خصوصی صوبہ سراسر ڈھونگ اور دھوکہ ہے، ٹیکسوں کے جال میں پھنسانے کی چال ہے۔ سعدیہ دانش

استور(شمس الرحمن شمس) پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کی صوبائی سکریٹری اطلاعات سعدیہ دانش نے کہا ہے کہ خصوصی صوبہ سراسر ڈھونگ اور دھوکہ ہے۔ نامعقول طرز کا صوبہ دراصل ٹیکسوں کے جال میں پھنسانے کی چال ہے۔ تاہم ہمیں نہیں لگتا کہ نواز لیگ کی وفاقی حکومت اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ کر پائے گی۔گلگت بلتستان کو باقاعدہ آئینی صوبہ بنایا جائے یا پھر متنازعہ حیثیت کو تسلیم کیا جائے اس کے علاوہ کوئی اور سٹیٹس یہاں کے عوام کے لئے ہرگز قابل قبول نہیں۔ نواز لیگ نت نئے ڈرامے رچا کر گلگت بلتستان کے عوام کا مذاق اڑا رہی ہے۔ لولے لنگڑے سیٹ اپ کو یکسر مسترد کر دیا جائے گا۔ گلگت بلتستان کے عوام کی امنگوں کا احترام کیا جائے۔ حفیظ سرکار کی ٹرخاو پالیسی بری طرح سے ناکام ہو چکی ہے۔صوبائی حکومت کی شعبدہ بازی کے سارے پتے ناکام ہو چکے۔غیر منطقی طرز کا کوئی بھی سٹیٹس کھودا پہاڑ نکلا چوہا کے مصداق ہوگا۔اس حوالے سے وزیر اعلی اور وزراء کے بیانات ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور والی مثال ہے۔آئینی کمیٹی کی جانب سے فیصلے میں تاخیر سے نواز لیگ کی وفاقی حکومت کے عزائم کا اظہار ہوتا ہے۔جو حکومت ایک نااہل اور بدعنوان شخص کو اپنا قائد تسلیم کرتی ہے اور اس کی مشاورت سے چلتی ہے اس سے کسی بھی خیر کی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔ نواز لیگ کی مرکزی اور صوبائی حکومت نے گلگت بلتستان کے عوام کو جھوٹ،دھوکہ دہی اور فریب کے سوا کچھ نہیں دیا اور کرپشن اور اقربا پروری کے عالمی ریکارڈ قائم کئے ہیں۔ حفیظ سرکار نے جان بوجھ کر گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کا سنہری موقع ضائع کررہی ہے۔گلگت بلتستان کو اب تک جتنے بھی آئینی پیکیج ملے ہیں اور آئینی اصلاحات ہوئی ہیں وہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے کی ہیں۔اور یہ پیپلزپارٹی کے قائدین کا اس علاقے کے عوام کے ساتھ دلی لگاو اور ہمدردی کا دوٹوک اور ناقابل تردید ثبوت ہے اور پیپلز پارٹی کے دئے ہوئے موجودہ سیٹ اپ کی وجہ سے ہی باقاعدہ آئینی حقوق کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔اور انشاءاللہ گلگت بلتستان کو باقاعدہ آئینی حقوق بھی پیپلزپارٹی کے نوجوان قائد بلاول بھٹو کے ہاتھوں ہی نصیب ہونگے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments