ہنزہ : خواتین کےلیےکوکنگ ٹرینگ کا انعقاد

ہنزہ (رحیم امان ،اسلم شاہ) پلاننگ اینڈڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ گلگت بلتستان اور اے کے آر ایس پی کے اشتراک سے ایک ہفتے پر محیط خواتین کے کوکنگ ٹرینگ کے اختتامی تقریب کا انعقاد ہنزہ کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا ۔تقریب کے مہمان خصوصی سکریٹری ڈیولپمنٹ اینڈ پلاننگ بابر امان بابر نے ٹریننگ میں شریک 30 خواتین میں سرٹیفکیٹ تقسیم کئے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سکرٹیری ڈیولپمنٹ اینڈ پلاننگ بابر امان بابر نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سیاحت بڑھ جانے کے بعد گلگت بلتستان میں ایسے ٹریننگ کا انعقاد کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس ضرورت کو پیش نظر رکھ کر پلاننگ اینڈڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ گلگت بلتستان اور اے کے آر ایس پی نے بہت اہم قدم اُٹھایا ہے جس سے شریک خواتین کو معاشی فائدہ ملے حاصل ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے سال گلگت بلتستان میں فنڈز کا بھر پوراستعمال ہونے کی وجہ سے اس سا ل فیڈرل گورنمنٹ نے اضافی ساڈھے نو ارب روپے گلگت بلتستان کی ترقی کے لیے دئیے ہیں جس سے گلگت بلتستان میں بڑے بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے۔اسکے علاوہ پی ایس ڈی پی میں گلگت بلتستان کے بہت سارے منصوبے شامل ہیں جس میں گلگت بلتستان میں صحت ، پن بجلی ،ذرائع مواصلات اور دیگر منصوبے شامل ہیں ۔

میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کا سب سے بڑا انڈسڑی سیاحت ہے یہ سی پیک کی روٹ کی وجہ سے اور ڈیولپمنٹ کی وجہ سے سیاحت کو فروغ حاصل ہوا ہے اس لیے گلگت بلتستان میں ہم اہم منصوبوں پر کام ہو رہا ہے جس میں مختلف علاقوں میں چیئر لفٹز اور دیگر منصوبے شامل ہیں۔گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ کے لیے اخوت کے ذریعے ہم نے بِلا سود قرضہ فراہم کیا ہے جس کی مالیت ایک ارب بتیس کروڑہے جس کے تمام تمام سروس چارجز حکومت ادا کرتی ہے،جس سے گلگت بلتستان میں میں عام لوگوں کے رہائشی مکانوں کے ساتھ ایک سو سے زیادہ کمروں کا اضافہ کیا ہے جس میں سیاحوں کی رہائش کا بندوبست کر کے عام لوگوں کو فائدہ پہنچایا گیا۔

میڈیا نمائندوں کی نشاندہی پر کریم آباد مین بازار کا معائینہ کیا اور زیرو پوائنٹ کریم آباد تا فورٹ چوک کریم آبا روڑ کی تنگی و خستہ حالی کا نوٹس لیتے ہوئے فوری اقدامات اُٹھانے کا حکم دیا ۔

تقریب میں شرکاء خواتین نے اس ٹریننگ کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹریننگ سے ہمیں بہت سے پاکستانی اوردیگر ڈیشیز بنانے میں مدد ملی گی اور آگے بھی ایسے ٹرننگ کے انعقاد کی ضرورت ہے۔

ٹرینگ میں شریک ایک خاتون شہناز عالم کا کہنا تھا کہ یہ ٹرینگ ہمارے لیے بہت ہی اہم تھا جس میں ہم نے چالیس سے زیادہ کھانوں کے مختلف اقسام سیکھے ہیں کیونکہ یہاں موجودتمام موجود اپنے اپنے بزنس چلاتی ہیں جس سے ہمیں بہت فائدہ ہوگا۔

ایک اورخاتون ملائیکہ زہرہ کا کہنا تھا کہ وہ ہنزہ علی آباد میں روایتی کھانو ں کا ایک دکان چلاتی ہیں اس ٹرینگ سے انہیں دیگر کھانے بنانے میں مدد ملے گی ۔

منتظمین کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ پروگرام تجرباتی بنیادوں پر ہنزہ میں انعقاد کیا تھا اس کے کامیابی کے بعد ہمارا دیگر علاقوں میں بھی ایسے پروگرموں کا ارادہ ہے۔

آپ کی رائے

comments