کوئٹہ سانحے کے بعد گلگت میں اقلیتی برادریوں کے عبادت خانوں کی حفاظتی انتظامات سخت کر دئے گئے

گلگت (پ۔ر) کوئٹہ سانحے کے بعد ملک بھر کی طرح گلگت میں بھی اقلیتی عبادت خانوں کی حفاظتی انتظامات سخت کر دئے گئے۔ اس سلسلے میں مقامی انتظامیہ نے سکیورٹی کے فل پروف انتظامات کر رکھے ہے۔

تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر /ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گلگت کیپٹن (ر) سمیع اللہ فاروق نے کہا کہ بلوچستان میں عبادت خانوں میں دہشت گردی کے بعد صوبائی حکومت کے ہدایات پر گلگت ضلع کے اندر تما م مذہبی عبادت خانو ں کی ترجیجی بنیادوں پر حفاظتی انتظامات کئے جارہے ہیں۔ اس سلسلے میں مسیحی گرجاگھروں سمیت احمدی عبادت خانے کی حفاظتی انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا۔

سوموار کے صبح ڈپٹی کمشنر /ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کیپٹن (ر ) سمیع اللہ فاروق نے اسسٹنٹ کمشنر /سب ڈویژنل مجسٹریٹ گلگت حسین احمد رضاکے ہمراہ جماعت خانہ بازار میں احمدی عبادت خانہ اور جوٹیال میں مسیحی برادی کے گرجاگھر کے دورے کے موقع پر انتظامیہ عبادت خانوں کے ذمہ داروں سے بات چیت کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت پرامن علاقہ ہے یہاں پر ملک دشمن دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں۔ عوام اور کمیونٹی کے تعاون سے دہشت گردوں کے ناپاک عزائم خاک میں ملائیں گے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے اسسٹنٹ کمشنر کو ہدیات دیں کہ وہ روزانہ کی بنیادوں پر عبادت خانوں کی سکیورٹی کا جائزہ لیں اور پل پل کی صورتحال سے باخبر رکھیں تاکہ مسجدوں،امام بارگاہوں ،جماعت خانوں،گرجا گھروں اور احمدی فرقے سے تعلق رکھنے والے عبادت خانوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے ۔

بعد ازاں اسسٹنٹ کمشنر گلگت نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اٹھائے جانے والے سکیورٹی انتظات کے حوالہ سے آگاہ کیا اور انہیں سکیورٹی جامع پلان سے آگاہ کیا ۔ڈپٹی کمشنر نے اطیمنان کا اظہار کرتے ہوئے حفاظتی انتظامات میں مزید بہتری کیلئے احکامات جاری کئے۔۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments