شندور میلہ

تحریر محمدایوب

شندور ضلع غذر کے حسین وادی پھنڈر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر برف پوش پہاڑوں کے دامن میں سطح سمندر سے بارہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے اس کو دنیا کا چھت بھی کہا جاتا ہے شندور کا یہ علاقہ سرسبز میدانوں ، ندی نالوں اور خوبصورت پہاڑوں پر مشتمل زمین کا ایک ٹکڑا ہے یہ قدرت کی طرف سے یہاں کے باسیوں کے لئے ایک عظیم تحفہ بھی ہے ۔ شندور جھیل کے بغیر شاید اس کی خوبصورتی نامکمل تھی اس جھیل کا نظارہ کرتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی آئینہ ہو جو چاروں طرف سے شندور کی حسن کی اپنے اندر قید کرکے رکھا ہے ۔شندور کا یہ خوبصورت علاقہ غذر کا ہے یا چترال کا یہ ایک الگ بحث ہے اس پر پھر کبھی بات ہوگی۔

اگر ہم شندور پولو گرونڈ کی تعمیر اور وہاں پر کھیلا جانے والا اس منفرد پولو کھیل کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے یہ پولو گرونڈ اس وقت کے شمالی علاقوں کے لئے برطانوی ایڈمنسٹریٹر میجر کاب نے نیت قبول حیات کاکا خیل جو اس وقت کے نمبر دار اعلی تھے ان کا تعلق غذر کے گاوں گلاغمولی سے تھا کو حکم دیا کہ شندور کے مقام پر پولوگرونڈ تعمیر کیا جائے۔ جس پر کاکا خیل صاحب نے مقامی لوگوں کی مدد سے ایک خوبصورت گرونڈ تعمیر کروایا۔ اس گرونڈ کا نام مس جنالی رکھا گیا یہ نام مقامی زبان کہوار میں رکھا گیا ہے اس کا مطلب مس ً  یعنی چاند اورجنالیً  یعنی گراونڈ۔

اس گراونڈ کی تعمیر پر میجر کاب بہت خوش تھے انہوں نے کاکا خیل صاحب کو اس کے بدلے میں انعامات دینے کا اعلان کیا جس پر کاکا خیل صاحب نے میجر کاب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انعامات لینے سے انکار کردیا اور میجر کاب سے گزارش  کی کہ اس خدمت کے بدلے اگر  کچھ دینا چاہتے ہیں تو دریائے پھنڈر میں ٹراوٹ مچھلی منگواکر ڈلوادیا جائے جس پر میجر کاب نے انگلینڈ سے دنیا کی نایاب مچھلی ٹراوٹ منگوایا اور دریائے غذر میں ڈلوایا ۔ میں کاکا خیل صاحب کی سوچ ، ان کی دور اندیشی اور علاقے کےساتھ اس کی خلوص کو سلام پیش کرتا ہوں آج اس ٹراوٹ مچھلی کے لئے ہی لوگ غذر کا رخ کرتے ہیں اور سینکڑوں لوگوں کا زریعہ روزگار بھی ہے ۔

قارئین  شندور میں پولو کھیل کا باقاعدہ آغاز انیس سو پینتیس میں ہوا ،اس پہلے مقابلے کو گلگت نے اپنے نام کیا اس کے آٹھ سالوں بعد پھر شندور میں چترال اور گلگت کا سامنا ہوا اس بار بھی چترال کو شکست ہوئی یہ مقابلہ پونیال کے راجہ انور خان کی سرکردگی میں ہوئی تھی ۔انیس سو اٹھاسٹ میں یہ مقابلہ شندور کے بجائے پھنڈر میں کھیلا گیا اس میچ میں گلگت نے چترال کو چھ کے مقابلے میں نو گول سے شکست دی۔ تاہم، گزشتہ کافی سالوں سے گلگت کی ٹیم مسلسل شکست سے دوچار ہے۔

اس مقابلے کے دوران گرونڈ کے ایک طرف عوام چترال اور دوسری طرف گلگت کی عوام پورے جوش اور جذبے کے ساتھ اپنے اپنے ٹیموں  کو سپورٹ کرتے  ہیں  پچھلے کہی سالوں سےشندور میلہ سالانہ منعقد کیا جاتا ہے اور یہ ہر سال جولائی یا اگست کے مہینےکی سات تاریخ سے شروع ہوجاتا ہے اور نو تاریخ کو فائنل میچ کے ساتھ اختتام پذیر ہاجاتا ہے ۔اس سال یہ میلا چھ جولائی کو شروع ہوگا اور آٹھ جولائی کا اختتام ہوگا ۔شندور میلے کو جب میڈیا نے کوریج دینا شروع کردی تو پاکستان سمیت دنیا بھر سے لوگوں نے آنا شروع کردیا ۔ان تین دنوں میں پوری دنیا سے لوگ جو کھیلوں کے بادشاہ اور بادشاہوں کے اس کھیل کو دیکھنے کے لئے ہزراوں کی تعداد میں شندور کا رخ کرتے ہیں اس دوران شندور کے اس پر فضا اور خاموش علاقے میں خیموں کا ایک شہر آباد ہوتا ہے جہاں دنیا کے مختلف زبان بولنے والے اور مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ تین دنوں کے لئے آباد ہوتے ہیں ۔شندور کا یہ خوبصورت میلہ جہاں لوگوں کو سیروتفریح کا موقع فراہم کرتا ہے وہاں مقامی لوگوں کو روزگار کا موقع بھی فراہم کرتا ہے اس دوران گلگت غذر اور چترال کے مقامی لوگ کاروبار کی غرض سے بھی شندور کا رخ کرتے ہیں ،نئے آنے والے سیاح اسلام آباد سے بذریعہ جہاز یا پبلک ٹرانسپورٹ گلگت اور چترال دونوں طرف سے شندور پہنچ سکتے ہیں اگر گلگت کے راستے آتے ہیں تو زمینی سفر چترال کی نسبت آرام دہ اور آسان رہے گا،گلگت سے شندور تک کا سفر بہت خوبصورت ہے دریائے غذر کے ساتھ ساتھ گاڑی چلتی ہے تو گلیشئر کے پانی ٹھنڈی ہوا دیتا ہے اس کے ساتھ چھوٹے چھوٹے حسین وادیاں آپ کو خوش آمدید کہتی ہیں ،بلند و بانگ پہاڑوں کے دامن میں سرسبز وشاداب وادیاں ندی ،نالے اور دریا یہ سب انسان کو قدرت کے قریب ہونے کا احساس دلاتی ہے ۔شندور آتے ہوئے آپ کے پاس ضروری ادوہات ہونی چاہئے جس میں سر درد پیٹ میں درد اور اگر کسی کوئی بلندی پر جاتے ہوئے کسی قسم کا مسلہ در پیش ہے تو ڈاکٹر کے مشورے پر دوائی اپنے ساتھ رکھے ان کے علاوہ آپ کے پاس; خیمہ ،گرم کپڑے ،چھتری،جلد کو محفوظ کرنے والی کریم ،کالے چشمے ،ٹارچa ساتھ روز مرہ ضروریات زندگی لاسکتے ہیں یہاں میں گلگت غذر اور چترال کے ہوٹل مالکان ۔۔۔ جاری ہے

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments