اے وارثِ امامتِ دوران خوش آمدید!

دلوں کی دھڑکن، اُمیدوں کی کرن اور خوشیوں کی لہر امام زمانہ نور مولانا شاہ کریم الحسینی صلوات اللہ علیہ (جو باقی دُنیا کے لیے پرنس کریم آغا خان ہیں۔) کل پیچھلے پہر سرزمین پاکستان میں قدم رنجہ فرما چکے ہیں۔ آپ کی آمد کی خبر نے وطن عزیز کے ہر فرد کو بے تاب کر رکھا ہے۔ خوابوں کو تعبیر دینے والے میرے محبوب امام کے لیے فرزندانِ سرزمین پاکستان بالعموم اور اسماعیلی مسلمانانِ پاکستان نے بالخصوص آنکھیں فرشِ راہ کیے ہوئے ہیں۔ سب سے اہم بات خطے میں بھائی چارگی اور اتحاد بین المسلمین کا مظاہر قابلِ دید ہے۔ جہاں غذر اور چترال میں مسلمانانِ اہلِ سنت والجماعت مہمان نوازی، پنڈال کی سجاوٹ اور دیگر امور میں پیش پیش ہیں وہاں مسلمانانِ اہل تشیع کے ممتاز عالم دین محترم آغا راحت حسین الحیسنی صاحب کی طرف سے گزشتہ جمعے کے خطبے میں خیرمقدمی کلمات خطۂ شمال میں امن و محبت کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے۔ جس کے لیے ہم اہلِ تشیع اور اہلِ سنت کے علمائے دین اور عوام الناس کا تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ یقناً زندہ قومیں ایسے ہی ایک دوسرے کی خوشیوں کو سلیبریٹ کرکے ڈائیورسٹی اور پلوریلزم کا مظاہرہ کرتی ہیں جس کو قرآن پاک نے تنوع یا رنگارنگی کہا ہے اس لیے کہ پروردگار کی تخلیق میں تنوع ہے۔ الحمدللہ! آج ہم پھر ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں جوکہ مثبت اقدام ہے۔ آج صبح میرے دوست جمشید خان دُکھی نے میرے سیل فون پر ایک قطعہ بھیجا جس میں آپ کی ہزہائینس کے ساتھ عقیدت چھلکتی ہے جوکہ آپ کی بینائیوں کی نذر کیے دیتا ہوں؎

اونچا بڑا ہے خدمتِ ملت کا تیرا کام
آمد ہے تیری باعثِ عزت و احترام
تجھ سے نہیں ہے بیر کسی کو ہزہائینس
اہلِ شمال کا تہہِ دل سے تجھے سلام

ہماری تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ اس خطے میں ہم اتنی محبت سے رہتے تھے کہ آپس میں رشہ داریاں ہوتی تھیں۔ خلوص تھا، محبت تھی اور ہم تھے۔ مسلکی محبت و ہم آہنگی کی اس سے بڑی مثال اور کیا دی جا سکتی ہے کہ جب ہزہائینس پہلی بار انیس سو ساٹھ کو خطۂ شمال تشریف لائے تھے تو اس وقت گوپس غذر پنڈال میں امام کے حضور منقبت پڑھنے والی طالبات میں راجہ گوپس کی دُختر نیک اختر بھی تھی۔ راجہ گوپس کا تعلق اہل سنت والجماعت برادری سے تھا۔ راجہ صاحب نے نہ صرف اپنی بیٹی کو منقبت پڑھنے کی اجازت دی بلکہ انہوں نے ہزہائینس کی مہمان نوازی کا شرف بھی حاصل کیا تھا۔ راجہ گوپس کے محل کا وہ کمرہ اب بھی گوپس کے گاؤں گاؤت میں موجود ہے جہاں امام زمانہؑ نے شب بسر کی تھی۔ اس گھر کی قسمت پر تو فرشتے بھی نازاں ہوا کرتے ہیں جس گھر کے مہمانِ عالیجاہ اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کے امامؑ ہوں۔ اس حوالے سے مرحوم راجہ صاحب کو اپنے گھر کی قسمت پر فخر رہا ہوگا۔ میری خاندانی رشتے داریاں اہلِ سنت اور اہل تشیع میں ہیں۔ میری ننھیال سادات ہیں جبکہ ہم خود شیخ ہیں۔ بڑے خاندانوں میں مسلکی چیزوں کو اہمیت نہیں دی جاتی بلکہ اسلام کی حقیقی تعلیمات انسانیت کی بات ہوتی ہے۔ میں جب اپنے اہلِ سنت و اہلِ تشیع رشتہ داروں کے گھر جاتا ہوں تو کبھی بھی مذہب زیرِ بحث نہیں ہوتا بلکہ مجھے گھر میں یہ کہہ کر احتراماً سب سے اوپر بٹھایا جاتا ہے کہ آپ عالمِ دین ہیں آپ کے سینے میں قرآن ہے۔ جو کہ ان کی خاندانی اعلیٰ نسبی کا ثبوت ہے۔ یہ بات تجربے میں آئی ہے کہ اعلیٰ خاندانوں میں انسانیت و محبت کی بات ہوتی ہے اورکہیں اور شاید نفرت کی۔ آج کی دُنیا نفرت کی نہیں علم، روشنی اور محبت کی دُنیا ہے۔ جس کو فروغ دےکر ہی ہم ایک دفعہ پھر اختلافات سے اشتراکات کی طرف آسکتے ہیں۔ نفرت سے محبت کی طرف سفر خاصا مشکل ہے لیکن جس دن بھی ہم یہ سفر طے کریں گے وہ دن ہماری ترقی کا پہلا اور زوال کا آخری دن ہوگا۔ انشااللہ العزیز!

بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ بات ہو رہی تھی ہزہائینس کے حالیہ دورے کی۔ اس دورے میں وہ جہاں پاکستان کے دوسرے حصوں میں اسماعیلی مسلمانوں کو دیدارِ مبارک کے فیوض و برکات سے نوازیں گے وہاں خطۂ شمال میں بھی اپنی جماعت کو شرفِ باریابی بخشیں گے۔

دیدار فارسی زبان کا لفظ ہے جو دید سے نکلا ہے جس کے معنی دیکھنا ہیں۔ اسماعیلی اصطلاح میں دیدار سے مراد مرید کی امام سے ملاقات ہے۔ امام مرید ملاقات کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ایک صورت یہ کہ اپنے دیدۂ ظاہر سے امام کو دیکھے اور اسی طرح دیکھے جس طرح ایک انسان دوسرے انسان کو دیکھتا ہے۔ اسماعیلی طریقے میں امام کو اسی طرح ظاہری آنکھ سے دیکھنے کی کوئی اہمیت نہیں۔ اسماعیلی تصور میں دیدار کی اہمیت ان معنوں میں مسلم ہے کہ مرید جب دل کی آنکھ کھول کے امام کی طرف دیکھتا ہے تو اس صورت میں اسے صرف امام کی ظاہری شخصیت ہی نظر نہیں آتی بلکہ مرید کے لیے اس وقت امام کی شخصیت ایک ایسے شفاف آئینے کی حیثیت اختیار کر جاتی ہے جس میں مرید کو نور و سرور کی ایک پوری کائنات نظر آتی ہے۔

اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سلسلۂ امامت کے تینتیسویں امام حضرت امام عبدالسلام علیہ السلام نے فرمایا ہے؎

اگر خواہی کہ روی من ببینی چشم سر بکشا
کہ چشمِ سر نہ بیند جز وجودِ دہرِ فرسائم

ترجمہ: ’’اگر میرے حقیقی دیدار کی تمنا ہے تو دل کی آنکھ سے میرا دیدار کیا کر کیونکہ (تیری) ظاہری آنکھ میرے فانی جسم کے علاوہ اور کچھ نہیں دیکھ سکتی ہے۔‘‘

پیر شہاب الدین شاہ اپنی کتاب ’’منتخب خطاباتِ عالیہ‘‘ کے صفحہ نمبر بیالیس میں سلسلۂ امامت کے پانچویں امام حضرت امام جعفر الصادق علیہ السلام سے منسوب ایک فرمان کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ حضرت امام جعفر الصادق علیہ السلام نے فرمایا:

’’ہمارے لیے اس (ذات) کے ساتھ ایسے حالات بھی رونما ہوتے ہیں جن میں ہم وہ ہوتے ہیں اور وہ ہم ہو جاتا ہے (باقی) ہم ہم ہیں اور وہ وہ ہے۔‘‘

امام تو امام ہوتا ہے بعض عام صوفی شعرا نے بھی وجد میں آکرایسے ہی خیالات کا اظہار کیا ہے جیسے امیر خسرو دہلویؒ کہتے ہیں؎

من تو شدم تو من شدی، من تن شدم تو جان شدی
تا کس نہ گوید بعد ازیں، من دیگرم تو دیگری

ترجمہ: ’’میں تو بن گیا ہوں اور تو میں بن گیا ہے، میں تن ہوں اور تو جان ہے۔ پس اس کے بعد کوئی نہیں کہہ سکتا کہ میں اور ہوں اور تو اور ہے۔‘‘

تصوف و روحانیت کی دُنیا میں پہنچی ہوئی ہستیاں اکثر ایسی باتیں کر جاتی ہیں کہ جو عام انسانوں کی ذہنی سطح سے بہت اوپر ہوتی ہیں۔ منصور الحلاج نے اسی روحانی وجد میں آکر انا الحق کہا تھا لیکن کہا ایسے لوگوں کے درمیان تھا جو ذہنی اور روحانی طور پر پیدل تھے اور اس کو سمجھنے کی اہلیت سے عاری تھے نتیجتاً منصور الحلاج کو اپنی جان کی قربانی دینی پڑی۔ شاعر نے اس واردات کی بڑی خوبصورت منظرکشی کی ہے۔ کہتے ہیں؎

تھا انا الحق، حق مگر منصور کو یہ کہنی نہ تھی
یار کی محفل سے باہر، یار کی محفل کی بات

بات ہو رہی تھی دیدار کی۔ عارف رومی اپنے عارفانہ شعر میں فرماتے ہیں؎

اے لقائے تو جوابِ ہر سوال
مشکل از تو حل شود بے قیل و قال

ترجمہ: ’’اے میرے محبوب! تیرا دیدار ہی ہر سوال کا جواب ہے اور میری ہر مشکل کا گرہ قیل و قال کے بغیر کھل جاتا ہے۔‘‘

یہ اسماعیلی مسلمانوں کی خوش بختی کی علامت ہے کہ وہ خانوادۂ امامت سے منسلک ہیں اور اس سلسلے کے انچاسویں امام زمانہؑ کو اپنا حاضر و موجود امام مانتے ہیں۔ اس لیے اسماعیلی تعلیمات میں امام زمانہؑ کا دیدار اسماعیلی مسلمانوں کے لیے روحانی بلندی کا سامان مہیا کرتا ہے۔ اسی جذبے اور یقین کے ساتھ دیدار کے فیوض و برکات سے شرفیاب ہونے کی ضرورت ہے۔

سید آصف جاہ جعفری اپنی کتاب ’’دُنیائے اسلام کا خاموش شہزادہ‘‘ کے صفحہ نمبر پچیس میں امام زمانہؑ کے ساتھ اپنی عقیدت کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں:

’’روشنی چھپتی تو نہیں ہے ناں۔۔۔۔۔۔ کیونکہ میں خود اسماعیلی نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔ مگر میری یہ خواہش ہے کہ کاش! میں اسماعیلی ہوتا۔ یہ حقیقت ہے کہ جو روشنی میرے گھر آتی ہے وہ حاضر امام حضرت شاہ کریم الحسینی علیہ السلام کے وجود کے صدقے میں آتی ہے۔‘‘

سید آصف جاہ جعفری تیرہ مئی انیس سو تراسی کو ہزہائینس کے ساتھ گلگت میں اپنی ایک ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے اپنی اسی کتاب کے صفحہ نمبر ستائیس میں لکھتے ہیں:

’’گلگت کی وادیوں میں قدرت نے مجھے اپنے اس انعام سے نوازا کہ میں نے حاضر امام علیہ السلام کی زیارت کی، اور ان کے دستِ مبارک کو بوسہ دیا۔ ابھی تک میرے ہاتھوں سے اور میرے ہونٹوں سے خوشبوئیں جاتی نہیں۔ اور یہ خوشبو سچائی کی علامت ہے، محبت و یگانگت کی دلیل ہے اور خدا تک جانے والے راستوں کی محافظ ہے، یہی میرا یقین ہے، یہی میرا ایمان ہے اور یہی میرا عقیدہ ہے، یہی وجہ تخلیق ہے۔‘‘

اسی طرح انیس سو ستسٹھ کو پشاور یونیورسٹی کی تقسیمِ اسناد کی تقریب میں آمد پر امامِ زمانہؑ کے حضور جناب مولانا محمود الحسن کوکب تبریزی (پشاوری) نے فارسی زبان میں جو نظم پیش کی تھی۔ وہ اپنی جگہ محبت و عقیدت سے بھرا سچائی کا اظہار ہے۔ مولانا محمود الحسن کوکب دیوانہ وار امامِ زمانہؑ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہتے ہیں؎

اے وارثِ امامتِ دوران خوش آمدی
اے رہنمائے جادۂ ایمان خوش آمدی

اے زمانے کی امامت کا وارث خوش آمدی، اے ایمان کے راستے پر چلنے والوں کا رہنما خوش آمدی۔

اے گوہرِ یگانۂ دریائے معرفت
اے ماہِ بُرج و حجت و برہان خوش آمدی

اے معرفت کے دریا کا واحد موتی، اے حجت و دلیل کے برج کا (روشن) چاند خوش آمدی۔

اے محرمِ رموز نہان خانۂ وجود
دانائے سِر عالمِ امکان خوش آمدی

اے عالمِ موجودات کے چھپے ہوئے بھیدوں کو جاننے والا، اور عالمِ امکان کے راز سے واقف کار خوش آمدی۔

اے یاد گارِ اشرفِ اولادِ فاطمہؑ
اے شمع جمع بزمِ نیاگان خوش آمدی

اے بی بی فاطمہؑ کی اولاد میں سے شریف ترین یادگار، اے گزرے ہوئے تمام بزرگوں کے بزم کی شمع خوش آمدی۔

اے سبط ابنِ جعفرِ صادقؑ امامِ دین
اے شہر یار کشورِ عرفان خوش آمدی

اے دین کا امام جعفر صادقؑ کے بیٹے اسماعیل کا پوتا، اے معرفت کی سلطنت کا بادشاہ خوش آمدی۔

اے روشن از ضیائے قدو مد حریم جان
در بزمِ ما چو شمعِ فروزان خوش آمدی

اے (امام) تیرے قدموں کی روشنی سے دل روح کا مکان روشن ہوا، ہمارے بزم میں روشن چراغ کی طرح خوش آمدی۔

اے نائبِ رسولِ امینؐ پیشوائے دھر
مسند نشین محفلِ ایمان خوش آمدی

اے رسول امینؐ کا جانشین اور زمانے کا پیشوا، اے ایمان کی مجلس میں تخت پر بیٹھنے والا خوش آمدی۔

سطان دین امامِ زمان مقتدائے عصر
اے نورِچشم ملتِ پاکان خوش آمدی

تو دین کا بادشاہ ہے، زمانے کا امام ہے، وقت کا رنہما ہے، اے پاکستانیوں کی آنکھ کا تارا خوش آمدی۔

ہر ذرۂ وطن شدہ پُرنور و پُرضیا
چون مہر ضوفشان و درخشان خوش آمدی

ہمارے وطن کا ہر ذرہ ذرہ پُرنور اور روشن ہوا ہے، چمکنے والا اور روشنی بکھیرنے والا سورج کی طرح خوش آمدی۔

زد جلوہ گاہِ طور پشاور ز مقدمت
اے مظہرِ تجلیٔ یزدان خوش آمدی

تیرے قدم کی بدولت پشاور سے طور کا جلوہ نمودار ہوا، اے خدا کے جلوے کا مظہر خوش آمدی۔

یعقوب وار دیدۂ ما نورِ تازہ یافت
اے یوسفِ عزیزؑ بہ کنعان خوش آمدی

حضرت یعقوبؑ کی طرح ہماری آنکھوں کو ایک نئی روشنی ملی، اے مصر کا یوسفؑ تو کنعان میں خوش آمدی۔

کوکؔب بصد نیاز رسیدہ بخدمتت
شہزادۂ کریم آغا خان خوش آمدی

کوکؔب صد عاجزی کے ساتھ تیری خدمت میں حاضر ہوا ہے، اے شہزادۂ کریم آغا خان خوش آمدی۔

کہتے ہیں روشنی کو کفِ دست میں نہیں چھپایا جاسکتا۔ اس لیے امام زمانہؑ کے احسانات کو دُنیا کی پڑھی لکھی قوم فراموش نہیں کرسکتی۔ کیونکہ وہ مسلمانوں کے لیے بالخصوص اور عالم انسانیت کے لیے بالعموم ایک ایسی روشن اور آفتانی کرن کی حیثیت رکھتے ہیں جہنوں نے اپنے عملی کردار سے پوری دُنیا کے انسانوں کو اپنی محبت سے مسخر کیا ہے۔ تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ آپ کے پیشرو ائمہ علیہم السلام کا مقصد بھی یہی رہا ہے۔ حضرت امام سلطان محمد شاہ صلوات اللہ علیہ (آغا خان سوئم) نے اپنی پوری زندگی جس طرح امت مسلمہ کی فلاح و بہنود کے لیے وقف کی ایک زمانہ اس کا شاہد ہے۔ یہ انہی کی کوششوں اور محنتوں کا ثمر تھا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی قائم ہوئی جس نے جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کی تاریخ بدلنے میں اہم کردار سر انجام دیا۔ ہم جس بھی پہلو سے ہزہائینس اور آپ کے پیشرو اماموں کا جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہوکر سامنے آتی ہے کہ آپ کی زندگی کا اہم مقصد تعلیم کی شمع روشن کرنا ہے۔

گیارہ نومبر انیس سو پچاسی کو آغا خان یونیورسٹی کراچی کا افتتاح کرتے ہوئے اس وقت کے صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب جنرل محمد ضیا الحق نے کہا تھا:

’’ہزہائینس پرنس کریم آغا خان ایک بہت ہی پُرکشش پھول کی مانند ہے، جس میں بہت زیادہ خوشبو ہے اور اس خوشبو کو حاصل کرنے کے لیے کئی شہد کی مکھیاں اس کے گرد منڈلا رہی ہیں۔‘‘

سچ کہا ہے کسی شاعر نے؎

’’کہاں تک سنو گے، کہاں تک سناؤں‘‘

آخری بات!

آئیے ہم اپنے اندرونی و مسلکی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر اشتراکات کو فروغ دیں، ایک دوسرے کو سننے اور برداشت کرنے کی صلاحیت پیدا کریں، تنقید برائے تنقید کے بجائے تنقید برائے اصلاح اور خصوصاً مثبت مکالمہ اور ٹیبل ٹاک کو فروغ دیں، ایک دوسرے کی خوشیوں کو سیلیبریٹ کریں اور ہزہائینس کے حالیہ دورے کے موقع پر ان کی عالم انسانیت و عالم اسلام اور بالخصوص خطۂ جمال و کمال گلگت بلتستان و چترال کے لیے خدمات کو مدِنظر رکھتے ہوئے اتفاق و اتحاد کو برقرار رکھیں۔ آئیے ہم اپنی اس جنت نظیر خطے کو شاد و آباد رکھیں جو سب کے لیے خوشیوں کا چمن ہو کیونکہ مہمانِ عالیجاہ کی بھی یہی منشا ہے۔ آج ہمیں ان کی آمدِ مبارکہ کی خوشی کے موقع پر انہیں بطورِ تحفہ یہاں کا امن پیش کرنا چاہئیے۔

اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین!

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments