھے۔ اس شخص نے ذاتی امور پر گفتگو شروع کردی۔ آپ نے چراغ گل کردیا اور فرمایا کہ اس چراغ میں جلنے والا تیل مسلمانوں کے بیت المال کی امانت ہے جس کو ہم اپنی ذاتی گپ شپ کے لیے استعمال نہیں کرسکتے۔‘‘

ضلعی انتظامیہ کی بے حسی کا شکریہ اگر وہ گھوڑے کے مجسمے پر گرد صاف کرتی تو ہم یہ ساری باتیں کیسے کرتے۔ میری ایک دوست ہے جو اکثر مجھ سے کہتی رہتی ہے کہ ’’تمہیں تو موقع چاہئیے لکھنے کے لیے۔‘‘

ارے بھیا! ایسے مواقع تو رب کی طرف سے حساس لوگوں کے لیے امانتیں ہوا کرتے ہیں کہ جن کے ذریعے آپ کو موقع ملتا ہے کہ آپ اپنے علم کی زکواۃ دے سکے۔

 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments