سکردو : 4 سال گزر گئے نہ ملازمت دی نہ زمین کا معاوضہ دیا، متاثرین کا سرمیک پاور فیز تھری بند کرنےکی دھمکی

سکردو ( رجب علی قمر ) 4 سال گزر گئے نہ ملازمت دی نہ زمین کا معاوضہ دیامتاثرین کا سرمیک پاور فیز تھری بند کرنے کا اعلان ،سکردو شہر کی آدھی آبادی تاریکی میں ڈوب جانے کا خطرہ پید ا ہوگئی ہے 2014 سے اب تک 32 عارضی ملازمین فری سروس کام کررہے ہیں جبکہ لینڈ ڈونر اور آاپاشی و درختان متاثرین کو بھی تاحال ایک پیسہ معاوضہ ادا نہ ہوسکا متاثرین نے چیف انجینئر برقیات سکرد واور کو پاور ہاؤس بند کرنے کی تحریری لیٹر جاری کردیا تفصیلات کے مطابق سکردو کے نواحی علاقے سرمیک میں واقع فیز تھری بجلی گھر جس کی سپلائی سکردو شہر کی آدھی آبادی کے لئے دی جارہی ہے جسے ملازمین اور دیگر متاثرین نے بند کرنے کی ڈیڈ لائن دے دی ہے سرمیک فیز تھری کے 32 عارضی ملازمین بھی اب تک تنخواہوں اور مراعات سے یکسر محروم ہے جبکہ لینڈ ڈونر ،زرعی آبپاشی کے متاثرین اور درختان متاثرین بھی سرکاری معاوضے سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں 4 سال پہلے چالو کئے گئے پاور ہاؤس کی جنریشن محکمہ برقیات سکرد وکے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے متاثرین کی پاور ہاوس کو بند کرنے سے سکردو شہر کی آدھی آبادی تاریکی میں ڈوب جائے گی سرمیک فیز تھری کی بجلی آغا ہادی چوک سکردو تک صارفین کے لئے فراہم کر رکھی ہے اس سلسلے میں متاثرین نے پہلے مرحلے میں چیف انجینئر محکمہ برقیات سکردو کو باقاعدہ تحریری درخواست لکھی گئی ہے جو کہ جواب نہ آنے کی صور ت میں سرمیک فیز تھری کو بند کیا جارہا ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments