بینکوں میں رقوم کی ٹرانزیکشن پر ود ہولڈنگ ٹیکس کٹوتی کا سلسہ بند

بینکوں میں رقوم کی ٹرانزیکشن پر ود ہولڈنگ ٹیکس کٹوتی کا سلسہ بند

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت(پ ر)وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کی جانب سے کمشنر ان لینڈ ریونیو گلگت بلتستان کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ آج پیر کے روز سے بینکوں میں رقوم کی ٹرانزیکشن پر ود ہولڈنگ ٹیکس کٹوتی کا سلسہ بند کیا جائے جبکہ وزارت امور کشمیر کی جانب سے ہدایات ملنے کے بعد کمشنر ان لینڈ ریونیو گلگت نےان تمام شیڈول بینکوں کو ود ہولڈنگ ٹیکس کٹوتی سے روک دیا ہے اور آج باضابطہ نوٹفکیشن جاری ہونے کے بعد ود ہولڈنگ ٹیکس کا معاملہ مکمل طور پر حل ہو جائے گا.

اس حوالے سے ذرائع نے میڈیا کو بتایا کہ گلگت بلتستان کونسل کے اجلاس کی وزیر اعظم پاکستان سے باضابطہ منظوری کے بعد گلگت بلتستان کونسل کے شق نمبر P-39 جس کے تحت بینکوں سے رقوم کی ترسیل پر ٹیکس عائد کیا گیا تھا کو ختم کر دیا گیا ہے۔

رکن گلگت بلتستان کونسل ارمان شاہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام بالخصوص تاجر برادری کے تحفظات کو مد نظر رکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور گلگت بلتستان کونسل کے اراکین نے ٹیکس کے ایشو پر وزیر اعظم کے سامنے مظبوط موقف اختیار کیا اور فوری طور ٹیکس معطل کنے کی سفارش کی جس پر وزیر اعظم نے موقع پر ہی ٹیکس معطلی کا اعلان کیا بعد ازاں تاجر برادری کے تحفظات کو مد نظر رکبتے ہوئے ٹیکس کٹوتی کے عمل کو فوری طور پر روک دیا ہے اور آج سے کسی شیڈول بینک کی جانب سے ود ہولڈنگ ٹیکس کٹوتی نہیں کی جائے گی اس حوالے سے وزارت امور کشمیر نے کمشنر انکم ٹیکس کو باقاعدہ احکامات جاری کر دئے ہیں . اس کے باؤجو بھی گلگت بلتستان میں احتجاج اور شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کیا گیا تو اس عمل سے ملک دشمن قوتیں فائدہ اٹھا سکتی ہیں لہذا مطالبات پورے ہونے کے بعد احتجاج کا سلسلہ بند ہونا چاہئے.

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔