حیات جاوداں۔۔۔!

حیات جاوداں۔۔۔!

70 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر : حاجی سرمیکی

عمرے سے واپسی، صوم النفلی،ربیع الاول کا مبارک مہینہ، جمعے کی مبارک ساعتیں ، معمول کے مطابق نماز اشراق سے فراغت کے بعدبااصول اور باوصف شخصیت وطن عزیز کا ایک دیانتدارآفیسر شہید اشرف نوربطورایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس برائے ہیڈکوارٹرز خیبر پختونخواہ ، پھولوں کے شہر پشاور کے موضع حیات آباد میں دفتر کے لئے نکل رہے تھے ۔ روایات کے مطابق انہیں حال ہی میں اپنی نجی رہائش گاہ سے پولیس کوارٹرز میں منتقل کردیاگیا تھا ۔ آشوب زمانہ کو ان کی نیک سیرت اور راست گوئی سے گرہن لگ رہا تھا۔ وہ اپنے پیشہ ورانہ صلاحیتوں، عزم و استقلا ل اور جانبازی سے دہشت گردوں کے دلوں پرخوف و بے بسی کی دھاگ بٹھا چکے تھے تو ان درندوں نے اپنی گھناونی روایات کے مطابق نورصاحب پرحملے کی دھمکی دے دی تھی۔

انہیں خفیہ ذرائع سے اس کی اطلاع تھی تو انہیں حفظ ماتقدم کے طور پر قدرے محفوظ جگہہ پر منتقل کردیا گیاتھا۔ گھر کے لاونچ میں دیوار پر لٹکے گھڑیال کی سوئی بدستور گردش پذیر تھی ۔ ادھرصبح کے آٹھ بجنے کی ٹن ٹن ،ادھر اشرف نور مستعد و تیار تو گیٹ پر اس کے چوکنے محافظ ہوشیار ، سب کو سلام کیا اور اپنے نورچشم کو گاوں سے آئے مہمانوں کی خاطر مدارات کی صلاح دے کر اشرف نوردفتر کے لئے نکلے ۔گیٹ پر ڈرائیور ذیشان نے سینہ تان کر، پرجوش انداز میں چھنک کے ساتھ لہراتا سلیوٹ مارکر سلام صبح پیش کیا۔

نورصاحب کی لینڈ کروزر آگے اور عقب میں حفاظتی دستے کی ڈاٹسن، نور صاحب کی گاڑی کے فرنٹ پر ڈرائیور ذیشان کے ساتھ غالبا ان کا محافظ اور کیبن میں نور صاحب خود براجمان تھے ۔ گاڑی گولی کی تیزی سے گھر سے نکلی، راستہ پہلے سے متعین تھا۔ تاک میں بیٹھے دہشت گردوں سے بچ بچاو کی غرض سے روٹ باربارتبدیل ہوتی رہتی تھی۔ اب کے بار تاتارا پارک والی روڈ کا انتخاب کیا گیا تھا ۔

گھر سے نکلے ہی تھے کہ گھر میں موجود لوگوں نے بہت زوردار آواز سنی، گیٹ کی طرف سب لپکے، گھرمیں موجود خانساماں نے اطلاع دی کہ قریب ہی کہیں کوئی دھماکہ ہوگیا ہے۔ نور صاحب کے بیٹے نے فوراً گاڑی نکالی اورنکل پڑے۔ راستے میں انہیں ٹیلی فون پر بتایا گیا کہ اشرف نورصاحب کی گاڑی پر خودکش حملہ ہوا ہے۔ وہ جائے وقوعہ پر پہنچے تو سامنے دھماکے کی زد میں آئی لینڈ کروزرسے دھویں کے بادل اٹھتے دکھائی دیئے۔علاقے کو پولیس نے محاصرے میں لے رکھا تھا اس لئے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا گیا ۔ انہوں نے متعین عملے پر اپنی شناخت بطور اشرف نورصاحب کی فیملی کے ظاہر کردی توانہیں اجازت دی گئی۔ وہاں سے معلوم ہوا کہ ایک عاقبت نااندیش اوردرندہ صفت موٹر سائیکل سوار نے اپنی بارود سے لدی موٹر بائیک اشرف نور صاحب کی گاڑی سے ٹکرادی ، جس سے یکایک ایسا زوردار دھماکہ ہوا کہ اس قوی ہیکل گاڑی کے دروازے نکل گئے اور گاڑی میں آگ لگ گئی ،بم ناکارہ بنانے والے ماہرین کے مطابق دھماکے میں دس سے پندرہ کلو بارود استعمال ہوا تھا۔

دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ عقب سے آتی حفاظتی سکواڈ کی گاڑی کے اگلے حصے کو بھی نقصان پہنچا۔اس المناک قومی سانحے میں ڈرائیور ذیشان زخمی ہوچکا تھا جبکہ اگلی نشست پر بیٹھے حفاظتی گارڈ اور اشرف نورصاحب تشویشناک حد تک زخمی ہوچکے تھے۔تھوڑی ہی دیر میں اشرف نورصاحب کی شہادت کی تصدیق ہوئی۔سکواڈ کے جوانوں نے اشرف نور اور زخمی گارڈ کو شعلوں میں گھری گاڑی سے نکالنے کی کوشش کی ، جس کی وجہ سے ان میں سے چند ایک زخمی بھی ہوئے۔ بذریعہ فون اشرف نورصاحب کی شہادت کی خبرسے گھروالوں کو مطلع کیاگیا۔ اس عجلت کی وجہ یہ تھی کہ صحافتی اہلکاروں اور سوشل میڈیا پر یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل چکی تھی اور ان کے خاندان ، احباب اور متعلقہ لوگوں کو دیگر ذرائعوں سے معلوم ہونے سے قبل پولیس کے اپنے ذرائع سے اطلاع دی گئی۔

پشاور میں ان کی رہائش گاہ پر گورنر پختونخواہ، کورکمانڈر، آئی جی اور کمانڈنٹ فرنٹیئر کانسٹیبلری اور دیگر اعلیٰ سیاسی، عسکری اور سماجی حکام کے رابطے ہوئے اور ان کی نماز جنازہ اداکرنے کا انتظام کرنے اور مذکورہ حکام کی شرکت کی تیاریاں ہونے لگیں۔ پشاور میں جنازہ اداکرنے کے بعد شہید کی جسد خاکی کو بذریعہ ہوائی جہاز آبائی علاقے کی طرف بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اشرف نورصاحب کا خاندان پشاوراور ایبٹ آباد میں دیگر رشتے دار سکردو میں حتیٰ کہ آبائی گاوں سرمیک میں بھی موجود تھے۔ سب میں یکدم میڈیا کی وجہ سے خبر پہنچ چکی تھی۔

سکردو میں تدفین کی تیاریاں شروع ہوئی، دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کا سیلاب امڈ آیا۔ گھرتو گھر ، باہر گلیوں میں بھی تل دھرنے کی جگہ نہیں رہی۔حکومت گلگت بلتستان کی جانب سے پولیس گروانڈ سکردو میں جنازہ پڑھانے اور شہید آئی جی کی میت کو سلامی دینے کا انتظام کیاگیا تھا۔ فورس کمانڈر ایف سی این اے ، ڈی آئی جی پولیس اور دیگر سرکاری و سول افسران کی کثیر تعداد نے جنازے میں شرکت کی۔ اللہ لطیف کی صداوں میں ان کا جنازہ نماز کی ادائیگی کے بعد اٹھااورسکردو عباس ٹاون میں تدفین کی رسومات کی ادائیگی ، پولیس کے دستے کی سلامی ، پھول چڑھانے اور ان کے بیٹے کو قومی پرچم اور پولیس کے نشان کی عطائیگی کے بعد سپرد خاک کیا گیا۔ان کے باہمت اور جواں عزم بیٹے نے ایک عظیم نڈر، پیشہ ور اور باصلاحیت شخصیت کا وارث ہونے کا ثبوت اپنی مغموم مگر مطمعن نگاہوں اور دل گرفتہ مگر پر اعتماد چہرے کے ساتھ علم ونشان وصول کرکے کیا۔

آئی جی اشرف نور کی شخصیت ، حلم ، عبادت گزاری اور اخلاق کی بڑی دنیا معترف ہے ۔انہوں نے اندرون ملک ہنگواور کوہستان جیسےعلاقوں میں بھی ذمہ دارانہ عہدوں پر متعین رہتے ہوئے بہت پیشہ وارانہ خدمات اور اصول پسندی کے عوض بہت نام کمائے۔ اس کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی زیرنگرانی انہیں بوسنیا اور کوسوو میں بھی اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو منوانے اور نکھارنے کا موقع ملااور اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن نبھاکرآئے۔

جہاں پاکستان میں پولیس اپنی غیر تسلی بخش کارکردگی کی وجہ سے بدنام اور اس ادارے سے ملحقہ عملہ و آفیسران کے بارے میں لوگوں کی رائے اچھی نہیں ہے۔

جہاں پاکستان میں پولیس اپنی غیر تسلی بخش کارکردگی کی وجہ سے بدنام اور اس ادارے سے وابستہ عملہ و آفیسران کے بارے میں لوگوں کی رائے اچھی نہیں ہے۔ لیکن اشرف نور صاحب جدھر بھی متعین رہے ان کا عملہ، زیر نگرانی کا علاقہ ان کی تصوفانہ روش، درویش منش صفات اور سادگی اور اصول پسندی کی وجہ سے مقبول رہے۔ کوہستان ہویا چترال یا پھر ایبٹ آباد کے عوام سبھی اشرف نورصاحب کی کارکردگی، پرہیزگاری اورضابطے کی وجہ سے ان کی معترف رہی ہے۔ ان کی تعیناتی کا زیادہ تر حصہ، تربیت، استعداد کاری اور اس سے متعلقہ پیشہ وارانہ خدمات کی انجام دہی سے متعلق رہااور ہر شعبے میں دیانتداری کی بے پائیاں مثال قائم کی۔ یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان جیسے دورافتادہ اور پسماندہ علاقے کا سپوت ہوتے ہوئے اپنی پیشہ وارانہ کامیابیوں کے بل بوتے پر انسپکٹر جنرل کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز رہے۔

ان کی طبیعت میں درویشی بچپن سے ہی تھی۔ زراعت میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد مقابلے کا امتحان امتیازی نمبرات سے پاس کرنے کے بعد پولیس کے شعبے سے وابستہ ہوگئے۔ انہوں نے ہمیشہ اخلاق اور حسن سلوک کو اپنے دل میں گھر کئے رکھا، اسی لئے اپنے دور کے عظیم صوفی بزرگ الحاج فقیر محمد ابراہیم ؒ کی مرشدی اختیار کی۔ وہ فقیر محمد ابراہیمؒ کے ساتھ خپلو کے پہاڑوں، مساجداور خانقاہوں میں معتکف رہے ۔ اشرف نور کے اپنے بقول وہ روحانیت میں ترقی کے لئے انہی عظیم بزرگ سے فیض یاب ہواکرتے تھے۔

اشرف نور نے بطور ایک فرض شناس آفیسر کے اپنی زندگی اصول پسندی میں تو گزار ہی دیا ساتھ ہی وہ ایک متقی ، پرہیزگار اوردرویش منش انسان کے طور پر بھی کافی مقبول ہوئے۔ کون جانے کہ اپنی گوناگوں ذمہ داریوں اور مضبوط فرض شناسی کے درمیان عام عوام اور نجی زندگی کے لئے کیسے وقت نکالا کرتے تھے۔ شہادت ان کی آخری خواہش تھی اور اس کا اظہار عمرے سے واپسی پر انہوں نے خود کیا تھا۔ پاکستان سے والہانہ محبت، پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور دیانتداری کے لئے ان کے کارنامے بین ثبوت ہیں۔ وہ جو کل شہداء کے قبروں پر بڑے مان کے ساتھ پھول چڑھایا کرتے تھے ، لواحقین اور ورثاء کی ڈھارس بندھایا کرتے تھے آج خود اپنی جان جانِ آفرین کے حوالے کرکے آسودہ خاک ہوگئے۔

حکومت وقت کو چاہیئے کہ ان کی اپنے شعبے سے والہانہ وابستگی، اصول پسندی اور جانبازی کے صلے میں اشرف نور کو صدارتی تمغے سے نوازیں۔ ان کی شہادت سے پولیس ڈیپارٹمنٹ جس دیانتدار افسر سے محروم ہوگیا ہے اس خلا کو پر کرنے میں بہت وقت لگے گا۔ اسی لئے اشرف نور صاحب دہشت گردوں کا نشانہ بنے تاکہ ان کے خلاف برسر پیکار پاکستانی قوم کو گہرا صدمہ پہنچایا جاسکے۔ سرمیک کے عوام کو اپنے اس نڈر اور بے مثال سپوت پربہت فخر ہے ۔ اور سرمیک کی دھرتی اپنی ہواوں میں پلے، گلیوں میں بڑھے اس بہادرشہید سپوت کی جسد خاکی کو اپنے سینے پر بطور تمغہ و اعزاز سجا نہ پانے کی تمنا لئے تاقیامت ان پر فخر کرتی رہے گی ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔