گلگت بلتستان میں زچگی کےعرصے میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کی شرح 73فیصد تک بڑھ گئی ہے، گلگت میں ملٹی پل کلسٹر انڈیکٹر سروے کی تقریب رونمائی

گلگت بلتستان میں زچگی کےعرصے میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کی شرح 73فیصد تک بڑھ گئی ہے، گلگت میں ملٹی پل کلسٹر انڈیکٹر سروے کی تقریب رونمائی

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت (پ ر) سرکاری سطح پر مربوط اعداد و شمار کے حصول کے لیے سروے کے زریعے صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں کی صورتحال کو جانچنے میں انتہائی مدد ملے گی ۔ ترقیاتی اہداف کے حصول اور حکومت کو مستقبل میں درپیش مسائل سے نبرد آزما ہونے میں مفید پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔ ان خیالات کا اظہار سپیکر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی ٖفدا محمد ناشاد نے محکمہ پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ گلگت بلتستان کی جانب سے ملٹی پل کلسٹر انڈیکٹر سروے کی لانچنگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے اس موقع پر کہا کہ یونیسیف کے تعاون سے مکمل کیئے جانے والے اس سروے کے مقاصد واضح ہیں، حکومت کو سروے کی مدد سے ایسے علاقوں میں کام کرنے میں مدد ملے گی جہاں پر فنڈز کی فراہمی کی اشد ضرورت ہے۔ اس طرح سے گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں غربت پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور ماں اور بچوں کی صحت ، تعلیم دیگر ضروریات زندگی کی فراہمی اور ان کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے اس موقع پر UNICEFکا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس ادارے نے ہمیشہ اس طرح کے مواقع پر گلگت بلتستان کی بھرپور مدد کی ہے۔ سپیکر جی بی ایل اے فدا محمد ناشاد نے مزید کہا کہ اس سروے کو کم وقت میں تکمیل پر سیکریٹری پلاننگ و ڈیولپمنٹ بابر امان بابر اور محکمہ بھی مبارک با د کا مستحق ہے ، جنہوں نے انتہائی مستعدی اور جانفشانی کے ساتھ سروے کو مکمل کیا۔ سپیکر صوبائی قانون ساز اسمبلی نے یہ بھی کہا کہ انسانیت کی خدمت کرنا سب سے بڑے خدمت ہے ، اس سروے کی تکمیل کے بعد علاقے میں غربت کے خاتمے اور ماں و بچے کی صحت کو بہتر بنانے میں انتہائی مدد ملے گی۔

ملٹی پل کلسٹر انڈیکٹر سروے کی لانچنگ کی تقریب گلگت میں ہوئی جس میں یونیسیف پاکستان کی نمائیندہ چیف پلاننگ اینڈ مانٹرینگ شاہین حسین نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی ۔ تقریب میں گلگت بلتستان حکومت کی جانب سے وزیر محکمہ منصوبہ بندی و اطلاعات اقبال حسن ، ڈپٹی سپیکر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی جعفر اللہ خان، وزیر سیاحت فداخان، وزیر خوراک جانباز خان، ممبران صوبائی اسمبلی اورسیکریٹری داخلہ بلال میمن سمیت دیگر اعلی سرکاری افسران نے بھی شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر محکمہ پلاننگ و انفارمیشن اقبال حسن نے کہا کہ اس سروے میں کئی معاشی و سماجی اشاریوں کی مدد سے دیہی و شہری علاقوں میں تعلیم و صحت، مالی و معاشی صورتحال کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ سروے گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں خواتین و اطفال کی صحت و تعلیم کاصورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے مرتب کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں صوبائی ادارہ شماریات کی عدم موجودگی کے باوجود بھی اس سروے کا کام سرانجام دیا گیا ہے جو کہ محکمہ پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ کی ایک اہم کامیابی ہے۔ یہ اولین ملٹی پل انڈیکٹر سروے ہے۔ یہ سروے گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں اکتوبر 2016سے فروری 2017 تک جاری رہا۔ انتہائی نامسائد حالات اور سخت موسمی صورتحال کے باوجود مقررہ قت پر اس سروے کی تکمیل ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

صوبائی وزیر پلاننگ اقبال حسن نے مزید کہا کہ اس سروے میں کل چھ ہزار چار سو گھرانوں کا سروے کیا گیا۔ اس سروے کی مدد سے مفصل اور موثر اعداد و شمار مرتب کیے گئے جس کے لیے محکمہ پلاننگ و ڈیولپمنٹ اور یونیسف کا ادارہ مبارک باد کا مستحق ہے۔

سروے کی تفصیلات سے آگاہ کرنے کے لیئے ڈپٹی چیف پلاننگ ذاکر حسین نے کہا کہ اس سروے میں 120کے قریب معاشی و سماجی اشاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ سروے کو موثر و جامع بنانے کے لیے تین مختلف سوال نامے ترتیب دیئے گئے تھے جن کا مقصد خواتین اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کی تفصیلات اکھٹا کرنا تھا۔ ڈپٹی چیف پلاننگ نے بتایا کہ سروے کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ مختلف اضلاع میں زچہ و بچے کی صحت کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ دوران حمل اور زچگی کے بیچ کے عرصے میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کی شرح 64فی صد سے بڑھ کر 73فیصد تک بڑھ گئی ہے۔ 12 سے لیکر 23ماہ تک کی عمر کے بچوں کی ویکسی نیشن کی شرح میں بھی خاطرخواہ بہتری آئی ہے اور 39فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مگر اس شرح میں مزید بہتری کی ضرورت ہے تاکہ اطفال کو موزی امراض سے ہرممکن تحفظ دیا جا سکے۔

بچوں کی پیدائش کے وقت رجسٹریشن بھی ایک نہایت ضروری عمل ہے ۔ حالیہ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دس میں سے صرف دو بچوں کی رجسٹریشن کرائی جاتی ہے۔ سروے کے نتیجے میں اس بات کی بھی نشاندہی ہوئی کہ بہت سارے شعبوں میں مزید بہتری کی اب بھی گنجائش ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری داخلہ بلال میمن نے کہا کہ سروے کی مدد سے مختلف شعبوں کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ سروے کی روشنی میں جامع منصوبہ بندی کرنا ممکن ہو سکے گا اور گلگت بلتستان کے ایسے اضلاع جو ابھی تک بنیادی سہولیات کی فراہمی میں محدود وسائل رکھتے ہیں وہاں تک حکومت کی رسائی کو بہتر بنایا جا سکے گا۔ چیف سیکریٹری گلگت بلتستان کی خواہش ہے کہ فنڈز کو موثر طریقے سے ان شعبوں کی بہتری کے لیئے خرچ کیا جائے۔ سیکریٹری داخلہ نے یہ بھی کہا کہ صوبائی حکومت یونیسیف کی بھی مشکور ہے کہ اس نے سروے کو مکمل کرنے میں بھرپور تعاون کیا۔

یونیسیف پاکستان کی نمائیندہ چیف پلاننگ اینڈ مانٹرینگ شاہین حسین نے بھی اس موقع پر تقریب سے خطاب کیا اور کہا کہ بچوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جانے والی رقم ہمارے محفوظ مستقبل کی ضامن ہے۔ ان کا ادارہ حکومت پاکستان اور گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ مستقبل میں بھی مل کر صحت و تعلیم کے شعبے میں مزید بہتری لانے کا خواہاں ہے۔ اس موقع پر سروے کا کام مکمل کرنے والی ٹیم کو بھی مبارک باد پیش کی اور کہا کہ ٹیم نے مشکل حالات کے باوجود مقررہ وقت پر اپنا ہدف کامیابی سے مکمل کیا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔