اتنی سی بچی اور اتنا سارا کھانا

تحریر: ذیشان مہدی

کے جی کلاس کی 5 سالہ ایمان فاطمہ گھر سے سکول کےلئے نکلتی ہے تو 9 افراد (بچوں) کا کھانا ساتھ لیکر نکلتی ہے ۔ ۔ ۔ اتنی سی بچی اور اتنا سارا کھانا ؟

والدین اس کام میں اس کا ہاتھ بٹاتی ہے، اس کا سکول بیگ اور کھانے کی اشیا گاڑی میں رکھتے ہیں اور صحت و سلامتی کی دعا دیکر مڑ جاتے ہیں ، ایمان کو سکول پہنچنے کی بڑی جلدی ہوتی ہے کیونکہ اس نے امی سے کچھ نیا (نئی ڈش) بنوایا ہوتا ہے ، کچھ مزیدار ، چٹپٹہ مگر صحت بخش . . . بریک ٹائم پر وہ کھانا نکالتی ہے اور 8 بچوں میں تقسیم کرتی ہے، یہ 8 بچے اس کے کلاس فیلوز ہیں جو یتیم ہیں اور دور افتادہ علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں ، چنانچہ سوئٹس ہوم میں رہنے پر مجبور ہیں ۔ ۔ ۔ سب بچوں میں کھانا تقسیم کرنے کے بعد اپنا لنچ بکس کھولتی ہے اور ساتھ بیٹھ کر کھانے لگتی ہے . . . . اس منظر کو دیکھنے والا ایمان کے جذبہ انسانیت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ۔ ۔ سکول (دی ایجوکیٹرز) کے آرنر غازی ارکان صاحب بارہا اس منظر سے اپنا ایمان تازہ کرتے رہتے ہیں، سکول کے سٹاف/ٹیچرز کو بھی اس بچی کو دیکھ کر فخر کا احساس ہوتا ہے ۔ ۔ اس معاشرے کے حصہ دار کی حیثیت سے ہمیں بھی اس بات پر دلی مسرت ہوتی ہے چنانچہ ہم ایمان اور اس کے والدین کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ وہ ایک مثالی معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار بخوبی نبھا رہے ہیں ۔ ۔ ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments