گلگت بلتستان میں غذأیت کے رجحانات اور اثرات۔۔۔ قسط ۲

گلگت بلتستان میں غذأیت کے رجحانات اور اثرات۔۔۔ قسط ۲

56 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کالم نویس: ڈاکٹر نادر شاہ، کنسلٹنٹ نیوٹریشنسٹ

حالیہ علاقائی سروے(GB MICS 2016-2017) سے اندازہ ہوچکا ہے کہ گلگت بلتستان میں نیوٹریشن یعنی غذائیت کے اعداد و شمار نہایت ہی پرشان کن ہیں اور جنوبی ایشیا ں میں سب سے نچلے درجے پر ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ بچوں کے شرح اموات میں 45 % کا تعلق بلاولسطہ غذائیت کی کمی سے ہے ( World Nutrition Report 2016)۔ ماہرین کا خیال ہے کہ غذائیت کی کمی کے شکار بچوں میں واضع طور پر ذہنی پسماندگی ہوتی ہے جوکہ آگے چل کر انفرادی طور پر معاشی ترقی پر اثر انداز ہو کے ملکی معشیعت میں گراؤٹ کا سبب بنتے ہیں۔

MICS 2016-2017 سروے کے مطابق گلگت بلتستان کے پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں پست قدکا تناسب 46.2% ، عمر کے لحاظ سے کم وزن 19.4% اور شدید غذائی کمی کا شکار (WASTING) بچوں کا تناسب 3.8% بتایا گیاہے۔ اسی تناظر میں پانچ سا ل سے کم عمر کے بچوں میں شرح اموات92% جبکہ ایک سال سے کم عمرکے بچوں میں شرح اموات کا تناسب 74%ظاہر کیا گیا ہے ۔ ان اعدادوشمار کا مطلب ہے گلگت بلتستان میں بچے کافی لمبے عرصے تک غذائی کمی کا شکار رہے ہیں۔ جوکہ حمل ٹھہرنے سے لیکر بچے کے لئے دو سالہ زندگی تک کے عرصے تک محیطہ ہے ۔ اس عرصے کے دورانئیے کو عرف عام میں سنہری ایک ہزا ر دنوں کا دور بھی کہا جاتا ہے (The Golden Opportunity of first 1000 days ) جوکہ اس لمبے عرصے میں انسانی قد کا تعین کرتا ہے ۔ اس مدت میں دوران حمل ماں کو متوازن غذا تولید کے فورآ بعد اور چھ ماہ تک بچے کو صرف اپنی ماں کا دودھ پلانا اور چھ ماہ سے مسلسل دو سال تک ماں کے دودھ کے ساتھ بچے کو متوازن غذا دینا شامل ہے۔ اسلئیے ماہرین غذائیت نے اس مدت میں ماں اور بچے کی غذائی فراہمی کے ساتھ حفظان صحت کے اصولوں کے ساتھ پرورش کو ایک مکمل انشورنس کا تحفظ مانا گیا ہے۔

یو نیسیف اور پلاننگ اینڈ دولپمینٹ ڈیپارٹمنٹ گلگت بلتستان کے اشتراک سے علاقا ئی بچوں اور ماؤں کے صحت سے متعلق کارفرما عوامل کے بارے میں حالیہ (GB MICS 2016-2017)سروےمیں چیدہ چیدہ اعداد شمار شائع ہو چکے ہیں جن میں نمایاں طور پر بچوں سے متعلق ابتدائی غذائی حقائق سامنے آگئے ہیں ان میں پیدائش کے فورآ بعد دودھ دینے کا معمول 35%، چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ دینے کا معمول63%، چھ ماہ کے بعد بچے کو ٹھوس غذا دینے کامعمول 60%، دو سال تک مسلسل دودھ دینے کا رجحان 50.8%، اور بچے کو بوتل کا دودھ دینے کا رجحان 27.5% ماؤں میں پایا جاتا ہے۔ ہمارے علاقے کے ماؤں میں بچو ں کے ابتدائی نگہداشت کے درجہ بالا معمولات سے باآسانی یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتاہے کہ یہ معمولات (Practices) محض بنیادی غذائی اصولوں سے نا واقفیت کی وجہ سے وقوع پذیر ہیں۔ جن میں نیوٹرشن کے بنیادی تعلیمات کے ذریعے آگاہی دے کر بہتری لائی جاسکتی ہے۔ یہ زمہ داری مشترکہ طور پر نیوٹریشن پر بلاواسطہ یا بلواسطہ ا ثر انداز ہونے والے محکموں پر عائدہوتی ہے۔ جن میں خاص طور پر محکمہ ترقی خواتین، صحت ، تعلیم ، خوراک ، پانی اور زراعت قابل ذکر ہیں۔

اپنی نوعت کے اس سروے میں نیوٹریشن سے متعلق دوسرے اعداد شمار میںیہ ظا ہر کیا گیا ہے کہ آیوڈین ملا نمک کا استعمال کا تناسب گلگت بلتستان میں 68.4%، کم پیدا ئشی وزن کے بچوں کا تناشب 30.5%، Vitamin A کا ا ایک بار ستعمال 77%، بچوں کو حفاظتی ٹیکوں سے مکمل بچاؤ 39%، پینے کے صاف پانی کا گھریلو استعمال 3.2% ، ہاتھ دھونے کا مخصوص جہگہ 53%، اور صابن کی موجودگی 85.5%ہے۔ ان اعداد کو بھی بنیادی طور پر متعلقہ اداروں کے ذرائعے عوام الناس میں شعوری تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔

اس سروے میں حمل سے تعلق ماؤں کے نگہداشت کے بارے میں بھی دلچسپ حقائق سامنے آئے ہیں جن کو مذکورہ ادارا جاتی کارکردگی کے ذریعے مختصر وقت کے ہنگامی حکمت عملی سے بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ حقائق بتاتے ہیں کہ حمل کے دوران مکمل طبی نگہداشت 27.9%،طبی مرکز میں ڈیلیوری 60% اور گھر میں ڈیلیوری40% کے معملات ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں کے ابتدائی تعلیم ECD کے رجہانات میں ECD کے لئیے رسائی 14.2%ہے، ECD بچوں کے ذہنی جسمانی اور معاشرتی ترقی میں ایک کلیدی کردار ادا کرتاہے۔ اس لئیے اداروں کو کیثراحہجتی اشتراک سے ECDکو حکومتی سطح پر ہنگامی بنیادوں پر فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔

MICS 2016-2017 سروے میں ظاہر کیا گیا ہے کہ نوجوان خواتین میں شرح خواندگی 66.9%، پرائمری درجے میں شرع اندراج 12%اور پرائمری درجے میں حاضری کی شرح 49.4% ہے۔ نیوٹریشن سے متعلق بین الاقوامی تحقیقات میں واضع طور پر دیکھا گیا ہے کہ بچے کی تعلیم وتربیت اور نیوٹریشن کی بہتری کا ماں کی تعلیم سے نمایاں تعلق ہے۔

اس سے قبل 2011 (NNS) کے نیشنل نیوٹریشن سروے سے گلگت بلتستان کے اہم نیوٹریشن کے اعداد و شمار بھی اہم ہے ۔ جن میں خواتین میں کم وزن کا تناسب 17%۔ اور 27% خواتین میں فولاد، 42% میں وٹامن A، 42% میں زنک، 67% میں وٹامن D اور 30% میں آیوڈین کی کمی پائی گئی ہے۔ اسی طرح پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں بھی ان ضروری غذائی اجزا کی کمی میں فولاد 33%، وٹامن 54% A، زنک 39%، وٹامن ڈی 40% اور آیوڈین کی کمی 33% ، بچوں میں نمایاں ہیں۔ اور پست قد کے لحاظ سے دوسرے جنوبی اشیائی ممالک سے موازنہ بھی فکر انگیز ہے۔ ان مملک میں نیپال 43%، بنگلہ دیش 43%، سری لنکا 17% اور حتہ کہ ایک افریقی ملک ڈیموکریٹک رپبلک آف کانگو (D. R. of Congo) کے 42% بچے، جبکہ پاکستان میں گلگت بلتستان کے 46.2% بچے پست قد کا شکار ہیں۔

NNS-2011 میں یہ بھی واضع کیا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کے متا ثرشدہ طبقوں میں شدید غذائی کمی کے وجوہات میں ناقص پانی کے اہم عوامل کارفرما ہیں۔ جبکہ باترتیب 93% ناقص پانی ،40% متوازن غذا تک کم رسائی، 30%میعاری صحت کی سہولت کا فقدان، نیوٹریشن کے اصول سے لاعلمی اور آخر میں غربت کا دباؤ ہے۔ یہ عوامل حکومتی سطع پر ہنگامی اقدامات کے لےئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔