ٹیکس کے خاتمے کی ہم گارنٹی نہیں دے سکتے، ہم نے ایکشن کمیٹی والوں کو کوئی تاریخ نہیں دی ۔ توجہ دلاو نوٹس پر حکومتی رد عمل

گلگت(ارسلان علی ) صوبائی وزیر تعمیرات ڈاکٹر اقبال نے کہا ہے کہ ٹیکس کے خاتمے کی ہم گارنٹی نہیں دے سکتے ہیں۔ گلگت بلتستان میں ٹیکس لگنا 2012 میں شروع ہوا ہے ،ایکشن کمیٹی والے اس وقت اس ٹیکس کو لگانے والوں کو لاکر روڑوں پر کیوں گھسیٹتے نہیں ہیں؟ ہم ٹیکس کے خاتمے کیلئے بھرپور کوشش کررہے ہیں۔منگل کے روز انہوں نے قانون ساز اسمبلی میں ممبر قانون ساز اسمبلی کاچو امتیاز حیدر کی ٹیکس کے ایشو پر توجہ دلاو نوٹس پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کوئی ان کو ہڑتال ملتوی کرنے کو نہیں کہا تھا بلکہ آل پارٹیز کور کمیٹی اور انجمن تاجران والوں نے خود ہمیں 19نومبر تک کی تاریخ دی تھی اس پر ہم نے ان سے 23نومبر تک کی تاریخ مانگی تھی کیوں کہ تب تک ہم اس ایشو کو اسمبلی سمیت وزیراعلیٰ لند ن کے دورے کے بعد آئے تو مل کر کوئی حل نکانے کی کوشش کرینگے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے آل پارٹیز کور کمیٹی سے ٹیکس خاتمے کیلئے کوئی وعدہ نہیں کیا ہوا ہے ،کچھ لوگ ایکشن کمیٹی کے نام پر غلط سیاست کررہے ہیں اور اپنی آپ کو مستقبل میں سیاست کیلئے تیار کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اخبارات میں سرخیاں لگوانے سے آئینی حقوق نہیں ملتے ہیں۔ایکشن کمیٹی والے آئینی حقوق کا ایک نکاتی ایجنڈا لے کر آئے وہ جس جگہ چاہتے ہیں میں ان کے ساتھ دھرنہ دینے کیلئے تیار ہوں ۔آئینی حقوق کا مسئلہ جب تک حل نہیں ہوتا تب تک یہ تمام مسائل حل نہیں ہوسکتے ہیں،ہمارا قومی اسمبلی اور سینٹ میں نمائندگی نہیں ہونے کی وجہ سے ہم کوئیں کے مینڈک بنے ہوئے ہیں۔

توجہ دلاو نوٹس پر پالیمانی سیکریٹری اورنگزیب ایڈووکیٹ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایکشن کمیٹی والوں کو کوئی تاریخ نہیں دی تھی بلکہ انہوں نے خود ہمیں تاریخ دیا تھا جس کوہم نے ایک دو دن بڑھا کر 23تاریخ کروایا تھا ۔اگراسمبلی کے تمام نمائندے چاہتے ہیں کہ ٹیکس کا نظام رول بیک ہوجائے توہم تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کی وزیراعظم پاکستان کے ساتھ اس ایشو پر بات ہوئی ہے ،ایسے معاملات کو حل ہونے میں وقت درکار ہوتی ہے کیوں کہ اس میں کافی پیچیدگیاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی والے خود مانتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں ٹیکس ان کے دور میں لگا ہے ،یہ مسئلہ سب کا ہے ہم اس مسئلہ پر عوام کے ساتھ ہیں ۔وزیراعلیٰ کے آنے کے بعد اس ٹیکس کے مسئلہ پر اسمبلی میں بھی بات ہونی چاہئے ۔

پیپلزپارٹی کے ممبر قانون ساز اسمبلی عمران ندیم نے اس پر گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس کے مسئلہ کو بڑانے کیلئے ان کے ن لیگ کے اراکین اسمبلی کافی ہیں اور ن لیگ کے اراکین اسمبلی کہتے ہیں کہ ٹیکس کے خلاف ہڑتال کرنے والے اور دھرنہ دینے والے ملک کے غدار ہیں اور ’’را ‘‘ اور موساد کے ایجنٹ ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments