شکر یہ شہباز شریف

رشید ارشد

قوم کی خدمت اور شہباز شریف ،ان دو الفاظ کا چولی دامن کا ساتھ ہے ،شہباز شریف کا شمار بہترین منتظمین اور عوامی خدمت گاروں میں ہوتا ہے ،ان کے شدید ترین سیاسی مخالفین بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہیں کہ ان کی عوامی خدمت کے جذبے کو ئی نہیں پہنچ سکتا ہے ،پنجاب میں ترقی کا پہیہ شہباز شریف کے دم سے ہی رواں دواں ہے ۔خدمت کا جذبہ سرحدوں یا دائروں کا محتاج نہیں ہوتا ،شرط ہے کہ جذبہ خالص ہو ،جہاں سے کسی مفاد کی توقع نہ ہو اور خدمت کا دائرہ اس سطح تک پہنچے تو یقین کریں کہ خدمت کرنے والا حقیقی معنوں میں خادم اعلی ہے ،گلگت بلتستان میں پنجاب کے وزیر اعلی کا کوئی ایسا مفاد نہیں کہ اپنے صوبے کے بجٹ سے گلگت بلتستان کیلئے خرچ کریں لیکن آفریں ہو پنجاب کے وزیر اعلی میاں شہباز شریف کو کہ انہوں نے گلگت بلتستان میں شیر گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کی درخواست اور محنت پر خدمت کے ریکارڑ قائم کر کے گلگت بلتستان کے عوام کے دل جیت لئے ،گلگت بلتستان کے عوام اپنی روایات کے مطابق اپنے محسنوں کو کھبی فراموش نہیں کرتے ،سو میاں شہباز شریف کو گلگت بلتستان کے محسن کا درجہ حاصل ہو چکا ہے اور ہمیشہ خادم اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کی خدمات کو یاد رکھتے ہوئے انہیں سلام محبت پیش کرتے رہیں گے۔بنجاب کے وزیر اعلی میاں شہباز شریف نے گلگت بلتستان کے لئے جس محبت اور خلوص کا عملی مظاہرہ کیا ہے اس کی اور مثال نہیں مل سکتی،صحت کا شعبہ ہو ،تعلیم کا شعبہ ہو یا دیگر شعبے ہوں شہباز شریف گلگت بلتستان میں اربوں روپے خرچ کر رہے ہیں ۔گلگت بلتستان کے عوام ایک میڈیکل ٹیسٹ کیلئے ملک کے دوسرے شہروں کا رخ کرتے تھے ،شہباز شریف نے گلگت بلتستان کیلئے آیم آر آئی مشین فراہم کی جس کی تنصیب کے بعد باقاعدہ افتتاح بھی ہو چکا ہے ،گلگت بلتستان میں سیف الرحمن شہید 141چار سو بیڈ ہسپتال بھی پنجاب حکومت کے تعاون سے بن رہا ہے ، ہسپتال کیلئے ایک ارب روپے کی خطیر رقم بھی مل چکی ہے ۔پنجاب حکومت نے گلگت بلتستان میں صحت کے شعبے میں عوام کیلئے آسانیاں فراہم کرنے کیلئے چالیس جدید ایکسرے مشینیں اور اس کے علاوہ ڈائیلاسسز مشینیں فراہم کر دیں ہیں ،اب گلگت بلتستان کے کڈنی کے مریضوں کو ڈائیلاسسز کیلئے گلگت یا ملک کے دوسرے شہروں کا سفر طے کرنے کے بجائے اپنے اپنے ضلعی ہسپتالوں میں سہولت حاصل ہوگی،پنجاب حکومت ہر سال گلگت بلتستان کے ہسپتالوں کیلئے مفت دس کروڑ کی ادویات فراہم کر رہی ہے ۔اسی طرح گلگت بلتستان کے 80میڈیکل کے طلبا کو پنجاب کے میڈیکل کالجوں میں اپنے خرچے سے پڑھا رہی ہے ،اس کے علاوہ مختلف شعبوں کی کالجز او یونیورسٹیوں میں پنجاب حکومت گلگت بلتستان کے 400 طلبا کے تعلیمی اخراجات برداشت کر رہی ہے ۔اسی طرح پنجاب حکومت ہر شعبے کی ترقی اور گلگت بلتستان کے عوام کے دکھ درد میں شریک ہے ہر مشکل گھڑی میں پنجاب حکومت گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے ،گلگت بلتستان کے سرکاری اداروں کی استعداد کاربڑھانے کیلئے پنجاب حکومت گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ مل کر بہت سے اہم منصوبوں میں مدد کر رہی ہیں ،یہ چند جھلکیاں میں نے پیش کیں ہیں میاں شہباز شریف اور پنجاب حکومت کے تمام احسانات کا تذکرہ کرنے کیلئے بہت سا وقت اور بہت سے صحفے درکار ہوں گے ان چند احسانات کے تذکرہ کے بعد گلگت بلتستان کے عوام کی طرف سے یہی کہہ سکتے ہیں کہ شکریہ شہباز شریف آپ کی گلگت بلتستان سے محبتوں کا،،اللہ سندھ اور کے پی کے کے حکمرانوں کو بھی ہدایت دے کہ وہ گلگت بلتستان کی عوام کے لئے کوئی خدمت تو درکنار کم سے کم مخالفت کرنا چھوڑ دیں اور گلگت بلتستان کے ،بے انصافیوں ،اور جیالوں کو سمجھ عطا کرے کہ وہ حکومت کی بے جا مخالفت کرنے کیلئے ،بے سری قوالیاں کرنے کے بجائے حقیقت جان کر جئیں. گلگت بلتستان کے ترقی کے سفر میں حکومت کا ساتھ نہیں دے سکتے تو مشکلات پیدا نہ کریں ۔

گلگت بلتستان میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے بنتے ہی ،جیالوں ،،اور بے انصافیوں ،کا سیاسی ہاضمہ کچھ ایسا خراب ہوا کہ ڈھائی برس گزر گئے لیکن ان کی سیاسی الٹیاں رکنے کا نام نہیں لے رہی ہیں ،اب تو عوام بھی ان سیاسی الٹیوں سے عاجز آچکے ہیں اور ان کے جھوٹ پر توجہ نہیں دیتے اور حکومت بھی اپنے وعدوں کی تکمیل کے کام میں مگن ہے ،حکومت اپنا کام کر رہی ہے اور سیاسی مداری اپنی ڈگڈگی بجا رہے ہیں ، سیاسی مداریوں سے ایک سوال توبنتا ہے وہ یہ ہے کہ موجودہ ن لیگ کی حکومت کے خلاف بے سری اور بے وزن قوالیاں تو کر رہے ہو لیکن کیان لیگ کی عوامی خدمت کا مقابلہ بھی کر سکتے ہو ،ماضی میں پی پی کے جیالوں کو گلگت بلتستان میں حکومت ملی تھی اس وقت مرکز میں بھی اور سندھ میں بھی پی پی کی حکومت تھی آج بھی سندھ میں پی پی کی حکومت ہے اس دور میں گلگت بلتستان میں سوائے نوکریوں کی فروخت کی ریڑھیاں لگانے اور کرپشن کے گلگت بلتستان میں اگر کوئی کام ہوا ہے تو بتایا جائے تا کہ عوام کے سیاسی علم میں اضافہ ہو ،ماضی کو چھوڑیں اب بھی پی پی اور ،،بے انصافیوں ،،کی سندھ اور کے پی کے کی حکومتیں ،گلگت بلتستان کی ترقی میں رکاوٹیں پیدا کر رہی ہیں ،این ایف سی میں گلگت بلتستان کو شامل اور حصہ دینے کیلئے پنجاب اور بلوچستان کی حکومتیں تیار ہیں ،کے پی کے اور سندھ کی حکومتیں ڈت کر مخالفت کر رہی ہیں اب گلگت بلتستان میں عوام کے خیر خوا بننے اور ن لیگ کی حکومت کے خلاف بے سری قوالیاں کرنے والے ،سیاسی مداری ،سندھ اور کے پی کے کی اپنی اپنی حکومتوں کو قائل کیوں نہیں کراتے کہ یہ مخالفت ترک کریں ۔خیر ماضی میں بھی کوئی ایسی مثال دے دیں ہمیں کہ پی پی کے دور حکومت میں کسی صوبے نے اپنے بجٹ سے کاٹ کر رقم گلگت بلتستان کو دی ہو ،یہ تو شیر گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کا سیاسی ویثرن اور سیاسی فراست ہے کہ مرکز سے گلگت بلتستان کا بجٹ ڈبل کرانے میں کامیاب ہوئے لیکن پنجاب کو بھی گلگت بلتستان کی ترقی میں مدد گار بنایا ،،،گلگت بلتستان میں ہر چوک پر ،مجمع اکھٹا کر کے ،سیاسی قوالیاں کرنے والے سیاسی قوالوں سے عوام سوال کرتے ہیں کہ اپنے دور حکومت کی کوئی مثال تو دو کہ کسی صوبے نے گلگت بلتستان میں اتنی خدمت کی ہو جتنی آج پنجاب کر رہا ہے ،اسے کہتے ہیں رہنما ،اسے کہتے ہیں قوم کے مسیحا کہ حفیظ الرحمن نے گلگت بلتستان کوترقی کی نئی سمتوں سے ایسے آشنا کرایکہ دوسرے صوبے بھی ان کا قومی خدمت کا جزبہ دیکھ کر گلگت بلتستان کی ترقی میں حصہ ڈال رہے ہیں ،حرف آخر ،،پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے دوستوں کیلئے مشورہ کہ آپ گلگت بلتستان کے عوام کی مشکلات دور کرنا چاہتے ہیں تو حکومت کے ہر اس فیصلے کی مخالفت کریں جس سے عوام کیلئے کوئی مشکل پیش آرہی ہو اور خدا را ،کھبی کھبی اپنی اداؤں پر بھی غور کریں کہ کہیں آپ سیاسی مخالفت کے جذباتی سمندر میں بہہ کر عوام کے مفادات کے خلاف تو نہیں جا رہے ہیں ،خیر سب اس دھرتی کے بیٹے ہیں حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں سب گلگت بلتستان سے اور پاکستان سے پیار کرتے ہیں ،عرض صرف یہ کرنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے گلگت بلتستان کے رہنما کے پی کے اور سندھ کی حکومتوں کو قائل کرائیں کہ این ایف سی ایوارڑ میں گلگت بلتستان کی مخالفت ترک کر کے حمایت کریں تو پھر ہم بھی آپ کے ساتھ مل کر ،زندہ ہے بھٹو ،اور آئی آئی تبدیلی کے گونج دار نعرے لگائیں گے ،اگر ایسا نہیں کر سکتے تو معذرت کے ساتھ عوام اب نعروں اورجلسوں میں ٹھمکے اور جدید ڈانس سے متاثر نہیں ہوتے ،عوامی عملی خدمت اور عملی کام دیکھنا چاہتے ہیں ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments