انجمن تاجران سکردو نے 24نومبر سے شروع نئے احتجاجی سلسلے کے لئے عوامی رابطہ مہم تیز کردی

انجمن تاجران سکردو نے 24نومبر سے شروع نئے احتجاجی سلسلے کے لئے عوامی رابطہ مہم تیز کردی

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کھرمنگ (بیورورپورٹ) انجمن تاجر ان سکردو کے صدر غلام حسین اطہر نے 24نومبر سے شروع ہونے والے نئے احتجاجی سلسلے میں عوامی رائے اور زیادہ سے زیادہ عوام کی تعاون کے لئے مہم تیز کردی اس سلسلے میں انہوں نے گول سرمیک اور ضلع کھرمنگ میں مہدی آباد طولتی کمنگو اور کھرمنگ یورنگوٹ کا دورہ کیا اور تاجربرادری اور عوامی اجتماعات سے خطاب کیا ۔

مہدی آباد میں تاجر برادری کی کثیر تعداد سے خطاب کرتے ہوئے انجمن تاجران سکردو کے صدر غلام حسین اطہر نے کہا کہ حکومت نے اگر انجمن تاجران گلگت بلتستان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں پیش کئے گئے مطالبات پر عمل نہیں کرایا تو 24 نومبر کو صوبے بھر میں دکانیں اور مارکٹیں بند کر کے احتجاج کا ایک نیا سلسلہ شروع کرینگے جس میں تاجروں کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کی عوام پہلے سے بھی زیادہ جوش و جذبے کے ساتھ احتجاجی مظاہروں میں شرکت کریں گی جبکہ ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن بھی اس احتجاج کا حصہ ہو نگے وہ بھی گلگت بلتستان بھر میں پہیہ جام رکھے گی

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت غیر آئینی علاقے کی عوام کو طرح طرح کے نئے ٹیکسز لگا کر یہاں کی غریب عوام کی زندگیوں میں مشکلات پیدا کررہی ہے جبکہ مالاکنڈ کے کئی اضلاع جن میں سوات دیر اورلوئر دیر شامل ہیں ان علاقوں کو قومی اسمبلی اور سنیٹ میں نمائندگی ہونے کے باوجود بھی اب بھی ٹیکسز سے مستثنیٰ رکھا ہوا ہے لیکن اس خطے کی عوام کو بنیادی حقوق میسر نہ ہونے کے باجود بھی ٹیکسز لگایا جارہا ہے انجمن تاجران مہدی آباد سرمک گول طولتی کھرمنگ خاص اور اولدینگ نے 24نومبر سے شروع ہونے والے شٹر ڈاون اور پہیہ جام ہرٹال میں مرکزی انجمن تاجران کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کمی یقین دہانی کرائی گئی ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔