ظالمانہ ٹیکس

ظالمانہ ٹیکس

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر :ایس ایس ناصری بلتی

پاکستان کے شمال میں واقع 28ہزار مربع میل پر پھیلا خطہ جو دنیاء اور پاکستان کے نقشے پر گلگت بلتستان سے جانا جاتا ہے 70سال گزرنے کے باوجود بھی ابھی تک سرزمیں بے آئیں ہیاس خطہ کے باسیوں نے 1947۔48 میں یہاں پر قابض ڈوگروں پرڈنڈوں اور پتھروں سے حملہ کر کے بھاگنے پر مجبور کیا اور آزادی حاصل کی آزادی کے بعدبابائے قوم حضرت قائد اعظم اور سرزمیں پاکستان سے بیپناہ محبت میں بغیر کسی شرط و شروط الحاق پاکستان کا اعلان کیا اور آج تک ملکی مفاد اور استحکام کیلے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کیلے تیار ہے لیکن بدقسمتی سے مملکت پاکستان کے بھاگ ڈور سنبھالنے والے اس خطہ کو اپنا حصہ مانے سے انکار ہے کئی بار مختلف فورم پر پاکستان کے نامور سیاسی قائدین نیبرملا کہ دیا ہے کہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہے اور آئیں پاکستان کی رو سے یہ پاکستان کا حصہ نہیں اور یہان تک ملک کی سب سے بڑی عدالت نے بھی اس خطہ کو متنازعہ قراردیا ہے اس کے باوجود اس خطے کے باسی اپنے آپ کو پاکستانی گردانتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں پاکستانی ہونیپر فخر ہے اور یہ کہ آج تک اس خطیسینہ کوئی ملک دشمن عناصر پکڑے ہیں نہ کسی نے ملک دشنی کی سازش کی ہے ستر سالوں سے آئینی اور بنیادی حقوق سے محروم رکھنے کے باؤ جود اس خطے کی عوام کا یہ نعرہ قابل رشک اور فخرہے یہاں کے لوگوں نے ہمیشہ وطن کی سلامتی کیلے مختلف مورچوں پر افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکردشمن کو پسپا کر دیئے ملکی عسکری اعزاز میں سے دو نشان حیدر یہاں کے انفنٹری کو حاصل ہے یہاں کے مرد حر لالک جان شھہید نے دشمنوں کوناکوں چنے چبوائے جس کی معترف خود ہماری روایتی حریف بہارت ہے۔علاوہ ازیں اس خطے کی سیاحت کے مد میں حکومت پاکستان کروڑوں روپئے لیتی ہے لیکں آج تک اس خطے میں سیاحت کو فروغ دینے کیلے کوئی اقدامات نہیں اٹھائی ان ساری محرومیوں کے باوجود ستم بالائے ستم حکومت نے گلگت بلتستان کے مظلوم اور محکوم عوام پر ٹیکسز کا بم گرا کر انہیں مزید محرومی میں دھکیل دیا ہے۔

متنازعہ خطہ میں ٹیکسز کا کانفاذ غیر آئینی اور غیر قانونی ہے 1999میں وہاب الخیری کیس میں اعلٰی عدلیہ کا فیصلہ ہونیاور اس خطے کو ٹیکس فری قرار دینے کے باوجود بھی حکومت کا اس سرزمیں کے باسیوں پر جبری ٹیکسز مسلط نہ صرف غیر آئینی ہوسکتی ہے بلکہ اس کے اقدام کرنے والے آیءں پاکستان سے بھی متصادم کام کرہے ہیں شروع شروع میں گلگت بلتستان کے عوام پر بنکنگ ٹرانگزیکشن پر ود ہولڈنگ ٹیکس لاگو شروع کردی ہے اور ساتھ میں ضروریات زندگی کی متعدد اشیاء پر بھی ٹیکسز لاگو کرنے پر پر تول رہی ہے۔اگر دیکھا جائے تو یہاں کے باسی پہلے ہی مختلف طریقوں سیٹیکسز ادا کر رہے ہیں جب سے یہ خطہ آزاد ہوا ہے اس دن سیلیکر آج تک جی ایس ٹی یہاں کے باسی ادا کر رہے ہیں اب معاملہ اس سے بھی زیادہ پر آشوب نظر آتے ہیں یہاں کے باسیوں پر ود ہولڈنگ ٹیکس نافذ کرکے اس خطے کی معاشی قتل کرنے کی پالیسی اپنائی جارہی ہے ناقبت اندیش حکومت کی نام نہاد پالیسیوں نے گلگت بلتستان میں معیشیت کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔بنک ٹرانزگشن پر دو ہولڈنگ ٹیکس سے تجارت کا ہر شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔باعث تعجب ہے کہ تاجروں کے اپنے ہی پیسوں کو بنکوں میں رکھنے یا نکالنے پر معیشت میں بہتری کی امید رکھی جارہی تھیں ایسے میں یہ اقدام قابل صد افسوس ہے۔

اس ناقبت اندیش اور کمر توڑ پالیسی کے خلاف گزشتہ ماہ کی 25تاریخ کو پورے گلگت بلتستان میں انجمن تاجران اور عوامی ایکشن پارٹی نے پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن کی کال سی جس پر گلگت کے دو ڈویژں یعنی گلگت اور دیامر میں کامیاب تریں ہڑتال رہا جبکہ بلتستان ڈویژن اس ہڑتال اور شٹر ڈاؤن سے مسثنیٰ رہے جس کی وجہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم شاہو خاقان عباسی کا دورہ سکردو تھا انکے دورہ سکردو سے قبل سکردو سینئر وزیراکبر تابان نے ایک آل پارٹیز لکانفرنس طلب کی جس میں مقتدر شخصیات نے شرکت کی اور اس کانفرس میں انجمن تاجران سے وعدہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان میں لاگو شدہ ٹیکسز وزیر اعظم کے دورہ کے موقع پر ختم کرائیں گے اس کے علاوہ گلگت بلتستان کے عوام کیلے کئی اہم خوش خبری ملیں گیں جس پر علاقائی مفادات کو سامنے رکھ کر بلتستان ریجن میں ہڑتال نہیں کی گئی اور تمام تر لوگوں نے وزیر اعظم کو خوش آمدید کہا یہاں تک تاجران سکردو کے صدر غلام حسین اطہر نے گلگت کے دیگر تاجر تنظیموں سے مشاورت اور انہیں اعتماد میں لیکر موئاخر کردی کیونکہ کہا گیا تھا کہ وزیر اعظم پاکستان شاہد حاقان عباسی نے اپنے دستخط سے اس خطے میں ٹیکسز لاگو کرنے کا نوٹفیکشن کیا ہے تو وہ خود اپنے دورہ سکردو کے موقع پر گلگت بلتستان کونسل اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اس معملہ کا حل نکالنے کے ساتھ اس غیر قانونی ٹیکس کو ختم کریں گے اس وعدے کو ملحوظ خاطر رکھ کر انجمن تاجران سکردو نے بلتستان ریجن میں ہڑتال نہیں کیا اس حوالے سے انجمن تاجران سکردو کے صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ہم ہڑتال کرتے اور وزیر اعظم اس ظلمانہ نظام کو ختم کرنے کا اعلان نہ کرتے تو انگلی ہمارے اوپر اٹھتی تھی ان سارے باتوں کو مد نظر ربلتسان ریجن میں گاڑیوں کوچلنی دیاکاروباریوں کو کاروبا کرنے دیا مارکٹیں کھلی رہیں اور وزیر اعظم بڑے آب وتاب کے ساتھ سکردو تشریف لائے گلگت بلتستان کونسل اجلاس کی صدارت کی اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے ارکان کونسل نے وزیر اعظم کو بھر پور طریقے سے غیر قانونی ٹیکسز سے متعلق آگاہ کیا موصوف نے ارکان کونسل کو یقیں دلایا کہ اس نظام کا خاتمہ ضرور ہوگا یہاں تک اجلاس کے بعد کیڈٹ کالج سکردو کے آڈیوٹیوریم میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت عوام کو انکے حقوق دینے اور انہیں زندگی کی تمام سہولتیں بہم پہنچانے میں مصروف ہے موصوف کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں نافذ شدہ ٹیکس اس وقت تک معطل رہے گی جب تک سرتاج عزیز کی سربراہی میں بنے والی آئینی اصلاحی کمیٹی برائے گلگت بلتستان کی طرف سے کوئی فیصلہ نہ ہو۔

انہوں نے ٹیکس معطل کرنے کا اعلان کیا لوگوں میں خوشی کی لہر عارضی طور پر ڈور گئی اور صوبائی حکومت کے نمائندوں نے اس نظام کو ختم کرانے کا کریڈٹ لیتے ہوئے سابق حکمراں جماعت کو اس کے ابتداء کرانے کا زمہ دار ٹہرانے لگے واقعَا اس میں کوئی شک نہیں کہ گلگت بلتستان میں ٹکسز کا ابتداء ماضی کے حکمران جماعت نے کی البتہ مکمل طور پر عمل درآمد کرانے میں موجودہ حکومت بھی پیچھے نہیں رہی۔وزیر اعظم شاہد حاقان عباسی کے اعلان کو ایک ماہ ہونے والاہے لیکن ابھی تک بنکوں سے لیں دیں پر تاجروں سمیت دیگر لوگوں کو نقصان اٹھانے پڑ رہا ہے جس پر انجمن تاجران گلگت بلتستان اور عوامی ایشن کمیٹی گلگت بلتستان نے غوروفکر کرنے کے بعد حال ہی میں سکردو ایک عظیم الشان آل پارٹیز کانفرس منعقد کی جس میں حکمراں جماعت کے نمائندوں کے علاوہ یوتھ الائنس، سمیت تمام سیاسی سماجی، مزہبی تنظیموں کے علاوہ گڈز، ٹرانسپورٹ، پمپ ایسو سی ایشن، ڈرگ ایسوسی ایشن سمیت دیگر متعدد تنظیموں اور یونینز کے عہدہ داروں اور کارکنوں نے شرکت کی اس کانفرنس میں اجتماعی طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ 11نومبر سے گلگت بلتستان بھر میں پیٹرول مصنوعات کی سپلائی بند کردی جائیگی اور تیرہ نومبر سے غیر معینہ مدت تک پہیہ جام اور مکمل شٹرڈاؤں ہر تال کی جائیگی اس فیصلہ پر کانفرنس میں موجود بعض لوگوں نے اپنی تحظات کا اظہار کیا ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تمام تعلیمی اداروں میں بچوں کے سالانہ امتحانات شروع ہوچکے ہیں ایسے میں پہیہ جام مناسب نہ ہو گا دوسری بات مریضوں کو سہولیات پہنچانیکیلے میڈیکل سٹورز کا کھلارکھنا بہتر ہو گا لیکن علمائے کرام اور دیگر نوٹ ایبل نے اس تحفظات کو دور کرائے اور کہا کہ جب تک ہم یک جان ہو کر نہیں نکلیں گے کامیابی نہیں ملیں گے۔انہوں نے کہا کہ مریضوں اور طلباء کو سہولیات پہنچانا حکومت وقت کی زمہ داری ہے اور اس احتجاج اور ہڑتال کے دوران خدانخواستہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئیے تو اسکا زمہ دار بھی وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت ہوگی۔اس دوراں پرائیوٹ اسکول نیٹ ورک کے نمائندے نے کہا کہ ضرورت پڑے تو ہم سکولوں کو بھی بند کر دیں گے اور جب تک کوئی فیصلہ سامنے نہیں آئیگا سکولوں میں تدریس کا نظام معطل رہیں گے آل پارٹیز کانفرس کے بعد مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے شخصیات نیاحتجاج اور ہڑتال کیلے کمرکس لی ہے اور مختلف چوراہوں پر بینرز آویزاں کرنے کے ساتھ پمفلٹ بھی تقسیم کرنا شروع کر دئے ہیں متوسط اور غریب طبقوں نے اپنی جمع پونجی سے راشن لیکر اسٹاک کرنا شروع کیا ہے انکا کہنا ہے نہیں معلوم یہ ہّڑ تال کتنے دن رہے گا اور کہیں ایسا نہ ہوکہ آج سامان نہ لے اور بعد میں پھچتانا پڑے لھذا اپنی بندوبست ضروری ہے اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ گلگت بلتستان کی تاریخ میں ایک تاریخ رقم کرنے کا وقت آں پہنچا پے اور یہاں کے عوام اب جاگ چکی ہے انہیں معلوم ہوا ہے کہ اگر ہم سوتے رہیں تو اشرافیہ طبقہ ہمارے منہ سے نوالہ بھی چھیں لیں گے تاجروں اور ایکشن کیمٹی کی اس بھر پور تیاری میں عوام بھی ممکمل طور پر اپنے حصے کا شمع روشن کرنیکیلے نہ صرف زہنی طور پر تیار ہیں بلکہ عملی میدان میں بھی ہمت کا مظاہرہ کرنے کیلے بیتاب ہیں ایسے حال میں اگر ڈیڈ لائن سیقبل ٹیکس معطلی کی نوٹفکیشن نہ ہوا تو گلگت بلتستان میں بڑے پیمانے پر کرائسز پیداہونے کا خدشہ دکھائی دیتا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس بحران سے بچنیکیلے گلگت بلتستان کے قانوں ساز اسمبلی اور کونسل کے ممبران کس حد تک اقدام اٹھاتیہیں اور عوام کو اپنے قائد کے اعلان کے مطابق ریلیف دینے میں کامیاب ہوتا ہے یہ مرحلہ ان کے لیے امتحان سے کم نہیں اگر گلگت بلتستان قانوں اسمبلی کے وزیر اعلیٰ اور ممبران اسمبلی و ارکان کونسل مقررہ ڈیڈ لائن سے قبل اس بحران کو ٹالنے میں کامیاب ہوئے تو آنے والا نسل انکے کارناموں کو یاد رکھیں گے لیکن بدنصیبی سے مقررہ ٹائم سے قبل یہ نام نہاد پالیسی ختم نر کر سکے تو آنے والے وقتوں میں قوم پر ٹیکس نافذ کرنے اورمعاشی قتل کرنے والوں میں ان کا شمار کئیے جاءٰیں گے اب دیکھنا یہ ہوگا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔