چلاس میں عالمی یوم معذور، کھلی کچہریوں کا انعقاد اور دوسرے اقدامات

سید عبدالوحید شاہ ،کمشنر دیامر استور ڈویژن

دیامر استور ڈویژن کے مرکز چلاس میں عالمی یوم معذور منانے کا پہلی بار اہتمام کیا گیا ۔جس میں ایسے جسمانی طورپر معذور افراد کو مدعو کیا گیا تھا جن کے چلنے پھرنے کی قوت معدوم تھی ۔پروگرام کا انعقاد الخدمت فاونڈیشن پاکستان اور محکمہ سماجی بہبود حکومت گلگت بلتستان کے تعاون سے کیا گیا تھا ۔ابتدائی طور پر ۸۷ افراد کو ایسی کرسیاں مہیا کی گئیں جن کی مدد سے وہ با آسانی گھوم پھر سکیں ۔پروگرام کامقصد دراصل عوام الناس اور مخیر حضرات کو آگاہی مہیا کرنا تھا اور ساتھ ہی معذور افراد کی حتی المقدور مدد کرنا تھا ۔دیامر استور ڈویژن کی انتظامیہ اس کار خیر کے لئے الخدمت فاونڈیشن پاکستان اور محکمہ سماجی بہبود گلگت بلتستان کی بہت شکر گذار ہے ۔

عوام الناس کی دہلیز پر ان کے مسائل سننے اور بر موقع حل تلاش کرنے کا سلسلہ بصورت کھلی کچہری جاری ہے۔ گذشتہ دنوں استور کے علاقے میر ملک ،رٹو مر مئی کے علاوہ منی مرگ میں سال ۲۰۱۷ کی آخری کھلی کچہری سجائی گئی( کیونکہ یہ علاقے برف باری کی وجہ سے عرصہ پانچ ماہ کے لئے باقی علاقوں سے منقطع ہو جائیں گے )ایک گونہ اطمینان و فرحت کا احساس ہوا کہ سال کے وسط میں جولائی اگست کے ماہ میں جب پہلی بار ان علاقوں میں ایسی محفلوں کا انعقاد کیا گیا تھا تو مسائل و مشکلات کا انبار لگا ہوا تھا ۔تاہم اب سال کے اختتام تک کم و بیش نوے فیصدی مسائل کا تدارک کیا جا چکا تھا ۔جس کے لئے میں استور و دیامر کی ضلعی انتظامی ٹیم اور تمام محکمہ جات کے افسران و اہلکاران کا ممنون ہوں کہ انہوں نے عوامی مسائل کو اپنے ذاتی مسائل گردانتے ہوئے ہر ممکنہ کوشش کی کہ فوری طور پر ان مسائل و مشکلات پر قابو پا کر عوام کو سہولت دی جائے ۔محکمہ تعلیم ،محکمہ صحت ،محکمہ جنگلات ،محکمہ تعمیرات عامہ ،محکمہ لوکل گورنمنٹ ،محکمہ خوراک ،محکمہ حیوانات ،محکمہ سیاحت ،میونسپل کمیٹی ،محکمہ ماہی پروری ، محکمہ پانی و بجلی اور دیگر تمام ضلعی و ڈویژنل سطح کے محکمہ جات نے گذشتہ چار مہینوں سے ہنگامی بنیادوں پر کام کرتے ہوئے دیامر استور ڈویژن کو بہتری کی راہ پر گامزن کرنے کی ایک سعی کی ہے ۔جس میں ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے ۔تاہم یہ امر قابل تسلی و تشفی ہے کہ محکمہ جات کے حکام نے اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے بالآخر بار گراں اپنے کندہوں پر اٹھا لیا ہے جو کہ خوش آئند ہے ۔

اسی سلسلے کی کڑیوں سے ایک کڑی جوڑتے ہوئے گذشتہ کل دیامر کے علاقے ڈڈشال میں ایک کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا ۔عوام الناس کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ایسے پسماندہ علاقہ میں سرکاری اہلکاران کا اگرچہ جانا مشکل امر ہوتا ہے تاہم عوامی مطالبہ و خلو ص اور علاقہ کی پسماندگی و کم مائیگی کو مد نظر رکھتے ہوئے قلق ہوا کہ بہت دیر کی مہرباں آتے آتے ۔مسائل کی فہرست اگرچہ اتنی طویل تو نہ تھی تاہم سرکاری اہلکاران کا بتسلسل علاقہ کا دورہ ناگزیر ہے ۔چنانچہ طے پایا کہ حسب سابق اور حسب روایت کھلی کچہری ،یہاں بھی مختصر عرصہ بعد ہی دوبارہ دورہ کر کے آج کی محفل میں اٹھائے گئے مسائل کے حل کے لئے کی گئی کوششوں کا جائزہ لیا جائے گا ۔یہ نسخہ انتظامی روایات میں بہت مفید کارگر اور آزمودہ رہا ہے ۔چنانچہ اکثر اوقات دوسرے یا تیسرے دورے یا کھلی کچہری میں ہی بہت سے مسائل کا تصفیہ ہو جاتا ہے جو کہ ذرا سی انتظامی توجہ کے طلبگار ہوتے ہیں ۔

عوامی اجتماعی شعور کو اجاگر کرنے اور انہیں اپنے مسائل کی پرکھ کرنے ان سے نمٹنے اور ان کے حل کی خاطر مناسب فورم سے رجوع کرنے کے لئے ایسی کھلی کچہریوں کا انعقاد نعمت بے بدل ہے ۔افسران اور عوام کے باہمی فاصلے کو ختم کرنے اور عوام کے ریاستی و حکومتی اداروں پر اعتماد کو بڑھاوا دینے کے لئے ایسے بالمشافہ پروگرامات کا مرتب کرنا از حد ناگزیر ہے ۔ساتھ ہی افسران کے اندر یہ احساس بھی پیدا ہوتا ہے کہ عوام الناس کن پر مشقت راستوں سے اور کس قدر دقت سے دفاتر تک رسائی پاتے ہیں لہٰذا ان کی داد رسی اور فریاد کو سنے بغیر محض میٹنگ کا بہانہ بنا کر کسی صورت بھی ٹالنا نا مناسب ہے ۔احساس ذمہ داری سول سروس کی بنیاد ہے اور اسے باقی تمام شعبہ ہائے زندگی سے منفرد بھی کرتی ہے ۔ایک انتظامی افسر ہمہ وقت خدمت خلق پر مامور و متعین ہے اس کے آرام و آسائش کا اختیار مخلوق خدا کے ہاتھ ہے ۔چنانچہ طے شدہ ہے کہ ہر کہ خدمت کرد مخدوم شد ۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments